جیمز اینڈ جیولری شو2013ء
ملک کی چوٹی کی ماڈلز اور اداکارائوں کے ذریعے زیورات کی نمائش کو بے حد سراہا گیا
زندہ دل لوگوں کا شہرلاہوراپنی روایتی ثقافت کے حوالے سے دنیا بھرمیں جانا جاتا ہے۔ اسی لئے تو لاہورکو فن وثقافت کا گہوارا بھی کہا جاتا ہے۔
اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ مذہبی و قومی تہوار ہوں یا کھیل کے میدان میں ملنے والی کامیابی، لاہوریے خوشی کا کوئی بھی لمحہ سادگی سے نہیں بلکہ بھرپورانداز سے مناکرہی دم لیتے ہیں اوراس کااظہار کھلے دل سے کرتے ہیں جس کی دوسری کوئی مثال نہیں ملتی۔
گزشتہ تین روز سے لاہور میں گولڈ اورڈائمنڈ سمیت دیگرقیمتی پتھروں سے بنائے گئے زیوارت کی نمائش جاری تھی ، جوآج اختتام پذیرہوجائے گی۔ نمائش میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کی کثیر تعداد میں شرکت نے اس ایونٹ کوچارچاند لگادیئے۔ ملکی حالات سب کے سامنے ہیں ، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اوردہشت گردی سمیت دوسرے واقعات اورپشاور، کوئٹہ میں بم دھماکوں کی وجہ سے صورتحال بہت کشیدہ ہوچکی ہے ، لیکن '' انٹرنیشنل جیمزاینڈ جیولری شو2013 '' کے عنوان سے ہونیوالی نمائش لاہوریوں کے لئے تاذہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوا۔
ایک طرف تونمائش میں جیولری کے معروف برانڈزکے سٹال اوروہاں رکھے گئے زیوارت تھے تو دوسری جانب ریمپ پرکیٹ واک کرتی ماڈلزجیولری اورملبوسات کے دیدہ زیب ڈیزائن متعارف کروارہی تھیں۔ اسی لئے توزندہ دل لوگ اپنی فیملیز کے ہمراہ نمائش میںدکھائی دے رہے تھے۔
5ستمبرکوشروع ہونیوالی نمائش کا افتتاح پنجاب کے صوبائی وزیرصنعت و تجارت و سرمایہ کاری چوہدری محمد شفیق نے کیا۔ اس موقع پر' ایف پی سی سی آئی ' کے زونل چیئرمین اظہر سعید بٹ اورایف پی سی سی آئی کی اسٹینڈ نگ کمیٹی برائے جیمز اینڈ جیولری انڈسٹری کے چیئرمین کاشف الرحمن، معروف بیوٹیشن عظمیٰ آفتاب، صائم علی دادا، سابق کرکٹرذوالقرنین حیدر، اداکار راشد محمود، ہدایتکار جاویدرضا، ساؤتھ ایشیئن میڈیا مینجمنٹ کی ڈائریکٹرآپریشن صدف بھٹی ، عمران راج اورایل پی جی ڈسٹری بیوٹرزایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھرسمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی کثیرتعداد موجود تھی۔
نمائش میں گولڈ اورڈائمنڈ سمیت چاندی، کندن اورقیمتی پتھروں سے تیارکردہ زیوارت رکھے گئے ہیں جوخواتین کے ساتھ مردوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ زیوارت کی نمائش کورنگا رنگ بنانے کیلئے ساؤتھ ایشیئن میڈیا مینجمنٹ ، لش بیوٹی سیلون اورکلچرل جرنلسٹ فاؤنڈیشن نے مل کردوروزہ فیشن شوکا انعقاد بھی کیا۔ اس موقع پر میزبانی کے فرائض صبا شاہد نے انجام دیئے جبکہ معروف ماڈلزمشی ملک، ارش بٹ، ریچل، تاشا بٹ، حنا، روما، علیناخان ، ماریہ کمال، عنایا شیخ، ماریہ خان ، صدف اورزریں سمیت دیگرنے ریمپ پرزیوارت کے دلکش ڈیزائن متعارف کروائے۔
