پاک بھارت تعلقات میں بہتری کی نوید

بھارت سے کئی اشیا ایسی درآمد کی جاسکتی ہیں جو دیگر ممالک کے مقابلے میں کم لاگت ہیں۔

بھارت خطے کی نہ صرف ایک بڑی طاقت ہے بلکہ صنعت وحرفت ،تعلیم ، جدید سائنس ،طب اور آئی ٹی کے شعبے میں اپنا مقام رکھتا ہے۔ فوٹو: فائل

پاک وبھارت سرحدی کشیدگی میں اضافے ،کنٹرول لائن پر بلااشتعال فائرنگ،فوجیوں اورعوام کے جانی ومالی نقصان پردونوں ممالک کے عوام کی اکثریت جو باہمی امن کی خواہش رکھتے ہیں،خاصے پریشان نظر آرہے تھے لیکن اب اس حوالے سے انتہائی امید افزاء خبر سفارتی سطح پر تصدیق کے بعد اخبارات کی زینت بنی ہے کہ اس ماہ کے آخر میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم یعنی نوازشریف اور من موہن سنگھ کے درمیان نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقعے پر طے شدہ ملاقات ہوگی ۔ بھارت کے شدت پسند عناصر جو حکومت اور اپوزیشن دونوں میںموجود ہیں یہ مطالبہ زورشور سے کرچکے تھے کہ نیویارک میں وزرائے اعظم کی طے شدہ ملاقات کو منسوخ کیا جائے۔

لیکن خبر کے مطابق بھارت کے ہائی کمشنر ڈاکٹر ٹی سی اے رگھوان نے پاکستان کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز سے ملاقات کی اور نواز،منموہن ملاقات کے ایجنڈے پر تبادلہ خیال بھی کیا ۔ سرتاج عزیز نے بھارتی ہائی کمشنرکوآگاہ کیا کہ حکومت بھارت کے ساتھ کشیدگی کو سنجیدگی سے ختم کرنا چاہتی ہے اوردونوں ممالک کو اس کشیدگی کوکم کرنے کے لیے تمام امکانات کو بروئے کار لانا چاہیے۔یہ حقیقت پاکستان اور بھارت میں بسنے والے شدت پسند عناصرکو سمجھنی چاہیے کہ دونوں ممالک آزاد و خودمختار ریاستیں ہیں اور ان کی بقا وسلامتی کا راز ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے میں ہے ۔ نہ ہی کوئی پاکستانی شدت پسند گروہ لال قلعہ پر پرچم لہرا سکتا ہے اور نہ ہی اکھنڈ بھارت کا خواب پورا ہوسکتا ہے ۔


دراصل من موہن اور نوازشریف کی ملاقات محض دوملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات نہیں ہوگی بلکہ یہ سوا ارب انسانوں کے باہمی امن وبھائی چارے سے رہنے کی خواہش کا مظہر بھی ہوگی۔ پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف نے تو اپنی تقریب حلف برداری میں بھارتی وزیراعظم کی شرکت کی خواہش کا اظہار کرکے اپنے خلوص اور مستقبل میں دوستی کے روشن امکانات کی طرف واضح اشارہ دے دیا تھا ،لیکن کنٹرول لائن پر حالیہ کشیدگی نے شکوک وشبہات کی دھند پیدا کردی ،لیکن اب یہ دھند چھٹتی نظر آرہی ہے۔ بھارت خطے کی نہ صرف ایک بڑی طاقت ہے بلکہ صنعت وحرفت ،تعلیم ، جدید سائنس ،طب اور آئی ٹی کے شعبے میں اپنا مقام رکھتا ہے۔ اسی ضمن میں گزشتہ روز پاکستان کے وفاقی سیکریٹری تجارت نے یہ بیان دیا ہے کہ پاکستان خالصتاً تجارتی فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت کے ساتھ بہتر تجارتی روابط قائم کرنے کو ترجیح دے گا۔

دونوں ممالک کے تاجر ایک دوسرے سے تجارت کے خواہاں ہیں، بھارت سے کئی اشیا ایسی درآمد کی جاسکتی ہیں جو دیگر ممالک کے مقابلے میں کم لاگت ہیں اور کم وقت میں پاکستان منگوائی جاسکتی ہیں۔ ہمیں اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے بھارت کے ساتھ تعلقات کو ہر سطح پر لازمی فروغ دینا ہوگا۔ توانائی کے بحران اور امن وامان کی خراب صورت حال کے باعث پہلے ہی غیر ملکی خریدار پاکستان نہیں آرہے اور پاکستانی برآمدکنندگان کو مشکلات کا سامنا ہے ۔ بھارت سے دوستی اور تجارت ہمارے مسائل میں خاصی کمی کرسکتی ہے اب یوں سمجھیے کہ نواز وموہن ملاقات پاک وبھارت کے درمیان دوستی کے سفرکا نقطہ آغاز ثابت ہوگی۔
Load Next Story