بحریہ کے کیپٹن کے قتل کی تحقیقات کیلیے ٹیم تشکیل شارع فیصل تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا

کیپٹن ڈاکٹر ندیم کو جس مقام پر قتل کیا گیا وہاں سی سی ٹی وی کیمرے نہیں لگے تھے،جائے وقوع سے گولیوں کے خول بھی نہیں ملے

ڈاکٹر ندیم احمد کی یادگار تصویر۔ فوٹو : فائل

CAIRO:
ڈی آئی جی ایسٹ کی ہدایت پر پاک بحریہ کے کیپٹن کے قتل کی تحقیقات کے لیے ایس ایس پی ایسٹ انویسٹی گیشن کی سر براہی میں 5 رکنی ٹیم تشکیل دیدی گئی ، کیپٹن ڈاکٹر ندیم احمد کے قتل کا مقدمہ شارع فیصل تھانے میں ان کے بھائی کی مدعیت میں درج کر لیا گیا، جس مقام پر قتل کیا گیا وہاں سی سی ٹی وی کیمرے نہیں لگے تھے۔

تفصیلات کے مطابق ڈی آئی جی ایسٹ کیپٹن ریٹائرڈ طاہر نوید کی ہدایت پر پاک بحریہ کے کیپٹن ڈاکٹر ندیم احمد کے قتل کی تحقیقات کے لیے ایس ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ زون ون جنید احمد شیخ کی سر براہی میں5 رکنی تفتیشی ٹیم تشکیل دیدی، تفتیشی ٹیم میں ایس پی شارع فیصل علی آصف، ڈی ایس پی شارع فیصل رستم نواز،ایس ایچ او شارع فیصل ارشد جنجوعہ اور شارع فیصل تھانے کے انویسٹی گیشن انچارج چوہدری ارشاد شامل ہیں، کیپٹن ڈاکٹر ندیم احمد کے قتل کا مقدمہ الزام نمبر 596/2013 بجرم دفعہ 302اور 324 کے تحت مقتول کے بھائی راحت بشیر کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف شارع فیصل تھانے میں درج کر لیا گیا۔

پاک بحریہ کے کیپٹن کو جس مقام پر قتل کیا گیا وہاں سی سی ٹی وی کیمرے نہیں لگے، واقعے کی تفتیش کے آغاز پر جائے وقوع کا معائنہ کرنے والے تحقیقاتی ٹیم کے ایک افسر نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ کیپٹن ڈاکٹر ندیم احمد کی گاڑی کو شارع فیصل سے کارساز فلائی اوور کی جانب جاتے ہوئے ایک کیمرے میں دیکھا گیا ہے، انھوں نے بتایا کہ پولیس اس چیز کو بھی مدنظر رکھی ہوئے ہے کہ جائے وقوع کے آس پاس کس عمارت یا گھر پر کوئی کیمرہ نصب ہے تو اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جائے تاہم اس میں بھی پولیس کو سر دست کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی، انھوں نے بتایا کہ تفتیشی پولیس کو واردات کے بعد جائے وقوع سے گولیوں کے خول نہیں ملے ہیں بلکہ پولیس کو مقتول کیپٹن کی کار سے ایک سکہ ضرور ملا ہے تاہم اس سے اندازہ لگانا مشکل ہے کہ یہ سکہ کس اسلحہ کا ہے۔




انھوں نے بتایا کہ پولیس کو شبہ ہے کہ پاک بحریہ کے کیپٹن کی گاڑی پر فائرنگ ریوالور سے کی گئی ہے، انھوں نے بتایا کہ اب تک اس بات کا بھی تعین نہیں ہو سکا کہ پاک بحریہ کے کیپٹن پر حملہ کرنے والے ملزمان کی تعداد کتنی تھی اور وہ واردات کیلیے کس طرف سے آئے تھے اور واردات کے بعد کس جانب فرار ہوئے، تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کیپٹن ڈاکٹر ندیم احمد نے دو شادیاں کی ہوئی تھیں، پہلی بیوی سے مقتول کے2بیٹے ہیں جبکہ فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والی خاتون ٹیرسی احمد مقتول کی دوسری بیوی ہیں جس سے ان کا ایک بیٹا ہے ، انھوں نے بتایا کہ پولیس اس بات پر بھی تفتیش کر رہی ہے کیپٹن ندیم احمد کا قتل ماضی میں پاک بحریہ پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے سلسلے کی کڑی تو نہیں، انھوں نے بتایا کہ پولیس کیپٹن کے قتل اور اہلیہ کے زخمی ہونے کے واقعے کی تمام پہلوؤں پر باریک بینی سے تفتیش کر رہی ہے اور جلد ہی کسی نتیجے پر پہنچ جائے گی۔

دریں اثناء پاک بحریہ کے کیپٹن ڈاکٹر ندیم احمد کی نماز جنازہ بحریہ یونیورسٹی سے متصل پی این ایس شفا کے پریڈ گراؤنڈ میں ادا کی گئی، نماز جنازہ میں پاک بحریہ کے اعلیٰ افسران ، مقتول کے اہلخانہ عزیز و اقارب سمیت بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے، بعدازاں مقتول کیپٹن کو پورے سر کاری اعزاز کیساتھ پاک بحریہ قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا، مقتول کیپٹن کے بھائی راحت بشیر نے ایکسپریس کو بتایا کہ کیپٹن ڈاکٹر ندیم احمد جام شہادت نوش کی ہے اور اپنی پوری زندگی ملک و قوم کی خدمت میں گزار دی، ابھی ملک کی حفاظت کرنے والے موجود ہیں جو کسی صورت ملک دشمن عناصر کو اپنے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، ملک کی حفاظت کے لیے کیپٹن ڈاکٹر ندیم احمد جیسے ہزاروں لوگ موجود ہیں۔
Load Next Story