مگر چلیں گے کب دوپہر تو ہوگئی ہے
باہر نکلے تو پہلے ہی سے اچھی خاصی بھیڑ کے درمیان ایک نوجوان موٹر سائیکل پر بیٹھا اسے غرا رہا تھا۔
barq@email.com
دماغ میں سوراخ کرنے والے بے پناہ شور سے ہماری آنکھ کھل گئی ... گلی میں کوئی موٹر سائیکل کو شاید مار پیٹ رہا تھا اس لیے فتنہ شور قیامت سے سارے محلے کے کان پھٹنے لگے۔
رات بھر شور رہا ہے تیرے ہمسائے میں
کس کے ارمان بھرے دل کو خدا یاد آیا
باہر نکلے تو پہلے ہی سے اچھی خاصی بھیڑ کے درمیان ایک نوجوان موٹر سائیکل پر بیٹھا اسے غرا رہا تھا۔ اکثر تو آواز اتنی بے پناہ ہو جاتی کہ تماشا کرنے والے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے۔ آخر یہ ماجرا کیا ہے، موٹر سائیکل تو اور بھی آتے جاتے رہتے ہیں لیکن اتنا شور کبھی دیکھا نہ سنا، اور یہ اپنی جگہ کھڑا کیوں ہے، جا مرتا کیوں نہیں ہے۔ قریب جانے پر پتہ چلا کہ سامنے والے گھر کا لڑکا ہے لیکن اس کے پاس تو موٹر سائیکل نہیں تھی، شاید اب خریدی ہو، لیکن یہ دونوں باتیں غلط ثابت ہوئیں، کسی دوست سے مانگ کر لایا تھا لیکن اب موٹر سائیکل آگے بڑھنے سے انکار کر رہی تھی۔ یہ ایکسلریٹر پر ایکسلریٹر دیے جا رہا تھا لیکن بے پناہ شور کے علاوہ اور کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا تھا۔
جلوہ زار آتش دوزخ ہمارا دل سہی
فتنہ شور قیامت کس کے آب و گل میں ہے
چونکہ ہم بھی اپنی جوانی میں موٹر سائیکل چلا چکے تھے، اس لیے لڑکے نے فوراً اپنا مسئلہ پیش کر دیا، اسٹارٹ بھی ہو گئی ہے گیئر بھی دے رہا ہوں ایکسیلرٹر بھی فل کر رہا ہوں لیکن چل کر نہیں دے رہی ہے۔ ہم نے موٹر سائیکل کو دور سے دیکھ کر پہچان لیا کہ یہ اس ماڈل کا ہے جن کا ایک گیئر آگے اور باقی تین پیچھے لگتے ہیں اور نیوٹرل درمیان میں ہوتا ہے۔ لڑکا اناڑی تھا صرف اسٹارٹ کرنے اور چلانے کی باتیں سیکھ لی تھیں لیکن گیئروں کی باریکی نہیں جانتا تھا ... کہ نیوٹرل درمیان میں ہے اور گاڑی اکثر نیوٹرل ہی ہو جاتی ہے۔ شاید آپ کو ایسا لگا ہو کہ یہ کیا کہانی ہوئی، جس میں نہ کوئی ٹوسٹ تھا نہ سسپنس اور نہ کلائمکس بلکہ سر سے پا تک اینٹی کلائمکس اینٹی کلائمکس تھا
بگیر طرہ مہ طلعتے و قصہ مخوان
کہ سعد و نحس زتا شیر زہرہ و زحل است
لیکن یہ سب چیزیں تو اب آنے والی ہیں اگر آپ غور سے سنیں تو آپ کے محلہ خداداد پاکستان میں گاڑیاں غرار رہی ہیں بے پناہ شور شرابا ہو رہا ہے ایکسلریٹر پر ایکسلریٹر دبایا جا رہا ہے لیکن گاڑیاں اپنی جگہ کھڑی ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ رہی ہیں۔ سواریاں بھی بیٹھ چکی ہیں، ڈرائیور اور کلینر بھی اپنی سیٹ پکڑ چکے ہیں، لیکن فلک شگاف شور کے کچھ بھی نہیں ہو رہا ہے
ایں چہ شور یست کہ در دور قمر می بینم
ہمہ آفاق پُر از فتنہ و شر می بینم
