ترقی اور امن کی تیزتر جستجو ناگزیر

بلوچستان کی سماجی اورمعاشی ترقی میں پاک فوج صوبائی حکومت کی معاونت کر رہی ہے، آرمی چیف جنرل کیانی

پاکستان کا دفاع مضبوط اور خوشحال بلوچستان میں ہے، صوبے کی سماجی اورمعاشی ترقی میں پاک فوج صوبائی حکومت کی معاونت کر رہی ہے، آرمی چیف۔ فوٹو: فائل

پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویزکیانی نے کہا ہے کہ پاکستان کا دفاع مضبوط اور خوشحال بلوچستان میں ہے، صوبے کی سماجی اورمعاشی ترقی میں پاک فوج صوبائی حکومت کی معاونت کر رہی ہے، پاک فوج دہشتگردی کے خلاف جنگ ضرور جیتے گی،فوج اور ایف سی کے زیرانتظام مختلف تعلیمی اداروں میں بلوچستان کے 20ہزارسے زائد طلبا زیرتعلیم ہیں جوصوبے اور ملک کی ترقی کے لیے نیک شگون ہے۔ ان خیالات کا اظہارانھوں نے جمعے کو یوم دفاع پاکستان پر ملٹری کالج سوئی میں یوم والدین اورکیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈکی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ، کمانڈر سدرن کمانڈ جنرل ناصرجنجوعہ، آئی جی ایف سی، چیف سیکریٹری بلوچستان اوردیگرحکام نے شرکت کی۔

بری فوج کے سربراہ کا یہ بیان نہ صرف خوش آئند اورعسکری اور سیاسی مضمرات و نتائج کے حوالے سے فکر انگیز ہے بلکہ زمینی حقائق کے تناظر میں نئے تزویراتی ڈاکٹرائن کی عکاسی کرتا ہے جس کی بنیاد مفاہمت، مکالمہ ،رابطہ اور خیر سگالی کے وسیع تر جذبات کی دو طرفہ گھلاوٹ ہے۔ اس امر میںکوئی شبہ نہیں کہ دہشت گردی کا وہ وائرس جو نائن الیون کی وجہ سے قومی سیاست ،معیشت اور سیاست و خارجہ پالیسی کی رگوں کو زہر آب کرگیا اس نے بلوچستان کو بھی سخت مصائب سے دوچار کیا ۔ماضی میںا سٹیبلشمنٹ کے غلط حکومتی اقدامات بھی ملک کے سب سے بڑے صوبہ میں بدگمانی ، بے اعتباری اورشورش و مزاحمت اور فوجی آپریشنز کا سبب بنے جب کہ جنرل مشرف کی بلوچستان کے سیاسی مسائل اس کے قبائلی دھاروں کی اصل سائیکی سے ناواقفیت نے بھی صورتحال کو اس مخدوش درجہ تک پہنچانے میں اپنا ہولناک کردار ادا کیا۔

بعد ازاں نواب اکبر بگٹی کو ہلاک کرنے کی تفخر آمیز کارروائی کی جتنی تاویلیں پیش کی گئیں، بلوچ قوم پرستانہ سیاست اسے مسترد کرتی رہی اور یوںصوبہ میں مسخ شدہ لاشوں اور لاپتا افراد کی دردناک کہانیوں کے باعث آج کا بلوچستان فلیش پوائنٹ بنا ہوا ہے۔ جنرل کیانی نے بلوچستان اور وطن عزیز کے درمیان ملکی دفاع اور اقتصادی خوشحالی کا تعلق ظاہر کرکے جمہوریت پسند رہنمائوں اور حکومت کے ارباب اختیار کو سویلین اقدامات کا راستہ دکھایا ہے۔ عسکری قیادت نے بعض اہم تعلیمی ،معاشی اورسماجی اقدامات کا انکشاف کیا ہے جس کو پیش نظر رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک کی حکومت سرمچاروں اور بیرون ملک مقیم بلوچ قوم پرست رہنمائوںسے بات چیت کے نئے امکانات کی تلاش میں جوش عمل کا مظاہرہ کرسکتی ہے۔ بلوچستان بلاشبہ اپنے معدنی وسائل اور جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے عالمی قوتوں کی ریشہ دوانیوں اور حریصانہ نگاہوں کا مرکز بنا ہوا ہے، اس لیے وزیراعظم نواز شریف کو اس ساری صورتحال کا کوئی ایسا حل جلد تلاش کرنا چاہیے کہ کسی قسم کی تاخیر بلوچستان میں سیاسی عدم استحکام کو کیش کرانے کا باعث نہ بن سکے۔

ن لیگ کے بلوچستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کے جس ایجنڈا کو لے کر ڈاکٹر مالک آگے بڑھ رہے ہیںعسکری قیادت کی خواہشات اور جنرل کیانی کا حالیہ انداز نظراس سمت میں مزید رہنمائی کا ایک معتبر اشارہ ہے۔وقت آگیا ہے کہ بات چیت کا پروگرام محض بیانات کے حصار میں نہ رہے بلکہ ہر قسم کے تحفظات سے بالاتر رہتے ہوئے بلوچستان کے عوام اور اس کے سیاست دانوں کو خیر سگالی کی بنیاد پر قائل کیا جائے کہ پاکستان اور بلوچستان لازم و ملزوم ہیں ۔ ارباب بست وکشاد اس حقیقت کو نظر انداز نہ کریں کہ بعض مغربی طاقتیں ، امریکی سیاست دان اور زیر زمیں تنظیمیں بلوچستان کی شورش کو ہوا دینے کے جتن کررہی ہیں اور پاکستانیوں کو بلوچستان کے مستقبل کے حوالے سے خوفزدہ کرنے کے نئے رڈ میپ اور خیالی نقشے تیار کرنے میں مصروف ہیں ۔