چارروزہ نمائش میں جہاں معروف برانڈز کی جیولری متعارف کروائی جارہی تھی وہیں ریمپ پرماڈلز کوپرکشش دکھانے کی ذمہ داری لش بیوٹی سیلون کی روح رواں عظمیٰ آفتاب اوران کی ٹیم کی تھی۔ یہ ایک جوائنٹ پراجیکٹ تھا جس کومنفرد اورخوبصورت بنانے کے ساتھ لوگوں کوانٹرٹین کرنے کیلئے بہت سے لوگ ایک پلیٹ فارم پراکھٹے کام کررہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ زیورات کی نمائش دیکھنے اور خریداری کیلئے لوگ اپنی فیملیز کے ساتھ مقامی ہوٹل میں آرہے تھے۔
فیشن ویکس کے بعد لاہور میں یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد ایونٹ تھا جس میں پاکستانی سلمان خان کوبھی خصوصی طورپرمدعو کیا گیا تھا جنہوں نے ریمپ پرکیٹ واک کرتی ماڈلز کے ساتھ واک کی تودوسری طرف ان کی بالی وڈ کے سُپرسٹارسلمان خان اورکرینہ کپورپرعکسبند گیت ''میری فوٹوکوسینے سے یار'' پرپرفارمنس کوبہت سراہا گیا۔ سیالکوٹی نوجوان سلمان نے خوبصورتی سے بالی وڈ سٹارکوکاپی کیا۔ ان کی پرفارمنس دیکھتے ہوئے یہ محسوس نہیں ہورہا تھا کہ وہ سلمان خان نہیں ہیں۔ اس پرفارمنس کے بعد سماں اس لئے بھی دیدنی تھا کہ شومیں شریک لوگ پاکستانی سلمان خان کے ساتھ تصاویربنواتے اورآٹوگراف لیتے رہے۔
ایونٹ کے دوران ''ایکسپریس'' سے گفتگوکرتے ہوئے مہمان خصوصی صوبائی وزیر صوبائی وزیر چوہدری محمد شفیق نے کہا کہ جیمز اینڈ جیولری شو کے ذریعے پاکستانی ہنرمندوں کی صلاحیت کو اجاگر کرنے اور جیولری کے شعبے میں پاکستان کی مہارت دنیا کے سامنے پیش کرنے میں مدد ملے گی جس سے مقامی و بین الاقوامی سطح پر پاکستانی جیولری کی مارکیٹ کو وسعت دینے میں مدد ملے گی۔ اس طرح کے ایونٹس کا انعقاد بہت ضروری ہے۔
اس کے ذریعے جہاں لوگوں کو زیورات کی نئی ورائٹی کے بارے میں معلومات کا موقع ملا ہے وہیں انٹرٹینمنٹ کے پروگرام بھی لوگوں کی توجہ کامرکز بنے رہے ہیں۔ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرزایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھرنے کہاکہ دہشتگردی، مہنگائی، بے روزگاری اورلوڈشیڈنگ سمیت دیگرمسائل کی وجہ سے لوگ ڈپریشن کا شکارہورہے ہیں۔ اس لئے ایسے معیاری پروگرام لوگوںکوانٹرٹین کرنے میں مدد گارثابت ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی معیارکے ایونٹ کے انعقاد پرمیں ساؤتھ ایشیئن میڈیا مینجمنٹ کی پوری ٹیم کومبارکباد دیتا ہوںاوراس سلسلہ میں میری ہرطرح کا تعاون اس ٹیم کے ساتھ رہے گا۔
معروف بیوٹیشن عظمیٰ آفتاب نے کہا کہ میں برطانیہ میں بیوٹی سیلون چلارہی ہوں لیکن گزشتہ ایک برس سے پاکستان میں بھی میرا 'لش بیوٹی سیلون ' کام کررہا ہے۔ اس ایونٹ کو کامیاب بنانے کیلئے میری سرپرستی میں میری ٹیم نے شب وروزکام کیا ہے۔ ماڈلز کو میک اپ کرنا اورمختصر وقت میں ان کا میک اپ اورہیئرسٹائل تبدیل کرنا ایک مشکل ٹاسک ہوتا ہے مگرہم نے مل کر اس کو بڑی بخوبی نبھایا ہے اوریہی وجہ ہے کہ ماڈلز کے ساتھ ساتھ فیشن شو میں شریک ہونیوالے پروفیشنل بیوٹیشنز کی جانب سے ہمارے کام کوسراہا جانا کسی بھی ایوارڈ سے کم نہیں ہے۔
