ورلڈکپ وقار یونس گرین شرٹس کو سہل پسندی سے خبردار کرنے لگے
دیگر ٹیموں کے نتائج پر کنٹرول نہیں کیا جا سکتا،دونوں مقابلوں میں فتح پاکستان کا ہدف ہونا چاہیے، سابق کوچ
دیگر ٹیموں کے نتائج پر کنٹرول نہیں کیا جا سکتا،دونوں مقابلوں میں فتح پاکستان کا ہدف ہونا چاہیے، سابق کوچ۔ فوٹوفائل
وقار یونس گرین شرٹس کو سہل پسندی سے خبردار کرنے لگے۔
سابق ہیڈ کوچ کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کو شکست دینے کے مشکل مراحل طے کرنے کے بعد افغانستان اور بنگلہ دیش کیخلاف میچز میں بھی بہترین کرکٹ کھیلنے پر توجہ مرکوز رکھنا ہوگی، دیگر ٹیموں کے نتائج پر کنٹرول نہیں کیا جا سکتا،دونوں مقابلوں میں فتح پاکستان کا ہدف ہونا چاہیے۔
آئی سی سی کیلیے کالم میں انھوں نے تحریر کیا کہ کیویز سے میچ میں شاہین شاہ کا بولنگ میں بہترین دن تھا، یہ نوجوان پیسر کے کیریئر کا آغاز ہے،اگر وہ غلطیاں بھی کریں تو اس کیلیے تیار رہنا چاہیے، وہ سیکھ کرمزید بہتر ہوتے جائیں گے۔
وقار یونس نے کہا کہ حارث سہیل کی وجہ سے ٹیم کا توازن لوٹ آیا،بابر اعظم نے اس وقت پرفارم کیا جب پاکستان کو سخت ضرورت تھی، یہ چیز نوجوان بیٹسمین کے کیریئر کو آگے لے کر جائے گی۔
سابق ہیڈ کوچ کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کو شکست دینے کے مشکل مراحل طے کرنے کے بعد افغانستان اور بنگلہ دیش کیخلاف میچز میں بھی بہترین کرکٹ کھیلنے پر توجہ مرکوز رکھنا ہوگی، دیگر ٹیموں کے نتائج پر کنٹرول نہیں کیا جا سکتا،دونوں مقابلوں میں فتح پاکستان کا ہدف ہونا چاہیے۔
آئی سی سی کیلیے کالم میں انھوں نے تحریر کیا کہ کیویز سے میچ میں شاہین شاہ کا بولنگ میں بہترین دن تھا، یہ نوجوان پیسر کے کیریئر کا آغاز ہے،اگر وہ غلطیاں بھی کریں تو اس کیلیے تیار رہنا چاہیے، وہ سیکھ کرمزید بہتر ہوتے جائیں گے۔
وقار یونس نے کہا کہ حارث سہیل کی وجہ سے ٹیم کا توازن لوٹ آیا،بابر اعظم نے اس وقت پرفارم کیا جب پاکستان کو سخت ضرورت تھی، یہ چیز نوجوان بیٹسمین کے کیریئر کو آگے لے کر جائے گی۔