کراچی میں امن کیلیے ہر آئینی اقدام کی حمایت کرینگے گوڈیل
آپریشن مستقل حل نہیں، شاہی سید، پنجاب کے ڈنڈے کے سامنے کوئی شور نہیں کرتا، وسان
حکومت کراچی میں امن کیلیے سنجیدہ ہے،عبدالحکیم بلوچ،’’تکرار‘‘میں عمران خان سے گفتگو۔ فوٹو: فائل
BERLIN:
ایم کیو ایم کے رہنما عبدالرشید گوڈیل نے کہا ہے کہ کراچی میں امن کے قیام کے لیے حکومت کے ہرآئینی اقدام کی حمایت کریں گے۔
کراچی میں ٹارگٹڈ ایکشن ہونا چاہیے لیکن اس میں بیگناہ شہری نہ پکڑے جائیں۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''تکرار'' میں میزبان عمران خان سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ فوج کا مطالبہ صرف ایم کیو ایم نے نہیں، تاجروں، شہریوں اور مختلف طبقہ فکرکے لوگوں نے بھی کیا۔ الیکشن، سیلاب، زلزلہ میں فوج کو بلایا جا سکتا ہے تو امن کے لیے اس کی خدمات کیوں نہیں لی جاسکتیں۔اے این پی کے رہنما شاہی سید نے کہا کہ ہم وزیراعظم کے مشکور ہیں کہ انھوں نے کراچی کے امن کے لیے 2 دن کراچی میں قیام کیا اوراچھے فیصلے کیے لیکن فوجی آپریشن کراچی کا مستقل حل نہیں۔
ہماری پولیس کا مورال ڈاؤن ہو چکا ہے،اس میں بھی جرائم پیشہ افراد بھرتی ہوچکے ہیں، پولیس کے مورال کو بہترکرنے کے لیے سفارشی، سیاسی اور پریشرکی بھرتیوں کو ختم کیا جانا چاہیے۔رہنما ن لیگ عبدالحکیم بلوچ نے کہا کہ وزیراعظم کا کراچی میں آنا امن کے لیے ان کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ وزیراعظم نے پہلے روز ہی کہا تھا کہ کراچی میں جوبھی کارروائی ہوئی اس کے کپتان قائم علی شاہ ہوں گے۔ پیپلزپارٹی کے رہنما نواب علی وسان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو کپتانی کی ضرورت نہیں ہے، وہ پہلے بھی کام کررہی تھی اورآئندہ بھی کام کرتی رہے گی۔ پنجاب کے ڈنڈے کے سامنے کوئی شور نہیں کرتا جب ہم کہتے تواے این پی اورایم کیو ایم والے باتیں کرتے تھے۔ کراچی میں امن کے لیے سب کو کوششیں کرنا چاہئیں۔
ایم کیو ایم کے رہنما عبدالرشید گوڈیل نے کہا ہے کہ کراچی میں امن کے قیام کے لیے حکومت کے ہرآئینی اقدام کی حمایت کریں گے۔
کراچی میں ٹارگٹڈ ایکشن ہونا چاہیے لیکن اس میں بیگناہ شہری نہ پکڑے جائیں۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''تکرار'' میں میزبان عمران خان سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ فوج کا مطالبہ صرف ایم کیو ایم نے نہیں، تاجروں، شہریوں اور مختلف طبقہ فکرکے لوگوں نے بھی کیا۔ الیکشن، سیلاب، زلزلہ میں فوج کو بلایا جا سکتا ہے تو امن کے لیے اس کی خدمات کیوں نہیں لی جاسکتیں۔اے این پی کے رہنما شاہی سید نے کہا کہ ہم وزیراعظم کے مشکور ہیں کہ انھوں نے کراچی کے امن کے لیے 2 دن کراچی میں قیام کیا اوراچھے فیصلے کیے لیکن فوجی آپریشن کراچی کا مستقل حل نہیں۔
ہماری پولیس کا مورال ڈاؤن ہو چکا ہے،اس میں بھی جرائم پیشہ افراد بھرتی ہوچکے ہیں، پولیس کے مورال کو بہترکرنے کے لیے سفارشی، سیاسی اور پریشرکی بھرتیوں کو ختم کیا جانا چاہیے۔رہنما ن لیگ عبدالحکیم بلوچ نے کہا کہ وزیراعظم کا کراچی میں آنا امن کے لیے ان کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ وزیراعظم نے پہلے روز ہی کہا تھا کہ کراچی میں جوبھی کارروائی ہوئی اس کے کپتان قائم علی شاہ ہوں گے۔ پیپلزپارٹی کے رہنما نواب علی وسان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو کپتانی کی ضرورت نہیں ہے، وہ پہلے بھی کام کررہی تھی اورآئندہ بھی کام کرتی رہے گی۔ پنجاب کے ڈنڈے کے سامنے کوئی شور نہیں کرتا جب ہم کہتے تواے این پی اورایم کیو ایم والے باتیں کرتے تھے۔ کراچی میں امن کے لیے سب کو کوششیں کرنا چاہئیں۔