ان میں ایک بڑی گاڑی ہے اور دوسری چھوٹی گاڑی ہے۔ بڑی گاڑی کیچڑ میں پھنسی ہوئی ہے اور چھوٹی گاڑی کا گیئر پھنسا ہوا ہے۔ بدھ ازم میں بھی دو گاڑیوں کا تذکرہ ہے۔ ایک بڑی گاڑی جسے ''مہایان'' کہا جاتا ہے۔ دوسری چھوٹی گاڑی جو 'نہایاں'' ہے۔ یہ دراصل گوتم بدھ کے کئی سال بعد بدھ علماء کے دو اجتماعات کے اصطلاحی نام ہیں۔ ہماری چھوٹی بڑی گاڑیاں یعنی مہایان اور نہایان بھی آپ یوں سمجھ لیجیے کہ ایک وفاقی ہے اور دوسری صوبائی ... لیکن دونوں ہی کی حالت ایک جیسی ہے۔ بیانات کے ایکسلریٹر بے طرح دبائے جا رہے ہیں لیکن
ہر کسے روز بہی می طلبد از ایام
مشکل ایں است کہ ہر روز بترمی بینم
سواریاں بے چین ہ و رہی ہیں۔ بچے رو رہے ہیں۔ لیکن کلینر اور ڈرائیور یہی کہے جا رہے ہیں یہ چلے اور وہ چلے پھر پرانا قصہ چھیڑ دیتے ہیں کہ ہم جلدی جنت میں پہنچ جائیں۔ فردوس گم گشتہ ابھی تھوڑی دیر میں آپ کے سامنے ہو گی۔ پھل پھول سے لدے ہوئے پیڑ ہوں گے۔ دودھ اور شہد کی نہریں ہوں گی۔ عالی شان بنگلے ہوں گے جن میں حسین و جمیل ''بیرے اور بیریاں'' ہوں گی۔ عیش ہوں گے۔ یہ دبیز قالین وال ٹو وال بچھے ہوں گے۔ کچھ طلب کرنے کے لیے گھنٹی بجانے کی بھی ضرورت نہیں ہو گی۔ صرف دل میں تصور کیجیے اور نعمت حاضر
گر آج اس سے جدا ہیں تو کل بہم ہوں گے
''یہ لحظہ بھر'' کی جدائی تو کوئی بات نہیں
جو ہم سے عہد وفا استوار رکھتے ہیں
علاج گردش لیل و نہا رکھتے ہیں
اتنے میں پیچھے سے آواز آتی ہے مگر چلیں گے کب ... بس تھوڑی دیر میں چلنے والے ہیں۔ گاڑی میں کچھ پرابلم ہے وہ ٹھیک ہو جائے تو ہوا سے باتیں کرتے ہوئے جائیں گے اور پلک جھپکنے میں پہنچ جائیں گے۔ آواز آتی ہے پلک جھپکاتے جھپکاتے تو ہماری آنکھیں تھک گئیں اور کتنے کروڑ پلک جھپکائیں گے۔ کلینر بتاتا ہے کہ دراصل ٹینکی خالی ہے بندہ گیا ہوا ہے قریب ہی آئی ایم ایف کا پمپ ہے ابھی لوٹ آئے گا۔ پیچھے سے کوئی دل جلا گانے لگتا ہے
منحصر ''قرضے'' پہ ہو جس کی امید
ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے
گاڑی کے گرد بھی ایک بھیڑ جمع ہے جو ٹائروں کی اڑائی ہوئی کیچڑ میں لت پت ہو رہی ہے۔ گاڑی غرا رہی ہے۔ چھیٹنے اڑ رہے ہیں۔ پہئے گھوم رہے ہیں۔ لیکن گاڑی صرف ہل رہی ہے، چل نہیں رہی ہے۔ دراصل بھگت کبیر کی بات سچ ثابت ہو رہی ہے
رنگی کو نارنگی کہیں بنے دودھ کو کھویا
چلتی کو یہ گاڑی کہویں دیکھ کبیرا رویا
لیکن یہاں ایک کبیر نہیں اٹھارہ کروڑ کبیرے بس کے اندر رو رہے ہیں کہ جس کا نام ہی ''گاڑی'' ہے ہم اس سے ''چلنے'' کی توقع کیوں کر بیٹھے۔ معلوم نہیں اس گاڑی کو کس نے گاڑا ہے۔ کیوں گاڑا ہے۔ کب گاڑا ہے۔ لیکن پہیے کیچڑ میں گڑے ہوئے ہیں اور مزید گڑ رہے ہیں۔ یعنی ہے تو ''گاڑی'' اور دعویٰ چلنے کا ہو رہا ہے ... برعکس نہند نام زنگی کا فور ... گھر میں نہیں دانے اور ماں چلی بنانے ... گھر میں اندھیرا اور مالک کا نام روشن خان ... نام حاتم طائی اور پیشہ بھیک مانگنا
