حکومت نے پی ایف ایف پر ایڈ ہاک لگانے کا عندیہ دیدیا
42 سال میں پہلی مرتبہ عالمی کپ میں شرکت سے محرومی قومی المیہ ہے، سوا ارب روپے حاصل کرنے والی فیڈریشن کے۔۔۔، پیرزادہ
ہاکی کو بچانے کیلیے سرکاری سطح پرا قدامات نہ کیے گئے تو وزیر اعظم ہاؤس کا گھیراؤ کرکے دھرنا دیا جائے گا، وفاقی وزیر سے ملاقات میں اولمپئنز کی دھمکی۔ فوٹو : فائل
حکومت نے پی ایچ ایف پر ایڈہاک لگاکر عہدیداروں کیخلاف ایکشن لینے کا عندیہ دیدیا، وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی امور کا کہناہے کہ ایشیا کپ میں شکست کے بعد42سال میں پہلی مرتبہ عالمی کپ میں شرکت سے محرومی قومی المیہ ہے،سوا ارب روپے حاصل کرنیوالے فیڈریشن کے عہدیدار از خود مستعفی ہوجائیں۔
دوسری جانب سابق اولمپئنز نے دھمکی دی کہ ہاکی کو بچانے کیلیے سرکاری سطح پر فوری اقدام نہ کیا گیا تو وزیر اعظم ہاؤس کا گھیراؤ کرکے دھرنا دیا جائیگا، تفصیلات کے مطابق منگل کو وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ اور پی ایس بی کے صدر ریاض حسین پیرزادہ نے سابق ممتاز اولمپئنز سے ملاقات کی، اس موقع پر قومی ہاکی ٹیم کے زوال، پی ایچ ایف کے کردار اور کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی،کراچی جیمخانہ میں ہونیوالی اس ملاقات میں سابق قومی کپتان اصلاح الدین، سمیع اللہ خان،قمر ضیا، ایاز محمود،قمر ابراہیم، سمیر حسین اور کامران اشرف و دیگر شریک ہوئے۔
اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ایشیا کپ کے سیمی فائنل میں شکست کے بعد عالمی کپ میں شرکت سے محروم ہونا پوری قوم کیلیے باعث ندامت و افسوس ہے، قومی کھیل کا زوال کسی المیہ سے کم نہیں، انھوں نے کہا کہ اس ناکامی کے بعد فیڈریشن کے عہدیداروں اور قومی ہاکی ٹیم کے ذمہ داروں کو فوری طور پر عہدوں سے استعفٰی دے دینا چاہیے،میں نے حال ہی میں وزارت سنبھالی ورنہ ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہو جاتا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ایس بی نے قومی کھیل کی بحالی اور فروغ کیلیے فیڈریشن کو سوا ارب روپے سے زائد رقم مہیا کی جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا،چنانچہ ذمہ داروں کا بھر پور احتساب کیا جائیگا،پی ایچ ایف پر ایڈہاک لگانے سمیت کئی دیگر آپشنز موجود ہیں،اگر فوری طور پر ایڈہاک ممکن نہ ہوا تو فیڈریشن کے انتخابات کرا دیے جائینگے جس کے لیے ملک کی سطح پر اسکروٹنی کی جائیگی تاکہ دھاندلی کے بغیر حقیقی نمائندے باگ ڈور سنبھال سکیں۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ پی ایچ ایف کے عہدیدار لالچ کی وجہ سے مستعفی نہیں ہو رہے، ہاکی میں آپریشن ناگزیر ہوگیا ہے، وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف قومی کھیل کے معاملات پرنظر رکھے ہوئے ہیں، اولمپئنز کے نقطہ نظر اور تجاویز کے انھیں آگاہ کروں گا، کوشش کی جائیگی کہ اولمپئنزکی وزیر اعظم سے ملاقات ہوجائے تاکہ وہ براہ راست اپنا موقف اور آرا پیش کر سکیں، اس موقع پر سابق قومی کپتان اصلاح الدین نے کہا کہ اب امید پیدا ہو گئی کہ قومی ہاکی کا کھویا ہوا مقام دوبارہ واپس لانے کیلیے اقدامات کیے جائینگے، اس وقت پاکستانی ہاکی اپنے سیاہ ترین دور سے گزر رہی ہے،پوری قوم کی نظریں پی ایچ ایف کے سرپرست اعلیٰ وزیر اعظم پر لگی ہوئی ہیں، وہ فوری ایکشن لیں کیونکہ قومی کھیل پر بُرا وقت آن پڑا ہے۔