فوج کے سربراہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈھائی سال قبل جب ملٹری کالج کاافتتاح کیا گیا تھا تو اس کا مقصدبلوچستان کے اس علاقے تک نہ صرف معیاری تعلیم پہنچانا بلکہ بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل ہونے کا موقع فراہم کرنا تھا تاکہ وہ صوبے کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں ۔آرمی چیف نے کہا کہ آج اس کالج کے طلبا کی بہترین کارکردگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری منزل دور نہیں، ہمارا مستقبل انتہائی روشن اور تابناک ہے۔ جنرل کیانی نے کہا کہ آرمی انسٹی ٹیوٹ آف منرولوجی کا مقصد بلوچستان کے نوجوانوںکو بلوچستان کی معدنیات میں حصہ دار بنانا ہے تاکہ وہ صرف مزدور نہ بنیں بلکہ مختلف شعبوں میں مناسب عہدوں پرفائز ہوں۔ بلوچستان میں فوج کا ایک بھی سپاہی آپریشن میں ملوث نہیں، آپریشن صرف ایف سی، پولیس اور لیویز کرتی ہے، فوج صرف چھاؤنیوں تک محدود ہے، سوئی کالج بھی چھاؤنی کے طور پر بننا شروع ہوا بعد میں چھاؤنی کے بجائے عمدہ تعلیمی ادارہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔

پاک فوج میں بلوچستان کی نمائندگی صرف1.7 فیصد تھی جو کہ آبادی کے تناسب سے کم از کم 4 فیصد ہونی چاہیے تھی،ہم نے تناسب کے لحاظ سے نمائندگی دینے کے لیے پروگرام کا اجرا کیا اور 2010 سے 2012 تک بلوچستان سے 12 ہزار نوجوانوں کو پاک فوج میں بھرتی کیا گیا، اس طرح آج فوج میں بلوچستان کی نمائندگی دگنی یعنی 3.5 فیصد ہو گئی،وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ آج ہم مشکل حالات سے گزر رہے ہیں، ہم سب جہالت اور غربت سے نفرت کریں،غربت سے نفرت کرنا اکیسویں صدی میں ہربلوچ، ہرپاکستانی کا ایجنڈا ہونا چاہیے، بلوچستان اور پاکستان کے تمام وسائل اس عام شخص کے لیے ہیں جو فٹ پاتھ پر پھرتا ہے، میری آرمی چیف اور کالج کے انچارج سے گزارش ہے کہ ڈیرہ بگٹی کالج میں بلوچستان بھر کے بچے پڑھتے ہیں،اس کالج میں پڑھنے کا سب سے زیادہ حق ڈیرہ بگٹی کے بچوں کاہے ۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان کو مفت خوروں،کرپٹ لوگوں نے تباہ و بربادکیا ہے،یہ جو مافیا ہے ہمیں اسے ختم کرناہوگا۔ دہشت گردی کے مسئلے پر آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات کی تجویزپیش کرکے اس پراتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے جب کہ شرکاء کو سیکیورٹی اورخفیہ اداروں کے حکام موجودہ اور مستقبل کے سیکیورٹی خطرات سے آگاہ کریں گے اوراس مقصد کے لیے سیاسی قیادت کے الگ ہونیوالے سیشن میں قائل کرکے اتفاق رائے پیداکرنے کی کوشش کی جائے گی ، اگرتمام سیاسی قیادت مزاکرات کے مرکزی نقطہ پرمتفق ہوگئی تو اسے سیاسی قیادت کی منظوری کے بعدمجوزہ نیشنل سیکیورٹی پالیسی میں شامل کرکے حتمی شکل دی جائے گی۔اس اہم کانفرنس میں ڈرون حملوںکا معاملہ بھی زیرغور آئیگا۔یہ معاملہ بھی ملکی خود مختاری کے حوالے سے بنیادی اہمیت رکھتا ہے جس میں امریکا کی جارحانہ پالیسی کی وجہ سے خطے میں طالبان اور دیگر دہشت گردوں کو ڈرون حملوں کے خلاف قبائلی عوام کا مشتعل رکھنے کا جواز مل رہا ہے۔

بلوچستان میں امن اور ترقی جمہوری مکالمہ سے مشروط ہے ۔ کافی وقت ضایع ہوا ہے، دہشت گردی کا خاتمہ اب ہوجانا چاہیے۔جنرل کیانی نے یہ واضح کرکے کہ بلوچستان میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہورہا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کو فتح حاصل ہوگی عسکری قیادت کی طرف سے قومی سلامتی اور داخلی امن کی بحالی کے ایک عزم کا اظہارکیا ہے۔امید کی جانی چاہیے کہ وفاقی حکومت اور بلوچستان کی انتظامیہ حقائق کا ادراک کرتے ہوئے بلوچستان کے حوالہ سے سماجی ،تعلیمی ، تزویراتی اور سیاسی ہم آہنگی کے ساتھ ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونے کی جستجو تیز کرے گی۔
Load Next Story