عراق میں بم دھماکوں اورپرتشدد واقعات میں 12 پولیس اہلکاروں سمیت 35افراد ہلاک

بغداد کے علاقے لطیفیہ میں مختلف گھروں کو بم دھماکوں کانشانہ بنایاگیاجس میں 5 خواتین اور6 بچوں سمیت 18 افراد ہلاک ہوئے۔

عراق ميں رواں سال اب تک 3900 سے زائد افراد فرقہ وارانہ فسادات میں مارے جاچکے ہیں۔۔ فوٹو؛ اے ایف پی

عراق کے مختلف شہروں میں بم دھماکوں اور فائرنگ کے پر تشدد واقعات میں 12 پولیس اہلکاروں سمیت مزید 35 افراد ہلاک جب کہ درجنوں زخمی ہو گئے۔



غیرملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق بغداد کے جنوبی علاقے لطیفیہ میں دہشت گردوں کی جانب سے مختلف گھروں کو بم دھماکوں ميں نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے 5 خواتین اور 6 بچوں سمیت 18 افراد ہلاک بکہ متعدد افراد زخمی ہوئے، زخمیوں کو ریسکیو ٹیموں نے ابتدائی طبی امداد کے لئے قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا جہاں متعدد زخمیوں کی حالت تشویشنا ک ہے جس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خد شہ ہے۔


دارلحکومت بغداد کے ہی نواحی علاقوں بسمیہ، اسکندریہ اور طرمیہ میں بھی پر فائرنگ کے مختلف واقعات میں 7 پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد کو ہلاک کر دیا گیا جب کہ موصل شہر میں بھی بم دھماکوں اور فائرنگ کے مختلف واقعات میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 8 افراد ہلاک ہوئے۔ کسی بھی گروپ کی جانب سے تاحال بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔


واضح رہے کہ عراق میں جاری فرقہ وارانہ فسادات کے نتیجے میں امسال اب تک 3900 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

Load Next Story