میں سمجھتی ہوں کہ اس طرح کے ایونٹس کا انعقاد ہونا موجودہ حالات میں بہت ضروری ہے۔ لوگوں کے پاس تفریح کے مواقع نہ ہونے کے برابرہیں۔ اس لئے جب ایسے بین الاقوامی معیار کے پروگرام کا انعقاد ہوگا تولوگ اس میںشرکت کرکے کچھ وقت کیلئے ہی اپنے تمام مسائل بھلا کرانٹرٹین ہونگے۔ فیشن شومیں حصہ لینی والی ماڈلزصدف بھٹی، صباشاہد، تاشابٹ، ارش بٹ، عنایاشیخ، روما، ماریہ کمال ، مشی ملک،علینہ خان اورزریں کاکہنا تھا کہ فیشن کے بدلتے رجحانات نے سب کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔ اب خواتین ہی نہیں بلکہ مرد حضرات بھی پرکشش دکھنے کیلئے خوب جتن کرتے ہیں۔
جس کا تمام ترکریڈٹ پاکستان فیشن انڈسٹری کوجاتا ہے۔ ہم نے بھی اس شوکے ذریعے جیولری کی دنیا میں متعارف ہونیوالے نئے ڈیزائن کو لوگوںتک پہنچایا ہے۔ واقعی ہی ہمارے ملک میں گولڈ، کندن، چاندی اور ڈائمنڈ سمیت دیگرقیمتی پتھروں کے ساتھ زیوارت کے منفردڈیزائن تیارکئے جارہے ہیں جن کو پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے بیشترممالک میں بھی پسند کیا جاتاہے۔
جہاں تک باس ایونٹ کی ہے توبہت منفرد شورہا اوراس کا رسپانس شرکاء کی جانب سے ملنے والی داد تھی۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس طرح کے ایونٹس لاہور، کراچی اوراسلام آباد ہی نہیں بلکہ فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان ، پشاور، کوئٹہ سمیت دیگرشہروں میں بھی ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوںکو انٹرٹین ہونے کا موقع مل سکے۔
اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ مذہبی و قومی تہوار ہوں یا کھیل کے میدان میں ملنے والی کامیابی، لاہوریے خوشی کا کوئی بھی لمحہ سادگی سے نہیں بلکہ بھرپورانداز سے مناکرہی دم لیتے ہیں اوراس کااظہار کھلے دل سے کرتے ہیں جس کی دوسری کوئی مثال نہیں ملتی۔
گزشتہ تین روز سے لاہور میں گولڈ اورڈائمنڈ سمیت دیگرقیمتی پتھروں سے بنائے گئے زیوارت کی نمائش جاری تھی ، جوآج اختتام پذیرہوجائے گی۔ نمائش میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کی کثیر تعداد میں شرکت نے اس ایونٹ کوچارچاند لگادیئے۔ ملکی حالات سب کے سامنے ہیں ، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اوردہشت گردی سمیت دوسرے واقعات اورپشاور، کوئٹہ میں بم دھماکوں کی وجہ سے صورتحال بہت کشیدہ ہوچکی ہے ، لیکن '' انٹرنیشنل جیمزاینڈ جیولری شو2013 '' کے عنوان سے ہونیوالی نمائش لاہوریوں کے لئے تاذہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوا۔
ایک طرف تونمائش میں جیولری کے معروف برانڈزکے سٹال اوروہاں رکھے گئے زیوارت تھے تو دوسری جانب ریمپ پرکیٹ واک کرتی ماڈلزجیولری اورملبوسات کے دیدہ زیب ڈیزائن متعارف کروارہی تھیں۔ اسی لئے توزندہ دل لوگ اپنی فیملیز کے ہمراہ نمائش میںدکھائی دے رہے تھے۔