عالم غبار و مشت مجنوں ہے سر بسر
کب تک خیال طرۂ لیلیٰ کرے کوئی
خیر یہ تو بڑی گاڑی ہے جس کے چار پہئے ہیں۔ اب ذرا چھوٹی گاڑی کا پتہ لگاتے ہیں جو گزشتہ تین مہینے سے صرف غرا رہی ہے۔ کبھی تیز کبھی مدھم آواز میں ... لیکن اس کے پہیے تو ہل بھی نہیں رہے ہیں۔ خالی شور مچا ہوا ہے۔ گلی کے لوگ کانوں میں انگلیاں دیے کھڑے ہیں۔ چھتوں اور کھڑکیوں سے بھی جھانکا جھانکی ہو رہی ہے
جلوہ زار آتش دوزخ ہمارا دل سہی
''فتنہ شور قیامت'' اس کے آب و گل میں ہے
ان مشینی گاڑیوں سے تو وہ پرانے زمانے کے گدھے گھوڑے اچھے تھے جو کسی نہ کسی ترکیب سے تو سرپٹ دوڑ لیتے تھے۔ اس سلسلے میں بڑی مشہور کہانی اس گدھے والے کی ہے جس کا گدھا بیج بازار میں ڈھے گیا اور کسی بھی ترکیب سے اٹھ نہیں رہا تھا۔ لیکن اس زمانے کے لوگ بھی اچھے تھے۔ لللہ فی اللہ بھی مدد کر دیا کرتے تھے۔
تھے کتنے اچھے لوگ کہ جن کو اپنے غموں سے فرصت تھی
سب پوچھیں تھے احوال جو کوئی درد کا مارا گزرے تھا
چنانچہ ایک صاحب کرامت نے ایک کرامتی نسخے کا استعمال کیا تو گدھا اٹھ کر بھاگ اٹھا اور منٹوں میں نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ گدھے کے مالک نے بھی اسی حکیم بے مثل سے رجوع کیا کہ اب مجھے بھی وہی نسخہ دے دیجیے تا کہ میں اپنے گدھے کو پہنچ سکوں۔ لیکن ان کم بخت مشینی سواریوں پر تو ایسا کوئی نسخہ بھی کارگر نہیں ہے اس لیے گرج گرج کر صرف غرا رہی ہے اور ایک انچ بھی چل کر نہیں دے رہی ہیں۔ خاص طور پر اس چھوٹی گاڑی کا تو عجیب حال ہے جس کا نمبر K.P.K 0000 ہے اور ابھی تک اس کا میٹر بھی صفر پر ہی اٹکا ہوا ہے حالانکہ ڈرائیور یہی کہے جا رہا ہے اب چلے گا یہ چلی وہ چلی ... بس یہ دیکھو چلی ہاں چلی ... چلے گی ضرور چلے گی چلنے ہی والی ہے
چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ
ملے گی اس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ
لیکن کوئی چلے بھی تو سہی۔ کھڑے کھڑے تو صرف زندگی ہی کا سفر کٹتا ہے اور کچھ نہیں ... بقول رحمٰن بابا۔ نہ کہیں آتا ہوں نہ جاتا ہوں لیکن پھر بھی سفر جاری ہے اور عمر کا راستہ کٹتا چلا جاتا ہے۔ توقع تھی کہ اب کے جو ڈرائیور آئے ہیں بڑے جوشیلے ہیں اس گاڑی کو ''چلتی'' میں بدل دیں گے اور ہم اس جنت کی طرف گامزن ہو جائیں گے جو گذشتہ ایک صدی سے ہمیں دکھائی جا رہی ہے۔ لیکن یہ ڈرائیور بھی صرف ایکسلریٹر پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ شور قیامت اٹھا رہے ہیں اور بھیڑ جمع کر رہے ہیں۔ کھڑے کھڑے تو کچھ بھی ہونے والا نہیں۔ یہ درست ہے کہ منزل کی طرف دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے۔ لیکن وہ ''دو گام'' تو اٹھانے ہی ہوں گے۔
