وزیراعظم کے دورہ کراچی سے امیدیں پوری نہ ہوئیں حصص مارکیٹ میں محدود تیزی
کراچی میں قیام امن کے حوالے سے واضح فیصلہ نہ ہونے کے باعث اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری صورتحال اتارچڑھاؤ کی زد میں رہی۔
اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کے باوجود56 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔فوٹو: فائل
KARACHI:
وزیراعظم کے دورہ کراچی میں قیام امن کے لیے توقعات کے مطابق کوئی واضح فیصلہ نہ ہونے کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں بدھ کو کاروباری صورتحال اتارچڑھاؤ کی زد میں رہی اور محدود پیمانے پر تیزی رونما ہوئی۔
تیزی کے باوجود56 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی تاہم بنچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں اضافے کی وجہ سے حصص کی مالیت میں6 ارب83 لاکھ78 ہزار60 روپے کا اضافہ ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر39 پوائنٹس کی مندی اور156.17 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن وقفے وقفے سے حصص کی فروخت اور بے یقینی کی کیفیت برقرار رہنے سے تیزی کی شرح میں کمی واقع ہوئی، کاروباری دورانیے میں مقامی کمپنیوں نے 1لاکھ60 ہزار283 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں نے32 لاکھ65 ہزار 673 ڈالر، میوچل فنڈز نے8 لاکھ71 ہزار179 ڈالر، این بی ایف سیز نے7 لاکھ 45 ہزار804 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے3 لاکھ60 ہزار 207 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی۔
جبکہ غیرملکیوں اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر54 لاکھ3 ہزار145 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا ہے کہ پڑوسی ممالک کی اسٹاک مارکیٹوں میں رونما ہونے والی مندی کے اثرات بھی مقامی مارکیٹ پر بالواسطہ طور پر مرتب ہوئے ہیں جس کی وجہ سے نمایاں تیزی برقرار نہ رہ سکی تاہم پی ایس او کے حصص میں زیادہ خریداری رحجان نے مارکیٹ کے مورال کو بلند کیا، کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 67.33 پوائنٹس کے اضافے سے21875.83 ہوگیا ۔
تاہم اسکے برعکس کے ایس ای30 انڈیکس 1.14 پوائنٹس کی کمی سے 17008.20 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 66.59 پوائنٹس کی کمی سے37476.50 ہوگیا، کاروباری حجم منگل کی نسبت 11.79 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر14 کروڑ94 لاکھ89 ہزار20 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار325 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 125 کے بھاؤ میں اضافہ، 182 کے داموں میں کمی اور18 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں نیسلے پاکستان کے بھاؤ185 روپے بڑھ کر6150 روپے اور رفحان میظ کے بھاؤ50 روپے بڑھ کر4650 روپے ہوگئے جبکہ یونی لیور فوڈز کے بھاؤ50 روپے کم ہوکر5000 روپے اور سیمینس پاکستان کے بھاؤ 45.83 روپے کم ہوکر870.92 روپے ہوگئے۔
وزیراعظم کے دورہ کراچی میں قیام امن کے لیے توقعات کے مطابق کوئی واضح فیصلہ نہ ہونے کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں بدھ کو کاروباری صورتحال اتارچڑھاؤ کی زد میں رہی اور محدود پیمانے پر تیزی رونما ہوئی۔
تیزی کے باوجود56 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی تاہم بنچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں اضافے کی وجہ سے حصص کی مالیت میں6 ارب83 لاکھ78 ہزار60 روپے کا اضافہ ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر39 پوائنٹس کی مندی اور156.17 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن وقفے وقفے سے حصص کی فروخت اور بے یقینی کی کیفیت برقرار رہنے سے تیزی کی شرح میں کمی واقع ہوئی، کاروباری دورانیے میں مقامی کمپنیوں نے 1لاکھ60 ہزار283 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں نے32 لاکھ65 ہزار 673 ڈالر، میوچل فنڈز نے8 لاکھ71 ہزار179 ڈالر، این بی ایف سیز نے7 لاکھ 45 ہزار804 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے3 لاکھ60 ہزار 207 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی۔
جبکہ غیرملکیوں اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر54 لاکھ3 ہزار145 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا ہے کہ پڑوسی ممالک کی اسٹاک مارکیٹوں میں رونما ہونے والی مندی کے اثرات بھی مقامی مارکیٹ پر بالواسطہ طور پر مرتب ہوئے ہیں جس کی وجہ سے نمایاں تیزی برقرار نہ رہ سکی تاہم پی ایس او کے حصص میں زیادہ خریداری رحجان نے مارکیٹ کے مورال کو بلند کیا، کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 67.33 پوائنٹس کے اضافے سے21875.83 ہوگیا ۔
تاہم اسکے برعکس کے ایس ای30 انڈیکس 1.14 پوائنٹس کی کمی سے 17008.20 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 66.59 پوائنٹس کی کمی سے37476.50 ہوگیا، کاروباری حجم منگل کی نسبت 11.79 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر14 کروڑ94 لاکھ89 ہزار20 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار325 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 125 کے بھاؤ میں اضافہ، 182 کے داموں میں کمی اور18 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں نیسلے پاکستان کے بھاؤ185 روپے بڑھ کر6150 روپے اور رفحان میظ کے بھاؤ50 روپے بڑھ کر4650 روپے ہوگئے جبکہ یونی لیور فوڈز کے بھاؤ50 روپے کم ہوکر5000 روپے اور سیمینس پاکستان کے بھاؤ 45.83 روپے کم ہوکر870.92 روپے ہوگئے۔