سندھ گورنمنٹ چلڈرن اسپتال کو انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ بنانے کا فیصلہ
جاپان کی غیر سرکاری تنظیم جائیکا کے تعاون سے2 سال میں اسپتال کی تعمیر کا کام مکمل کرلیا جائیگا، انعام اللہ دھاریجو
اسپتال 18ایکٹراراضی پر قائم ہوگا، 2 ارب روپے لاگت آئے گی، آج سیکریٹری صحت دستخط کی تقریب میں شرکت کیلیے جاپان روانہ ہونگے فوٹو: فائل
جاپان کی غیر سرکاری تنظیم جائیکا کے اشتراک سے سندھ گورنمنٹ چلڈرن اسپتال کو انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ بنایا جائے گا۔
منصوبے کے تحت 2 سال میں اسپتال کی تعمیر کا کام مکمل کرلیا جائے گا، اسپتال میں بچوںکے علاج و معالجے کیلیے213 بستر مختص کیے جائیں گے جبکہ انسٹیٹیوٹ میں تمام جدید ترین سہولتیں فراہم کی جائیں گی، اس منصوبے پردستخط کرنے کی تقریب10 ستمبرکوجاپان کے شہر ٹوکیومیں منعقدکی جائے گی جہاں حکومت سندھ کی جانب سے سیکریٹری صحت جام انعام اللہ دھاریجو دستخط کرنے کی تقریب میں شرکت کیلیے آج جاپان روانہ ہوں گے، سندھ گورنمنٹ چلڈرن اسپتال جو18ایکٹر اراضی پر قائم ہے کی وسیع اراضی بنجرز پڑی ہے۔
جس پر محکمہ صحت نے جائیکا کے اشتراک سے اسپتال کوانسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ بنانے کا منصوبہ تیارکیا ہے،2 ارب روپے کی لاگت سے اس منصوبے کو2 سال میں مکمل کرلیا جائے گا جہاں 213 بستر مختص کیے جائیں گے۔
بچوں کے علاج و معالجے اور ہرقسم کی سرجری کی سہولتیں اس اسپتال میں مہیا کی جائیں گی، انعام اللہ دھاریجو نے بتایا کہ چلڈرن اسپتال کو حکومت سندھ کے ماتحت کرنے کی سمری وزیر اعلیٰ سندھ کو بھیج دی گئی ہے، منظوری کے بعد اسپتال محکمہ صحت کے ماتحت کر دیا جائے گا اور اسپتال کو چائلڈ ہیلتھ انسٹیٹیوٹ کا درجہ بھی دیدیا جائے گا۔
جو قومی ادارہ برائے امراض اطفال کی طرز پر ہوگا، انھوں نے بتایا کہ ابھی اسپتال میں صرف50 بسترمختص ہیں تاہم جائیکا کے اشتراک سے اسپتال کو جدید ترین بچوںکا اسپتال بنا دیا جائے گا، انھوں نے کہا کہ اسپتال کی18ایکٹراراضی پر مکمل اور جامع انسٹیٹیوٹ قائم کیاجائے گا، اسپتال کی تعمیرات کیلیے ٹینڈرز10ستمبر کوجاپان میں کھولے جائیں گے جس میں بین الاقوامی کمپنیاں حصہ لیں گی، سندھ گورنمنٹ چلڈرن اسپتال 12 جولائی 2003 میں فعال کیا گیا تھا۔
منصوبے کے تحت 2 سال میں اسپتال کی تعمیر کا کام مکمل کرلیا جائے گا، اسپتال میں بچوںکے علاج و معالجے کیلیے213 بستر مختص کیے جائیں گے جبکہ انسٹیٹیوٹ میں تمام جدید ترین سہولتیں فراہم کی جائیں گی، اس منصوبے پردستخط کرنے کی تقریب10 ستمبرکوجاپان کے شہر ٹوکیومیں منعقدکی جائے گی جہاں حکومت سندھ کی جانب سے سیکریٹری صحت جام انعام اللہ دھاریجو دستخط کرنے کی تقریب میں شرکت کیلیے آج جاپان روانہ ہوں گے، سندھ گورنمنٹ چلڈرن اسپتال جو18ایکٹر اراضی پر قائم ہے کی وسیع اراضی بنجرز پڑی ہے۔
جس پر محکمہ صحت نے جائیکا کے اشتراک سے اسپتال کوانسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ بنانے کا منصوبہ تیارکیا ہے،2 ارب روپے کی لاگت سے اس منصوبے کو2 سال میں مکمل کرلیا جائے گا جہاں 213 بستر مختص کیے جائیں گے۔
بچوں کے علاج و معالجے اور ہرقسم کی سرجری کی سہولتیں اس اسپتال میں مہیا کی جائیں گی، انعام اللہ دھاریجو نے بتایا کہ چلڈرن اسپتال کو حکومت سندھ کے ماتحت کرنے کی سمری وزیر اعلیٰ سندھ کو بھیج دی گئی ہے، منظوری کے بعد اسپتال محکمہ صحت کے ماتحت کر دیا جائے گا اور اسپتال کو چائلڈ ہیلتھ انسٹیٹیوٹ کا درجہ بھی دیدیا جائے گا۔
جو قومی ادارہ برائے امراض اطفال کی طرز پر ہوگا، انھوں نے بتایا کہ ابھی اسپتال میں صرف50 بسترمختص ہیں تاہم جائیکا کے اشتراک سے اسپتال کو جدید ترین بچوںکا اسپتال بنا دیا جائے گا، انھوں نے کہا کہ اسپتال کی18ایکٹراراضی پر مکمل اور جامع انسٹیٹیوٹ قائم کیاجائے گا، اسپتال کی تعمیرات کیلیے ٹینڈرز10ستمبر کوجاپان میں کھولے جائیں گے جس میں بین الاقوامی کمپنیاں حصہ لیں گی، سندھ گورنمنٹ چلڈرن اسپتال 12 جولائی 2003 میں فعال کیا گیا تھا۔