میٹرک بورڈ منظوری کے بغیرفیسوں میںاضافے کے فیصلے پرعملدرآمد
بورڈ آف گورنرزکے فیصلے کے تحت نئی فیسیں ہی لی جائیں گی، چیئرمین میٹرک بورڈ
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی جانب سے منظوری نہ دئیے جانے کے باوجود بورڈ انتظامیہ نے 3 ستمبر سے ضمنی امتحانات کے امتحانی فارم 10فیصد اضافے کے ساتھ 40 روپے کے فروخت کرنے کافیصلہ کیا ہے۔ فوٹو: فائل
ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے بورڈ کی کنٹرولنگ اتھارٹی وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے فیسوں میں 10فیصد اضافے کے فیصلے کی منظوری کے بغیر ہی ضمنی امتحانات کی اضافی فیس وصول کرنے کافیصلہ کیا ہے۔
ایکسپریس کوثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے آڈٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک افسر نے بتایاکہ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کی جانب سے تمام اقسام کے فارم اورفیسوں میں 10فیصد اضافے کے بورڈ آف گورنرزکے کیے گئے فیصلے کی تاحال وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی جانب سے منظوری نہیں دی گئی ہے اوراس اجلاس کی رودادمنظورنہ ہونے کے باوجود بورڈ انتظامیہ نے 3 ستمبر سے ضمنی امتحانات کے امتحانی فارم 10فیصد اضافے کے ساتھ 40 روپے کے فروخت کرنے کافیصلہ کیا ہے جبکہ اضافے کی منظوری نہ ہونے کی صورت میں امتحانی فارم کی قیمت 35 روپے مقررہے۔
مزیدبراں بورڈکے انتظامی فیصلے کے مطابق ضمنی امتحانات کی فیس بھی 10فیصد اضافے کے ساتھ جنرل اورسائنس گروپ کیلیے 650روپے سے بڑھاکر 710روپے اوردونوں پارٹ کی 750روپے سے بڑھاکر 810روپے وصول کی جائیگی، اسی طرح پرائیویٹ امیدواروں سے کسی ایک پارٹ کی فیس 880روپے سے بڑھاکر960روپے اوردونوں پارٹ کی فیس 975روپے سے بڑھاکر1055روپے وصول کی جائے گی۔
متعلقہ افسرنے ''ایکسپریس''کومزیدبتایاکہ ضرورت کے باوجودچیئرمین بورڈ کی جانب سے تاحال نئے امتحانی فارم چھپوانے کی منظوری نہیں دی گئی ہے اورچونکہ بورڈکے امتحانی فارم پرپرانی قیمت درج ہے لہذا 3ستمبرسے قبل امتحانی فارمز پرنئی قیمتیں بھی تحریر کی جارہی ہیں اورپرانے چھاپے گئے فارمز کونئی قیمتوں کے ساتھ فروخت کرنے کی تیاری کی جارہی ہے، ''ایکسپریس''نے جب چیئرمین بورڈ فصیح الدین خان سے رابطہ کیا توان کاکہناتھاکہ ذرائع ابلاغ کااس معاملے سے کیا تعلق ہے تاہم استفسارپران کاکہناتھاکہ بورڈ آف گورنرزکے فیصلے کے تحت نئی فیسیں ہی لی جائیں گی۔
ایکسپریس کوثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے آڈٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک افسر نے بتایاکہ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کی جانب سے تمام اقسام کے فارم اورفیسوں میں 10فیصد اضافے کے بورڈ آف گورنرزکے کیے گئے فیصلے کی تاحال وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی جانب سے منظوری نہیں دی گئی ہے اوراس اجلاس کی رودادمنظورنہ ہونے کے باوجود بورڈ انتظامیہ نے 3 ستمبر سے ضمنی امتحانات کے امتحانی فارم 10فیصد اضافے کے ساتھ 40 روپے کے فروخت کرنے کافیصلہ کیا ہے جبکہ اضافے کی منظوری نہ ہونے کی صورت میں امتحانی فارم کی قیمت 35 روپے مقررہے۔
مزیدبراں بورڈکے انتظامی فیصلے کے مطابق ضمنی امتحانات کی فیس بھی 10فیصد اضافے کے ساتھ جنرل اورسائنس گروپ کیلیے 650روپے سے بڑھاکر 710روپے اوردونوں پارٹ کی 750روپے سے بڑھاکر 810روپے وصول کی جائیگی، اسی طرح پرائیویٹ امیدواروں سے کسی ایک پارٹ کی فیس 880روپے سے بڑھاکر960روپے اوردونوں پارٹ کی فیس 975روپے سے بڑھاکر1055روپے وصول کی جائے گی۔
متعلقہ افسرنے ''ایکسپریس''کومزیدبتایاکہ ضرورت کے باوجودچیئرمین بورڈ کی جانب سے تاحال نئے امتحانی فارم چھپوانے کی منظوری نہیں دی گئی ہے اورچونکہ بورڈکے امتحانی فارم پرپرانی قیمت درج ہے لہذا 3ستمبرسے قبل امتحانی فارمز پرنئی قیمتیں بھی تحریر کی جارہی ہیں اورپرانے چھاپے گئے فارمز کونئی قیمتوں کے ساتھ فروخت کرنے کی تیاری کی جارہی ہے، ''ایکسپریس''نے جب چیئرمین بورڈ فصیح الدین خان سے رابطہ کیا توان کاکہناتھاکہ ذرائع ابلاغ کااس معاملے سے کیا تعلق ہے تاہم استفسارپران کاکہناتھاکہ بورڈ آف گورنرزکے فیصلے کے تحت نئی فیسیں ہی لی جائیں گی۔