افسران کی نا اہلی یوسی 15 16 بھی کچرے کا ڈھیر بن گئی
خورشید ٹاؤن میں نکاسی آب کا نظام درہم برہم، ایدھی سینٹر میں بھی گندا پانی جمع ہوگیا.
حیدرآباد:افسران کی نااہلی کے باعث بلدیہ اعلیٰ کی عمارت کے احاطے میں گندا پانی جمع ہے (فوٹو : شاہد علی / ایکسپریس)
بلدیہ اعلی حیدرآباد کے نااہل افسران کی چشم پوشی کے باعث لیاقت کالونی کے بعد اب یونین کونسل 15 اور16 کے90 فیصد علاقے کچرے کا ڈھیر بن گئے ہیں جبکہ ہر طرف گندا پانی جمع ہے، خورشید ٹاؤن میں نکاسی آب کا نظام درہم برہم ہونے کے باعث گلیوں سمیت ایدھی سینٹر میں بھی پانی جمع ہوگیا اور ایدھی فاؤنڈیشن کے رضا کاروںکو فلاحی سروسز جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے ادھر سیوریج کا پانی ایک بار پھر بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد کی عمارت میں داخل ہو گیا جس سے مین گیٹ سے عمارتٰ میں داخل ہونا محال ہے۔
اس سلسلے میں جب بلدیہ اعلیٰ میں بیک وقت چار عہدے رکھنے والے ڈائریکٹر صحت رفیق احمد راجپوت المعروف رفیق مارواڑی سے رابطہ کر کے صورتحال معلوم کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت پریٹ آباد میں ایم کیو ایم کے سیکٹر آفس میں ہیں اس لیے بات نہیں کر سکتے جب ان سے معلوم کیا گیا کہ بلدیہ اعلیٰ میں ایک بار پھر گندا پانی جمع ہو گیا ہے جبکہ حال ہی میں نالے کی گیارہ لاکھ روپے کی خطیر رقم خرچ کر کے صفائی کرائی ہے تو ڈائریکٹرموصوف نے انکار کر دیا کہ وہ ایسی کسی بھی صفائی سے لاعلم ہیں جبکہ بلدیہ کے فنانس ڈپارٹمنٹ میں سرفراز نامی ٹھیکیدار کی جانب سے چیک کے لیے متعلقہ تمام افسران کے دستخطوں سے منظوری کے بعد نوٹ شیٹ پہنچی ہوئی ہے جس میں بلدیہ کے اپنے انجینئر تک نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بلدیہ کے سامنے فوجداری روڈ پر نالے کی صفائی کرا کر کچرا نکالا گیا۔
جبکہ فوجداری روڈ پر واقع الیکڑونکس مارکیٹ کے سیکڑوں دکاندار گواہ ہے کہ دو خاکروب جو نالے سے ہلکا پھلکا گندا کچرا نکالتے ہیں۔ انہوں نے15 روز پہلے بلدیہ اعلی میں گندہ پانی جمع ہونے پر ایڈمنسٹریٹر کاشف صدیقی کی افسران پر خفگی پر صفائی کی تھی
جس پر متعلقہ افسران نے گیارہ لاکھ روپے کے بل بنا دیے اگر حقیقتاً گیارہ لاکھ روپے مالیت سے نالے کی مشنیری سے صفائی کی جاتی تو ایک بار پھر بلدیہ کی عمارت میں گندا پانی داخل نہ ہوتا۔ تاہم صحت و صفائی کے عملے کی ڈیوٹی نہ کرنے کی وجہ سے خورشید ٹاون میں صحت و صفائی کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے جس کے باعث شہری پریشانی کا شکار ہیں، لیاقت کالونی کے بعد ہالا ناکہ میں واقع خورشید ٹاؤن کے مختلف علاقوں میں نکاسی آب کا پانی سڑکوں اور وہاں موجود خالی پلاٹوں پر جمع ہے، جس سے تعفن اٹھ رہا ہے۔ دوسری جانب ڈائریکٹر صحت بلدیہ اعلیٰ کاایکسپریس سے گفتگو میں کہنا تھا کہ اس وقت پورا حیدرآباد مکمل طور پر صاف ہے کہیں کوئی کچرا نہیں اور جہاں ہے اسے بھی اٹھا لیا جائے گا۔
اس سلسلے میں جب بلدیہ اعلیٰ میں بیک وقت چار عہدے رکھنے والے ڈائریکٹر صحت رفیق احمد راجپوت المعروف رفیق مارواڑی سے رابطہ کر کے صورتحال معلوم کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت پریٹ آباد میں ایم کیو ایم کے سیکٹر آفس میں ہیں اس لیے بات نہیں کر سکتے جب ان سے معلوم کیا گیا کہ بلدیہ اعلیٰ میں ایک بار پھر گندا پانی جمع ہو گیا ہے جبکہ حال ہی میں نالے کی گیارہ لاکھ روپے کی خطیر رقم خرچ کر کے صفائی کرائی ہے تو ڈائریکٹرموصوف نے انکار کر دیا کہ وہ ایسی کسی بھی صفائی سے لاعلم ہیں جبکہ بلدیہ کے فنانس ڈپارٹمنٹ میں سرفراز نامی ٹھیکیدار کی جانب سے چیک کے لیے متعلقہ تمام افسران کے دستخطوں سے منظوری کے بعد نوٹ شیٹ پہنچی ہوئی ہے جس میں بلدیہ کے اپنے انجینئر تک نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بلدیہ کے سامنے فوجداری روڈ پر نالے کی صفائی کرا کر کچرا نکالا گیا۔
جبکہ فوجداری روڈ پر واقع الیکڑونکس مارکیٹ کے سیکڑوں دکاندار گواہ ہے کہ دو خاکروب جو نالے سے ہلکا پھلکا گندا کچرا نکالتے ہیں۔ انہوں نے15 روز پہلے بلدیہ اعلی میں گندہ پانی جمع ہونے پر ایڈمنسٹریٹر کاشف صدیقی کی افسران پر خفگی پر صفائی کی تھی
جس پر متعلقہ افسران نے گیارہ لاکھ روپے کے بل بنا دیے اگر حقیقتاً گیارہ لاکھ روپے مالیت سے نالے کی مشنیری سے صفائی کی جاتی تو ایک بار پھر بلدیہ کی عمارت میں گندا پانی داخل نہ ہوتا۔ تاہم صحت و صفائی کے عملے کی ڈیوٹی نہ کرنے کی وجہ سے خورشید ٹاون میں صحت و صفائی کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے جس کے باعث شہری پریشانی کا شکار ہیں، لیاقت کالونی کے بعد ہالا ناکہ میں واقع خورشید ٹاؤن کے مختلف علاقوں میں نکاسی آب کا پانی سڑکوں اور وہاں موجود خالی پلاٹوں پر جمع ہے، جس سے تعفن اٹھ رہا ہے۔ دوسری جانب ڈائریکٹر صحت بلدیہ اعلیٰ کاایکسپریس سے گفتگو میں کہنا تھا کہ اس وقت پورا حیدرآباد مکمل طور پر صاف ہے کہیں کوئی کچرا نہیں اور جہاں ہے اسے بھی اٹھا لیا جائے گا۔