ساتھ دونوں کو اسی راہ پر چلنا ہو گا
عشق میں رہزن و رہبر نہیں دیکھے جاتے
رات بھر شور رہا ہے تیرے ہمسائے میں
کس کے ارمان بھرے دل کو خدا یاد آیا
باہر نکلے تو پہلے ہی سے اچھی خاصی بھیڑ کے درمیان ایک نوجوان موٹر سائیکل پر بیٹھا اسے غرا رہا تھا۔ اکثر تو آواز اتنی بے پناہ ہو جاتی کہ تماشا کرنے والے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے۔ آخر یہ ماجرا کیا ہے، موٹر سائیکل تو اور بھی آتے جاتے رہتے ہیں لیکن اتنا شور کبھی دیکھا نہ سنا، اور یہ اپنی جگہ کھڑا کیوں ہے، جا مرتا کیوں نہیں ہے۔ قریب جانے پر پتہ چلا کہ سامنے والے گھر کا لڑکا ہے لیکن اس کے پاس تو موٹر سائیکل نہیں تھی، شاید اب خریدی ہو، لیکن یہ دونوں باتیں غلط ثابت ہوئیں، کسی دوست سے مانگ کر لایا تھا لیکن اب موٹر سائیکل آگے بڑھنے سے انکار کر رہی تھی۔ یہ ایکسلریٹر پر ایکسلریٹر دیے جا رہا تھا لیکن بے پناہ شور کے علاوہ اور کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا تھا۔
جلوہ زار آتش دوزخ ہمارا دل سہی
فتنہ شور قیامت کس کے آب و گل میں ہے
چونکہ ہم بھی اپنی جوانی میں موٹر سائیکل چلا چکے تھے، اس لیے لڑکے نے فوراً اپنا مسئلہ پیش کر دیا، اسٹارٹ بھی ہو گئی ہے گیئر بھی دے رہا ہوں ایکسیلرٹر بھی فل کر رہا ہوں لیکن چل کر نہیں دے رہی ہے۔ ہم نے موٹر سائیکل کو دور سے دیکھ کر پہچان لیا کہ یہ اس ماڈل کا ہے جن کا ایک گیئر آگے اور باقی تین پیچھے لگتے ہیں اور نیوٹرل درمیان میں ہوتا ہے۔ لڑکا اناڑی تھا صرف اسٹارٹ کرنے اور چلانے کی باتیں سیکھ لی تھیں لیکن گیئروں کی باریکی نہیں جانتا تھا ... کہ نیوٹرل درمیان میں ہے اور گاڑی اکثر نیوٹرل ہی ہو جاتی ہے۔ شاید آپ کو ایسا لگا ہو کہ یہ کیا کہانی ہوئی، جس میں نہ کوئی ٹوسٹ تھا نہ سسپنس اور نہ کلائمکس بلکہ سر سے پا تک اینٹی کلائمکس اینٹی کلائمکس تھا
بگیر طرہ مہ طلعتے و قصہ مخوان
کہ سعد و نحس زتا شیر زہرہ و زحل است
لیکن یہ سب چیزیں تو اب آنے والی ہیں اگر آپ غور سے سنیں تو آپ کے محلہ خداداد پاکستان میں گاڑیاں غرار رہی ہیں بے پناہ شور شرابا ہو رہا ہے ایکسلریٹر پر ایکسلریٹر دبایا جا رہا ہے لیکن گاڑیاں اپنی جگہ کھڑی ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ رہی ہیں۔ سواریاں بھی بیٹھ چکی ہیں، ڈرائیور اور کلینر بھی اپنی سیٹ پکڑ چکے ہیں، لیکن فلک شگاف شور کے کچھ بھی نہیں ہو رہا ہے
ایں چہ شور یست کہ در دور قمر می بینم
ہمہ آفاق پُر از فتنہ و شر می بینم