5ستمبرکوشروع ہونیوالی نمائش کا افتتاح پنجاب کے صوبائی وزیرصنعت و تجارت و سرمایہ کاری چوہدری محمد شفیق نے کیا۔ اس موقع پر' ایف پی سی سی آئی ' کے زونل چیئرمین اظہر سعید بٹ اورایف پی سی سی آئی کی اسٹینڈ نگ کمیٹی برائے جیمز اینڈ جیولری انڈسٹری کے چیئرمین کاشف الرحمن، معروف بیوٹیشن عظمیٰ آفتاب، صائم علی دادا، سابق کرکٹرذوالقرنین حیدر، اداکار راشد محمود، ہدایتکار جاویدرضا، ساؤتھ ایشیئن میڈیا مینجمنٹ کی ڈائریکٹرآپریشن صدف بھٹی ، عمران راج اورایل پی جی ڈسٹری بیوٹرزایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھرسمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی کثیرتعداد موجود تھی۔
نمائش میں گولڈ اورڈائمنڈ سمیت چاندی، کندن اورقیمتی پتھروں سے تیارکردہ زیوارت رکھے گئے ہیں جوخواتین کے ساتھ مردوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ زیوارت کی نمائش کورنگا رنگ بنانے کیلئے ساؤتھ ایشیئن میڈیا مینجمنٹ ، لش بیوٹی سیلون اورکلچرل جرنلسٹ فاؤنڈیشن نے مل کردوروزہ فیشن شوکا انعقاد بھی کیا۔ اس موقع پر میزبانی کے فرائض صبا شاہد نے انجام دیئے جبکہ معروف ماڈلزمشی ملک، ارش بٹ، ریچل، تاشا بٹ، حنا، روما، علیناخان ، ماریہ کمال، عنایا شیخ، ماریہ خان ، صدف اورزریں سمیت دیگرنے ریمپ پرزیوارت کے دلکش ڈیزائن متعارف کروائے۔
چارروزہ نمائش میں جہاں معروف برانڈز کی جیولری متعارف کروائی جارہی تھی وہیں ریمپ پرماڈلز کوپرکشش دکھانے کی ذمہ داری لش بیوٹی سیلون کی روح رواں عظمیٰ آفتاب اوران کی ٹیم کی تھی۔ یہ ایک جوائنٹ پراجیکٹ تھا جس کومنفرد اورخوبصورت بنانے کے ساتھ لوگوں کوانٹرٹین کرنے کیلئے بہت سے لوگ ایک پلیٹ فارم پراکھٹے کام کررہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ زیورات کی نمائش دیکھنے اور خریداری کیلئے لوگ اپنی فیملیز کے ساتھ مقامی ہوٹل میں آرہے تھے۔
فیشن ویکس کے بعد لاہور میں یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد ایونٹ تھا جس میں پاکستانی سلمان خان کوبھی خصوصی طورپرمدعو کیا گیا تھا جنہوں نے ریمپ پرکیٹ واک کرتی ماڈلز کے ساتھ واک کی تودوسری طرف ان کی بالی وڈ کے سُپرسٹارسلمان خان اورکرینہ کپورپرعکسبند گیت ''میری فوٹوکوسینے سے یار'' پرپرفارمنس کوبہت سراہا گیا۔ سیالکوٹی نوجوان سلمان نے خوبصورتی سے بالی وڈ سٹارکوکاپی کیا۔ ان کی پرفارمنس دیکھتے ہوئے یہ محسوس نہیں ہورہا تھا کہ وہ سلمان خان نہیں ہیں۔ اس پرفارمنس کے بعد سماں اس لئے بھی دیدنی تھا کہ شومیں شریک لوگ پاکستانی سلمان خان کے ساتھ تصاویربنواتے اورآٹوگراف لیتے رہے۔
ایونٹ کے دوران ''ایکسپریس'' سے گفتگوکرتے ہوئے مہمان خصوصی صوبائی وزیر صوبائی وزیر چوہدری محمد شفیق نے کہا کہ جیمز اینڈ جیولری شو کے ذریعے پاکستانی ہنرمندوں کی صلاحیت کو اجاگر کرنے اور جیولری کے شعبے میں پاکستان کی مہارت دنیا کے سامنے پیش کرنے میں مدد ملے گی جس سے مقامی و بین الاقوامی سطح پر پاکستانی جیولری کی مارکیٹ کو وسعت دینے میں مدد ملے گی۔ اس طرح کے ایونٹس کا انعقاد بہت ضروری ہے۔
