تجاوزات کے خاتمے کیلیے رینجرز تعاون نہیں کر رہی کمشنر کراچی

نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور رینجرز کو تعاون کیلیے ہدایت دی جائیں، عدالت میں بیان

تجاوزات کے خاتمے کیلیے شہری انتظامیہ سے تعاون اورنفری بھی فراہم کی جائے،عدالت کا ڈی جی رینجرز کوحکم، سڑکوں پر قائم تجاوزات کی تفصیلات طلب فوٹو: فائل

NOWSHERA:
کمشنر کراچی نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس کی مدد سے سپرہائی وے پر سہراب گوٹھ اور اطراف سے80 فیصدتجاوزات کا خاتمہ کردیا گیا ہے، لیکن رینجرز اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے تعاون نہیں کیا جارہا۔

جسٹس ندیم اختر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے شہر کی تمام سڑکوں پر قائم تجاوزات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل رینجرز کو کے ایم سی سے تعاون اور بیک اپ فورس فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے، جمعہ کو سماعت کے موقع پرڈپٹی اٹارنی جنرل اشرف مغل،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل میران محمد شاہ، اسسٹنٹ کمشنر ذوالفقارعباسی ،ڈائریکٹر انسداد تجاوزات سیل کے ایم سی اور دیگر پیش ہوئے، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کے ریکارڈ پر کمشنر کراچی کا ایک خط پیش کیا جو 5ستمبر کو ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو لکھا گیا تھا ، خط میں دعویٰ کیا گیا ہے۔

سہراب گوٹھ سے سپرہائی وے زیرو پوائنٹ تک اوراطراف سے 80فیصد تجاوزات کا خاتمہ کردیا گیا اور بقیہ کام بھی جلد ہی مکمل کرلیا جائے گا،اس دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ بھی پیش نہیں آیا ،اس حوالے سے پولیس تو تعاون کررہی ہے مگر این ایچ اے اور رینجرز کی جانب سے تعاون نہیں کیاجارہا،انھیں اس سلسلے میں ہدایات جاری کی جائیں ،عدالت نے ڈی جی رینجرز کو ہدایت کی کہ شہری انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اورانھیں مطلوبہ نفری بھی فراہم کی جا ئے، واضح رہے کہ سہراب گوٹھ کراچی میںدہشت گردوں کے 8 گڑھوں میں سے ایک ہے، عدالت نے یکم اکتوبر تک سماعت ملتوی کرتے ہوئے شہر میں قائم تجاوزات کی فہرست پیش کرنے کی ہدایت کی۔




قبل ازیں عدالت نے حکم دیا تھا کہ سہراب گوٹھ سمیت شہر کے داخلی اور خارجی راستوں سے تجاوزات ختم کیے جائیں تاکہ عوام کی مشکلات ختم ہوسکے، ایڈیشنل رجسٹرارسندھ ہائیکورٹ حیدرآباد نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ سپرہائی وے پر تجاوزات کے باعث شدید ٹریفک جام ہوجاتا ہے،شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ٹریفک جام کے دوران جرائم پیشہ عناصر لوٹ مار کرتے ہیں، بعض اوقات ایمبولینسز بھی پھنس جاتی ہیں، گھنٹوں گاڑیوں کو راستہ نہیں ملتا ، چیف جسٹس مشیرعالم نے رپورٹ کو درخواست میں تبدیل کردیا تھا، اس سے قبل ٹریفک پولیس کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سپر ہائی وے پر زیرو پوائنٹ سے سہراب گوٹھ تک انٹرسٹی بسوں کے کاؤنٹرز،ٹھیلے اور پتھارے قائم ہیں ۔

جس کے باعث ٹریفک جام ہوجاتا ہے،الاآصف اسکوائر پر انٹرسٹی بسیں آکر رکتی ہیں جس کے باعث معمول کا ٹریفک متاثر ہوتا ہے، اگر اس علاقے میں تجاوزات کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تو امن و امان کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ، شہر میں ٹریفک کے مسائل کے حل کیلیے 2007 میں اہم اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں انٹرسٹی بس اڈوں کی بیرون شہر منتقلی سمیت کئی اہم فیصلے کیے گئے تھے، فیصلے کے مطابق پہلے مرحلے میں کوئٹہ جانے والی بسوں کا اڈہ یوسف گوٹھ منتقل ہوگیا تھا، دوسرے مرحلے میں دیگر شہروں میں جانے والی بسوں کو بھی بیرون شہر منتقل کیا جانا تھا مگر متبادل جگہ فراہم نہ کیے جانے کے سبب اس پر عمل نہیں ہوسکا، عدالت نے سہراب گوٹھ اور اطراف سے تمام تجاوزات اور پتھاروں کو ختم کرنے کا بھی حکم دیا تھا ۔
Load Next Story