ان میں ایک بڑی گاڑی ہے اور دوسری چھوٹی گاڑی ہے۔ بڑی گاڑی کیچڑ میں پھنسی ہوئی ہے اور چھوٹی گاڑی کا گیئر پھنسا ہوا ہے۔ بدھ ازم میں بھی دو گاڑیوں کا تذکرہ ہے۔ ایک بڑی گاڑی جسے ''مہایان'' کہا جاتا ہے۔ دوسری چھوٹی گاڑی جو 'نہایاں'' ہے۔ یہ دراصل گوتم بدھ کے کئی سال بعد بدھ علماء کے دو اجتماعات کے اصطلاحی نام ہیں۔ ہماری چھوٹی بڑی گاڑیاں یعنی مہایان اور نہایان بھی آپ یوں سمجھ لیجیے کہ ایک وفاقی ہے اور دوسری صوبائی ... لیکن دونوں ہی کی حالت ایک جیسی ہے۔ بیانات کے ایکسلریٹر بے طرح دبائے جا رہے ہیں لیکن
ہر کسے روز بہی می طلبد از ایام
مشکل ایں است کہ ہر روز بترمی بینم
سواریاں بے چین ہ و رہی ہیں۔ بچے رو رہے ہیں۔ لیکن کلینر اور ڈرائیور یہی کہے جا رہے ہیں یہ چلے اور وہ چلے پھر پرانا قصہ چھیڑ دیتے ہیں کہ ہم جلدی جنت میں پہنچ جائیں۔ فردوس گم گشتہ ابھی تھوڑی دیر میں آپ کے سامنے ہو گی۔ پھل پھول سے لدے ہوئے پیڑ ہوں گے۔ دودھ اور شہد کی نہریں ہوں گی۔ عالی شان بنگلے ہوں گے جن میں حسین و جمیل ''بیرے اور بیریاں'' ہوں گی۔ عیش ہوں گے۔ یہ دبیز قالین وال ٹو وال بچھے ہوں گے۔ کچھ طلب کرنے کے لیے گھنٹی بجانے کی بھی ضرورت نہیں ہو گی۔ صرف دل میں تصور کیجیے اور نعمت حاضر
گر آج اس سے جدا ہیں تو کل بہم ہوں گے
''یہ لحظہ بھر'' کی جدائی تو کوئی بات نہیں
جو ہم سے عہد وفا استوار رکھتے ہیں
علاج گردش لیل و نہا رکھتے ہیں
اتنے میں پیچھے سے آواز آتی ہے مگر چلیں گے کب ... بس تھوڑی دیر میں چلنے والے ہیں۔ گاڑی میں کچھ پرابلم ہے وہ ٹھیک ہو جائے تو ہوا سے باتیں کرتے ہوئے جائیں گے اور پلک جھپکنے میں پہنچ جائیں گے۔ آواز آتی ہے پلک جھپکاتے جھپکاتے تو ہماری آنکھیں تھک گئیں اور کتنے کروڑ پلک جھپکائیں گے۔ کلینر بتاتا ہے کہ دراصل ٹینکی خالی ہے بندہ گیا ہوا ہے قریب ہی آئی ایم ایف کا پمپ ہے ابھی لوٹ آئے گا۔ پیچھے سے کوئی دل جلا گانے لگتا ہے
منحصر ''قرضے'' پہ ہو جس کی امید
ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے
گاڑی کے گرد بھی ایک بھیڑ جمع ہے جو ٹائروں کی اڑائی ہوئی کیچڑ میں لت پت ہو رہی ہے۔ گاڑی غرا رہی ہے۔ چھیٹنے اڑ رہے ہیں۔ پہئے گھوم رہے ہیں۔ لیکن گاڑی صرف ہل رہی ہے، چل نہیں رہی ہے۔ دراصل بھگت کبیر کی بات سچ ثابت ہو رہی ہے
رنگی کو نارنگی کہیں بنے دودھ کو کھویا
چلتی کو یہ گاڑی کہویں دیکھ کبیرا رویا
لیکن یہاں ایک کبیر نہیں اٹھارہ کروڑ کبیرے بس کے اندر رو رہے ہیں کہ جس کا نام ہی ''گاڑی'' ہے ہم اس سے ''چلنے'' کی توقع کیوں کر بیٹھے۔ معلوم نہیں اس گاڑی کو کس نے گاڑا ہے۔ کیوں گاڑا ہے۔ کب گاڑا ہے۔ لیکن پہیے کیچڑ میں گڑے ہوئے ہیں اور مزید گڑ رہے ہیں۔ یعنی ہے تو ''گاڑی'' اور دعویٰ چلنے کا ہو رہا ہے ... برعکس نہند نام زنگی کا فور ... گھر میں نہیں دانے اور ماں چلی بنانے ... گھر میں اندھیرا اور مالک کا نام روشن خان ... نام حاتم طائی اور پیشہ بھیک مانگنا