ایک اور سابق قومی کپتان سمیع اللہ خان نے کہا کہ قومی کھلاڑیوں کو ہاکی کے زوال پذیر ہونے پرصدمے اور تکلیف کا سامنا ہے، ہاکی میں تبدیلی ضروری ہو چکی،اب بھی کوئی ایکشن نہ لیا گیا تو یہ بہت بڑا المیہ ہوگا،کھلاڑی ہاکی کی خاطر وزیر اعظم ہاؤس پہنچ کر گھیراؤ کرتے ہوئے دھرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے، سابق اولمپئن ایاز محمود نے کہا کہ پی ایچ ایف پر فوری طور پر ایڈہاک لگا کر ذاتی مفادات کے لیے قومی ہاکی کو نقصان پہنچانے والوں کا احتساب کیا جائے، سابق اولمپئن سمیر حسین نے کہا کہ ہاکی میں آپریشن کی ضرورت ہے، فیڈریشن کی ناقص اورمایوس کن کارکردگی کے ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
دریں اثنا رابطے پر سابق قومی کپتان و سابق کوچ حنیف خان نے کہا کہ مذکورہ اجلاس میں مجھے کسی نے مدعو کرنے کی زحمت نہیں کی تاہم میرا ذاتی خیال ہے کہ اگر فیڈریشن کے صدراور سیکریٹری خودہی گھر چلے جائیں تو بہتر ہو گا،ورنہ حکومت ان کے خلاف ایکشن لے کیونکہ اب اس کے سواکوئی اور راستہ نہیں بچا،انھوں نے کہا کہ فیڈریشن نے اپنے طور پر بہتری کے لیے کوششیں ضرور کیں لیکن ملک میں نیا ٹیلنٹ سامنے لانے کے لیے ڈومیسٹک ہاکی پر کام نہیں ہوا، تمام ترتوجہ اکیڈمیز پر رکھی گئی۔
اجلاس میں مدعو نہ کیے جانے والے ایک اور سابق قومی کپتان حسن سردار نے کہا کہ فیڈریشن پر ایڈہاک لگا کر قومی پیسے کا حساب لیا جائے، فیڈریشن کے ذمہ دار از خود اپنے عہدوں سے سبکدوش ہو جائیں،نئے افراد کو سامنے لایا جائے، انھوں نے کہا کہ ماضی میں ہونے والی غلطیوں کو سامنے رکھ کر مستقبل کے لیے موزوں منصوبہ بندی کی جائے تو پاکستانی ہاکی دوبارہ زندہ ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب سابق اولمپئنز نے دھمکی دی کہ ہاکی کو بچانے کیلیے سرکاری سطح پر فوری اقدام نہ کیا گیا تو وزیر اعظم ہاؤس کا گھیراؤ کرکے دھرنا دیا جائیگا، تفصیلات کے مطابق منگل کو وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ اور پی ایس بی کے صدر ریاض حسین پیرزادہ نے سابق ممتاز اولمپئنز سے ملاقات کی، اس موقع پر قومی ہاکی ٹیم کے زوال، پی ایچ ایف کے کردار اور کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی،کراچی جیمخانہ میں ہونیوالی اس ملاقات میں سابق قومی کپتان اصلاح الدین، سمیع اللہ خان،قمر ضیا، ایاز محمود،قمر ابراہیم، سمیر حسین اور کامران اشرف و دیگر شریک ہوئے۔
اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ایشیا کپ کے سیمی فائنل میں شکست کے بعد عالمی کپ میں شرکت سے محروم ہونا پوری قوم کیلیے باعث ندامت و افسوس ہے، قومی کھیل کا زوال کسی المیہ سے کم نہیں، انھوں نے کہا کہ اس ناکامی کے بعد فیڈریشن کے عہدیداروں اور قومی ہاکی ٹیم کے ذمہ داروں کو فوری طور پر عہدوں سے استعفٰی دے دینا چاہیے،میں نے حال ہی میں وزارت سنبھالی ورنہ ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہو جاتا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ایس بی نے قومی کھیل کی بحالی اور فروغ کیلیے فیڈریشن کو سوا ارب روپے سے زائد رقم مہیا کی جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا،چنانچہ ذمہ داروں کا بھر پور احتساب کیا جائیگا،پی ایچ ایف پر ایڈہاک لگانے سمیت کئی دیگر آپشنز موجود ہیں،اگر فوری طور پر ایڈہاک ممکن نہ ہوا تو فیڈریشن کے انتخابات کرا دیے جائینگے جس کے لیے ملک کی سطح پر اسکروٹنی کی جائیگی تاکہ دھاندلی کے بغیر حقیقی نمائندے باگ ڈور سنبھال سکیں۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ پی ایچ ایف کے عہدیدار لالچ کی وجہ سے مستعفی نہیں ہو رہے، ہاکی میں آپریشن ناگزیر ہوگیا ہے، وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف قومی کھیل کے معاملات پرنظر رکھے ہوئے ہیں، اولمپئنز کے نقطہ نظر اور تجاویز کے انھیں آگاہ کروں گا، کوشش کی جائیگی کہ اولمپئنزکی وزیر اعظم سے ملاقات ہوجائے تاکہ وہ براہ راست اپنا موقف اور آرا پیش کر سکیں، اس موقع پر سابق قومی کپتان اصلاح الدین نے کہا کہ اب امید پیدا ہو گئی کہ قومی ہاکی کا کھویا ہوا مقام دوبارہ واپس لانے کیلیے اقدامات کیے جائینگے، اس وقت پاکستانی ہاکی اپنے سیاہ ترین دور سے گزر رہی ہے،پوری قوم کی نظریں پی ایچ ایف کے سرپرست اعلیٰ وزیر اعظم پر لگی ہوئی ہیں، وہ فوری ایکشن لیں کیونکہ قومی کھیل پر بُرا وقت آن پڑا ہے۔
ایک اور سابق قومی کپتان سمیع اللہ خان نے کہا کہ قومی کھلاڑیوں کو ہاکی کے زوال پذیر ہونے پرصدمے اور تکلیف کا سامنا ہے، ہاکی میں تبدیلی ضروری ہو چکی،اب بھی کوئی ایکشن نہ لیا گیا تو یہ بہت بڑا المیہ ہوگا،کھلاڑی ہاکی کی خاطر وزیر اعظم ہاؤس پہنچ کر گھیراؤ کرتے ہوئے دھرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے، سابق اولمپئن ایاز محمود نے کہا کہ پی ایچ ایف پر فوری طور پر ایڈہاک لگا کر ذاتی مفادات کے لیے قومی ہاکی کو نقصان پہنچانے والوں کا احتساب کیا جائے، سابق اولمپئن سمیر حسین نے کہا کہ ہاکی میں آپریشن کی ضرورت ہے، فیڈریشن کی ناقص اورمایوس کن کارکردگی کے ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
دریں اثنا رابطے پر سابق قومی کپتان و سابق کوچ حنیف خان نے کہا کہ مذکورہ اجلاس میں مجھے کسی نے مدعو کرنے کی زحمت نہیں کی تاہم میرا ذاتی خیال ہے کہ اگر فیڈریشن کے صدراور سیکریٹری خودہی گھر چلے جائیں تو بہتر ہو گا،ورنہ حکومت ان کے خلاف ایکشن لے کیونکہ اب اس کے سواکوئی اور راستہ نہیں بچا،انھوں نے کہا کہ فیڈریشن نے اپنے طور پر بہتری کے لیے کوششیں ضرور کیں لیکن ملک میں نیا ٹیلنٹ سامنے لانے کے لیے ڈومیسٹک ہاکی پر کام نہیں ہوا، تمام ترتوجہ اکیڈمیز پر رکھی گئی۔
اجلاس میں مدعو نہ کیے جانے والے ایک اور سابق قومی کپتان حسن سردار نے کہا کہ فیڈریشن پر ایڈہاک لگا کر قومی پیسے کا حساب لیا جائے، فیڈریشن کے ذمہ دار از خود اپنے عہدوں سے سبکدوش ہو جائیں،نئے افراد کو سامنے لایا جائے، انھوں نے کہا کہ ماضی میں ہونے والی غلطیوں کو سامنے رکھ کر مستقبل کے لیے موزوں منصوبہ بندی کی جائے تو پاکستانی ہاکی دوبارہ زندہ ہو سکتی ہے۔