زخمی کینگروز نوآموز انگلش پلیئرز پر جھپٹنے کیلیے تیار
ایشزمیں شکست کا مزہ ایک روزہ مقابلوں میں چکھانے کا منصوبہ تیار، آج پہلا مقابلہ
لیڈز:ون ڈے سیریز سے قبل آسٹریلوی کپتان کلارک کا ٹرافی تھامے انگلش ہم منصب مورگن کیساتھ پوز۔ فوٹو: فائل
انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ون ڈے سیریز جمعے سے شروع ہورہی ہے، زخمی کینگروز نوآموز میزبان پلیئرز پر جھپٹنے کیلیے تیار ہیں، ایشز میں شکست کا مزہ ایک روزہ مقابلوں میں چکھانے کا منصوبہ تیار کرلیا۔
کپتان مائیکل کلارک کا کہنا ہے کہ جوابی ایشز سیریز تک آرام کا سوچ بھی نہیں سکتا، میں اپنے ملک کے لیے ہرمیچ کھیلنا چاہتا ہوں، دوسری جانب اسٹار پلیئرز کی عدم موجودگی میں انگلش سائیڈ کا انحصار کیون پیٹرسن پر بڑھ گیا، قائم مقام کپتان ایون مورگن کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کیخلاف فتوحات کا سلسلہ اس فارمیٹ میں بھی جاری رکھیں گے۔ تفصیلات کے مطابق انگلینڈ کو ایشز سیریز جیتنے کے بعد ون ڈے سیریز میں ناکامی کی نئی قائم ہونے والی روایت سے چھٹکارے کا چیلنج درپیش ہے۔
انگلش ٹیم اپنی سرزمین پر گذشتہ 9 میں سے 6 ون ڈے سیریز جیت چکی،گذشتہ برس بھی اس نے ہوم گرائونڈز پر آسٹریلیا کو 4-0 سے شکست دی تھی مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 2009 اور پھر 2010-11 میں ایشز سیریز جیتنے کے بعد انگلش ٹیم کو ایک روزہ میچز میں آسٹریلیا کے ہاتھوں ناکامی سے دوچار ہونا پڑا۔
میزبان سائیڈ نے اس سیریز میں اپنے مستقل کپتان الیسٹرکک سمیت جیمز اینڈرسن، ای ین بیل، اسٹورٹ براڈ اور گریم سوان کو آرام دیا، اس کی وجہ سے ٹیم میں زیادہ تر نوآموز کھلاڑی شامل ہیں مگر انھیں کیون پیٹرسن کا ساتھ حاصل ہو گا جو گھٹنے کی تکلیف سے دوچار ہونے کے باوجود اہم ذمہ داری نبھانے کے لیے تیار ہیں، قائم مقام کپتان ایون مورگن کا کہنا ہے کہ کیون پیٹرسن تجربہ کار کھلاڑی اور ہمیشہ نئے لڑکوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، وہ اننگز کا آغاز کریں گے۔
دوسری جانب آسٹریلیا ایشز سیریز میں 0-3 سے ناکامی کا غصہ ون ڈے سیریز میں اتارنے کاارادہ رکھتا ہے، وہ حریف سائیڈ میں نوجوان کھلاڑیوں کی موجودگی سے کافی خوش ہے، پاکستانی نژاد لیگ اسپنر فواد احمد ون ڈے ڈیبیو کریں گے۔ مائیکل کلارک نے کہاکہ کمر میں تکلیف ہونا ایک حقیقت ہے مگر یہ مجھے آسٹریلیا کی نمائندگی سے نہیں روک سکتی، میں اپنے ملک کی جانب سے ہر میچ کھیلنا چاہتا ہوں۔
کپتان مائیکل کلارک کا کہنا ہے کہ جوابی ایشز سیریز تک آرام کا سوچ بھی نہیں سکتا، میں اپنے ملک کے لیے ہرمیچ کھیلنا چاہتا ہوں، دوسری جانب اسٹار پلیئرز کی عدم موجودگی میں انگلش سائیڈ کا انحصار کیون پیٹرسن پر بڑھ گیا، قائم مقام کپتان ایون مورگن کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کیخلاف فتوحات کا سلسلہ اس فارمیٹ میں بھی جاری رکھیں گے۔ تفصیلات کے مطابق انگلینڈ کو ایشز سیریز جیتنے کے بعد ون ڈے سیریز میں ناکامی کی نئی قائم ہونے والی روایت سے چھٹکارے کا چیلنج درپیش ہے۔
انگلش ٹیم اپنی سرزمین پر گذشتہ 9 میں سے 6 ون ڈے سیریز جیت چکی،گذشتہ برس بھی اس نے ہوم گرائونڈز پر آسٹریلیا کو 4-0 سے شکست دی تھی مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 2009 اور پھر 2010-11 میں ایشز سیریز جیتنے کے بعد انگلش ٹیم کو ایک روزہ میچز میں آسٹریلیا کے ہاتھوں ناکامی سے دوچار ہونا پڑا۔
میزبان سائیڈ نے اس سیریز میں اپنے مستقل کپتان الیسٹرکک سمیت جیمز اینڈرسن، ای ین بیل، اسٹورٹ براڈ اور گریم سوان کو آرام دیا، اس کی وجہ سے ٹیم میں زیادہ تر نوآموز کھلاڑی شامل ہیں مگر انھیں کیون پیٹرسن کا ساتھ حاصل ہو گا جو گھٹنے کی تکلیف سے دوچار ہونے کے باوجود اہم ذمہ داری نبھانے کے لیے تیار ہیں، قائم مقام کپتان ایون مورگن کا کہنا ہے کہ کیون پیٹرسن تجربہ کار کھلاڑی اور ہمیشہ نئے لڑکوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، وہ اننگز کا آغاز کریں گے۔
دوسری جانب آسٹریلیا ایشز سیریز میں 0-3 سے ناکامی کا غصہ ون ڈے سیریز میں اتارنے کاارادہ رکھتا ہے، وہ حریف سائیڈ میں نوجوان کھلاڑیوں کی موجودگی سے کافی خوش ہے، پاکستانی نژاد لیگ اسپنر فواد احمد ون ڈے ڈیبیو کریں گے۔ مائیکل کلارک نے کہاکہ کمر میں تکلیف ہونا ایک حقیقت ہے مگر یہ مجھے آسٹریلیا کی نمائندگی سے نہیں روک سکتی، میں اپنے ملک کی جانب سے ہر میچ کھیلنا چاہتا ہوں۔