سیاست میں اسپورٹس مین اسپرٹ کی ضرورت

پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم لائی جا رہی ہیں جس کے تحت بیرون ملک سے حوالے کیے گئے ملزمان کو پھانسی نہیں ہوگی

پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم لائی جا رہی ہیں جس کے تحت بیرون ملک سے حوالے کیے گئے ملزمان کو پھانسی نہیں ہوگی (فوٹو: فائل)

قومی سائیکی ایک عجیب معمہ میں الجھی ہوئی ہے، اسے سیاسی قیادتیں اور جمہوری قوتیں اس بات کا بظاہر یقین دلاتی ہیں کہ سب ٹھیک ہورہا ہے، معیشت کی کسی کو فکر نہیں کرنی چاہیے، اسے استحکام مل چکا ہے، اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا تسلسل، جب کہ سونا 1800 روپے تولہ مہنگا اور ڈالر کے مقابلہ میں روپیہ مستحکم ہوا ہے، زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 14 ارب63 کروڑ 91 لاکھ ڈالر ہوگئے ہیں، سی پیک توسیعی مرحلہ میں داخل ہورہا ہے۔

اقتصادی اشاریے معیشت کے لاعلاج مرض کی دوا تلاش کرنے میں کچھ تو کامیاب ہوئے ہیں، مگر سماجی اور سیاسی اضطراب ہے کہ سیاسی اور حکومتی حلقوں کو بے چین کیے ہوئے ہے ۔ظاہراً اپوزیشن کا فارمولہ حکومت کو ٹف ٹائم دینا ہوتا ہے، وہ ایک طرف حکومت گرانے میں عدم دلچسپی کا عندیہ دیتی ہے اور دوسری جانب سابق صدر آصف علی زرداری اپنی گرفتاری کے بعد بھی حکومت کو میثاق معیشت کی پیشکش کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ دلچسپ پیشکش بھی ان کی دلنواز مسکراہٹ کا حصہ بنی ہوئی ہے کہ ''حساب کتاب چھوڑ دو ،اب آگے بڑھو''۔تاہم ن لیگ قیادت اور اہم رہنما مسلسل حکومتی اور عدالتی زلزلوں کی گڑگڑاہٹوں کی زد میں ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت مسترد کردی ۔

سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے ہیں کہ سندھ ہر لحاظ سے کرپٹ ترین صوبہ ہے، جس میں بجٹ کا روپیہ بھی عوام پر خرچ نہیں ہوتا، ادھر وزیراعظم نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں سیاحت سے بھرپور استفادہ کیا جائے، وزیراعظم نے پاکستان میں ترقی و استقامت کے حوالہ سے پوٹینشل کی بات کی ہے،اس سے کس کو انکار ہے مگر ضرورت حکومت کی طرف سے غیر معمولی پیش قدمی کی ہے، جمود اور قوت فیصلہ کے فقدان نے قومی زندگی اور سیاسی عمل کو بریک لگا دیے ہیں ، ایک زبردست انی شیٹیو اور موبیلائزیشن درکار ہے ۔

تقسیم کار نہیں ہے، ایک کام پر دس دس معاونین اور مشیر مقرر ہیں، کار طفلاں تمام خواہد شد کا سیناریو ختم ہو تو ہی ایک سمت کا احساس پیدا ہو،لیکن افسوس کہ میڈیا کے آزادانہ کردار کے باوجود حقیقی نتائج معاشی منظر نامہ سے کوسوں دور ہیں،اس پر توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے، مبصرین کے مطابق اقتصادی صورتحال اور تناؤ کے شکار تصفیہ طلب سیاسی معاملات میں اپوزیشن سے سنجیدہ مکالمہ کا کوئی بریک تھرو نہیں ہوسکا ہے، کنفیوژن بڑھ رہا ہے۔


سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے آئی ایم ایف کی اندر کی کہانی بیان کردی، وہ قومی اسمبلی میں اپنی حکومت پر برس پڑے، وہ کہتے ہیں تحقیقات ہونی چاہیے کہ اتنی تیزی سے چینی کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں، ٹیکسز پر نکتہ چینی کی اور کہہ رہے ہیں کہ اگر پکڑدھکڑ سیاسی انتقام کے لیے ہورہی ہے تو کسی کے لیے اچھی نہیں ، باتیں رازداروں کی ہیں۔ اس لیے احتیاط لازم ہے۔

دریں اثنا پارلیمانی تجربات کے واقف کاروں کو اندیشہ ہے کہ حکومتی بینچز نے اگر قانون سازی کی راہ ہموار نہ کی اور اپوزیشن کے مقابل دھینگا مشتی، تلخ سوال وجواب کی شٹل ڈپلومیسی ، سیاسی سیز فائر یا بامعنی جمہوری ٹھہراؤ کی کوئی امکانی صورتحال سامنے نہ آئی تو سسٹم کو ڈیڈ لاک کاخطرہ درپیش آسکتا ہے، سیاست ابھی تک حکومت مخالف اور اپوزیشن موقف پر ڈٹی ہوئی ہے۔

وفاقی بجٹ کی منظوری کا سوال ابھی دو انتہاؤں کے بیچ سوالیہ نشان بنا ہوا ہے، اپوزیشن اور حکومتی حلقوں نے اس بات پر سینگ اٹکائے ہوئے ہیں کہ بجٹ منظور نہیں ہونے دیں گے جب کہ حکومت ان کے وزراء اور کابینہ سمیت اقتصادی ٹیمیں اور اتحادی بدستور اس بیانیہ پر قائم ہیں کہ بجٹ ہر قیمت پر منظور کرایا جائے گا۔ اب دیکھنا ہے کہ تیزی سے بدلتی سیاسی ترجیحات، داؤ پیچ، ممکنہ جوڑ توڑ، رسہ کشی اور تناؤ میں جمہوری عمل اپنا راستہ کیسے بناتی ہے، جب کہ اقتصادی معیشت کی مجموعی کارکردگی ہنوز سوالیہ نشان ہے۔آخر کیوں؟

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم لائی جا رہی ہیں جس کے تحت بیرون ملک سے حوالے کیے گئے ملزمان پر سزائے موت لاگو نہیں ہوگی۔ گزشتہ روز یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ وہ برطانوی وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ کی دعوت پر برطانیہ گئے تھے جہاں مثبت ملاقاتیں اور گفتگو ہوئی۔ برطانوی وزیرخارجہ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں ملزمان کی حوالگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا ملک ''سیاسی مقاصد'' کے تحت ملزمان کی حوالگی کے کسی معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ برطانوی وزیر خارجہ سے اے ٹی ایف ٹی پر بھی بات ہوئی، ہماری کوشش ہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ میں بھی نہ رہے ۔ چنانچہ امید کی جانی چاہیے کہ سیاست دان ہوشمندی اور ملک کو معاشی استحکام دینے میں مصالحت اور اسپورٹس مین اسپرٹ کو بروئے کار لائیں گے۔
Load Next Story