عالم غبار و مشت مجنوں ہے سر بسر
کب تک خیال طرۂ لیلیٰ کرے کوئی
خیر یہ تو بڑی گاڑی ہے جس کے چار پہئے ہیں۔ اب ذرا چھوٹی گاڑی کا پتہ لگاتے ہیں جو گزشتہ تین مہینے سے صرف غرا رہی ہے۔ کبھی تیز کبھی مدھم آواز میں ... لیکن اس کے پہیے تو ہل بھی نہیں رہے ہیں۔ خالی شور مچا ہوا ہے۔ گلی کے لوگ کانوں میں انگلیاں دیے کھڑے ہیں۔ چھتوں اور کھڑکیوں سے بھی جھانکا جھانکی ہو رہی ہے
جلوہ زار آتش دوزخ ہمارا دل سہی
''فتنہ شور قیامت'' اس کے آب و گل میں ہے
ان مشینی گاڑیوں سے تو وہ پرانے زمانے کے گدھے گھوڑے اچھے تھے جو کسی نہ کسی ترکیب سے تو سرپٹ دوڑ لیتے تھے۔ اس سلسلے میں بڑی مشہور کہانی اس گدھے والے کی ہے جس کا گدھا بیج بازار میں ڈھے گیا اور کسی بھی ترکیب سے اٹھ نہیں رہا تھا۔ لیکن اس زمانے کے لوگ بھی اچھے تھے۔ لللہ فی اللہ بھی مدد کر دیا کرتے تھے۔
تھے کتنے اچھے لوگ کہ جن کو اپنے غموں سے فرصت تھی
سب پوچھیں تھے احوال جو کوئی درد کا مارا گزرے تھا
چنانچہ ایک صاحب کرامت نے ایک کرامتی نسخے کا استعمال کیا تو گدھا اٹھ کر بھاگ اٹھا اور منٹوں میں نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ گدھے کے مالک نے بھی اسی حکیم بے مثل سے رجوع کیا کہ اب مجھے بھی وہی نسخہ دے دیجیے تا کہ میں اپنے گدھے کو پہنچ سکوں۔ لیکن ان کم بخت مشینی سواریوں پر تو ایسا کوئی نسخہ بھی کارگر نہیں ہے اس لیے گرج گرج کر صرف غرا رہی ہے اور ایک انچ بھی چل کر نہیں دے رہی ہیں۔ خاص طور پر اس چھوٹی گاڑی کا تو عجیب حال ہے جس کا نمبر K.P.K 0000 ہے اور ابھی تک اس کا میٹر بھی صفر پر ہی اٹکا ہوا ہے حالانکہ ڈرائیور یہی کہے جا رہا ہے اب چلے گا یہ چلی وہ چلی ... بس یہ دیکھو چلی ہاں چلی ... چلے گی ضرور چلے گی چلنے ہی والی ہے
چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ
ملے گی اس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ
لیکن کوئی چلے بھی تو سہی۔ کھڑے کھڑے تو صرف زندگی ہی کا سفر کٹتا ہے اور کچھ نہیں ... بقول رحمٰن بابا۔ نہ کہیں آتا ہوں نہ جاتا ہوں لیکن پھر بھی سفر جاری ہے اور عمر کا راستہ کٹتا چلا جاتا ہے۔ توقع تھی کہ اب کے جو ڈرائیور آئے ہیں بڑے جوشیلے ہیں اس گاڑی کو ''چلتی'' میں بدل دیں گے اور ہم اس جنت کی طرف گامزن ہو جائیں گے جو گذشتہ ایک صدی سے ہمیں دکھائی جا رہی ہے۔ لیکن یہ ڈرائیور بھی صرف ایکسلریٹر پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ شور قیامت اٹھا رہے ہیں اور بھیڑ جمع کر رہے ہیں۔ کھڑے کھڑے تو کچھ بھی ہونے والا نہیں۔ یہ درست ہے کہ منزل کی طرف دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے۔ لیکن وہ ''دو گام'' تو اٹھانے ہی ہوں گے۔
ساتھ دونوں کو اسی راہ پر چلنا ہو گا
عشق میں رہزن و رہبر نہیں دیکھے جاتے