اس کے ذریعے جہاں لوگوں کو زیورات کی نئی ورائٹی کے بارے میں معلومات کا موقع ملا ہے وہیں انٹرٹینمنٹ کے پروگرام بھی لوگوں کی توجہ کامرکز بنے رہے ہیں۔ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرزایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھرنے کہاکہ دہشتگردی، مہنگائی، بے روزگاری اورلوڈشیڈنگ سمیت دیگرمسائل کی وجہ سے لوگ ڈپریشن کا شکارہورہے ہیں۔ اس لئے ایسے معیاری پروگرام لوگوںکوانٹرٹین کرنے میں مدد گارثابت ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی معیارکے ایونٹ کے انعقاد پرمیں ساؤتھ ایشیئن میڈیا مینجمنٹ کی پوری ٹیم کومبارکباد دیتا ہوںاوراس سلسلہ میں میری ہرطرح کا تعاون اس ٹیم کے ساتھ رہے گا۔
معروف بیوٹیشن عظمیٰ آفتاب نے کہا کہ میں برطانیہ میں بیوٹی سیلون چلارہی ہوں لیکن گزشتہ ایک برس سے پاکستان میں بھی میرا 'لش بیوٹی سیلون ' کام کررہا ہے۔ اس ایونٹ کو کامیاب بنانے کیلئے میری سرپرستی میں میری ٹیم نے شب وروزکام کیا ہے۔ ماڈلز کو میک اپ کرنا اورمختصر وقت میں ان کا میک اپ اورہیئرسٹائل تبدیل کرنا ایک مشکل ٹاسک ہوتا ہے مگرہم نے مل کر اس کو بڑی بخوبی نبھایا ہے اوریہی وجہ ہے کہ ماڈلز کے ساتھ ساتھ فیشن شو میں شریک ہونیوالے پروفیشنل بیوٹیشنز کی جانب سے ہمارے کام کوسراہا جانا کسی بھی ایوارڈ سے کم نہیں ہے۔
میں سمجھتی ہوں کہ اس طرح کے ایونٹس کا انعقاد ہونا موجودہ حالات میں بہت ضروری ہے۔ لوگوں کے پاس تفریح کے مواقع نہ ہونے کے برابرہیں۔ اس لئے جب ایسے بین الاقوامی معیار کے پروگرام کا انعقاد ہوگا تولوگ اس میںشرکت کرکے کچھ وقت کیلئے ہی اپنے تمام مسائل بھلا کرانٹرٹین ہونگے۔ فیشن شومیں حصہ لینی والی ماڈلزصدف بھٹی، صباشاہد، تاشابٹ، ارش بٹ، عنایاشیخ، روما، ماریہ کمال ، مشی ملک،علینہ خان اورزریں کاکہنا تھا کہ فیشن کے بدلتے رجحانات نے سب کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔ اب خواتین ہی نہیں بلکہ مرد حضرات بھی پرکشش دکھنے کیلئے خوب جتن کرتے ہیں۔
جس کا تمام ترکریڈٹ پاکستان فیشن انڈسٹری کوجاتا ہے۔ ہم نے بھی اس شوکے ذریعے جیولری کی دنیا میں متعارف ہونیوالے نئے ڈیزائن کو لوگوںتک پہنچایا ہے۔ واقعی ہی ہمارے ملک میں گولڈ، کندن، چاندی اور ڈائمنڈ سمیت دیگرقیمتی پتھروں کے ساتھ زیوارت کے منفردڈیزائن تیارکئے جارہے ہیں جن کو پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے بیشترممالک میں بھی پسند کیا جاتاہے۔
جہاں تک باس ایونٹ کی ہے توبہت منفرد شورہا اوراس کا رسپانس شرکاء کی جانب سے ملنے والی داد تھی۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس طرح کے ایونٹس لاہور، کراچی اوراسلام آباد ہی نہیں بلکہ فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان ، پشاور، کوئٹہ سمیت دیگرشہروں میں بھی ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوںکو انٹرٹین ہونے کا موقع مل سکے۔