توانائی بحران سے نکالنے کیلیے یونیورسل فنڈ استعمال کرنیکی تجویز
سروس کوالٹی یقینی بنانے کے لیے جنریٹرز کے ذریعے بجلی کے متبادل انتظام پر بھاری اخراجات کا سامنا ہے، ٹیلی کام انڈسٹری
سروس کوالٹی یقینی بنانے کے لیے جنریٹرز کے ذریعے بجلی کے متبادل انتظام پر بھاری اخراجات کا سامنا ہے، ٹیلی کام انڈسٹری۔ فوٹو: فائل
ٹیلی کام انڈسٹری نے ونڈ اور سولر پاور سمیت گرین انرجی کے ذرائع اختیار کرنے پر کام شروع کردیا، یونیورسل سروس فنڈ کے ذریعے ٹیلی کام انڈسٹری کو توانائی کے بحران سے نجات دلائی جاسکتی ہے۔
بجلی کا بحران ٹیلی کام انڈسٹری کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ طویل لوڈ شیڈنگ کے سبب بجلی کے متبادل انتظام پر بھاری خرچ کی وجہ سے کمپنیوں کی آپریٹنگ لاگت میں بے حد اضافے کا سامنا ہے جس سے کمپنیوں کے منافع میں بھی نمایاں کمی واقع ہورہی ہے۔ ٹیلی کام انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق ملک بھر میں طویل لوڈشیڈنگ، تکنیکی فالٹس اوروولٹیج کی کمی کے سبب دیگر صنعتوں کی طرح ٹیلی کام انڈسٹری کو بھی سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ سروس کوالٹی یقینی بنانے کے لیے جنریٹرز کے ذریعے بجلی کے متبادل انتظام پر بھاری اخراجات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب وولٹیج کی کمی بیشی قیمتی تنصیبات اور الیکٹرانک آلات کی خرابی بھی معمول بن چکی ہے۔ موبائل ٹاورز کے لیے جنریٹر کا استعمال مہنگا ہونے کے ساتھ دشوار کن اور ماحول کے لیے بھی مضر ثابت ہورہا ہے۔
موبائل کمپنیوں نے ٹاورز کو چلانے کے لیے جنریٹرز کے استعمال کے ساتھ بیٹریاں بھی نصب کردی ہیں جو بجلی سے چارج ہونے کے بعد لوڈشیڈنگ کے دوران بیک اپ فراہم کررہی ہیں اور جنریٹرز کا استعمال بیٹری کے بعد آخری آپشن کے طور پر کیا جارہا ہے جس سے ماحول میں کاربن کے اخراج کی شرح میں بھی کسی حد تک کمی ہورہی ہے۔ شہروں میں نفوذ مکمل ہونے کے بعد اب ٹیلی کام سروس کا دائرہ کار چھوٹے شہروں اور قصبوں میں وسیع کیا جارہا ہے ان علاقوں میں نیشنل گرڈ کی عدم موجودگی بھی ٹیلی کام سروس کا دائرہ کار وسیع کرنے میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ جنریٹرز کے استعمال سے بڑھتی ہوئی لاگت، ماحولیاتی آلودگی سے بچنے کے لیے ٹیلی کام انڈسٹری تیزی کے ساتھ گرین پاور انرجی کی جانب راغب ہورہی ہے۔ٹیلی کام سیکٹر کے ماہرین کے مطابق توانائی کا بحران اور متبادل توانائی پر بلند لاگت کا مسئلہ تھری جی ٹیکنالوجی کے فروغ کی راہ میں بھی رکاوٹ بنا رہے گا جسے دور کرنے کے لیے انڈسٹری میں توانائی کے متبادل ذرائع پر بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
ٹیلی کام انڈسٹری تھری جی لائسنس کی خریداری اور انفرااسٹرکچر میں آئندہ دو سے تین سال کے دوران 4ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کررہی ہے، ٹیلی کام انڈسٹری سے متعلق غیرواضح پالیسیوں اور قدغنوں کے سبب انڈسٹری کو پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے، موجودہ صورتحال میں توانائی کے بحران کے سبب موبائل ٹاورز کو گرین انرجی پر منتقل کرنے کے لیے سرمایہ کاری کا بوجھ برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ انڈسٹری ماہرین نے ٹیلی کام انڈسٹری کو توانائی کے بحران سے نکلانے کے لیے کثیر الماقصد روڈ میپ پیش کیا ہے، اس روڈ میپ میں یونیورسل سروس فنڈ کے ذریعے ٹیلی کام انڈسٹری کو گرین انرجی پر منتقلی کی سفارش کی گئی ہے۔ یونیورسل سروس فنڈ کے ذریعے متبادل توانائی کے ذرائع کا فروغ فنڈ کی بنیادی روح کے عین مطابق ہے جس کے تحت یہ فنڈ دور دراز اور پسماندہ علاقوں تک ٹیلی کمیونی کیشن کی خدمات کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اس حوالے سے ٹیلی نار کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر Gyorgy Koller کا کہنا ہے کہ ٹیلی نار پاکستان حکومت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر گرین انرجی روڈ میپ تشکیل دینے کی خواہش مند ہے۔ ٹیلی کام انڈسٹری کی گرین انرجی پر منتقلی لوکل کمیونٹیز اور انڈسٹری دونوں کے لیے فائدہ مند ہے تاہم گرین انرجی پر منتقلی میں روڈ میپ پر عمل درآمد اور سرمایہ کاری دو بنیادی چیلنجز ثابت ہوں گے۔ بجلی کے بحران کے سبب ریونیو اور منافع میں کمی کے سبب ہائی کیپیٹل اخراجات اور نیٹ ورک میں توسیع کے ساتھ گرین انرجی کے لیے بھاری سرمایہ کاری میں مشکلات ہوں گی۔ توانائی کے روایتی ذرائع سے متبادل گرین انرجی پر منتقلی ایک طویل مدتی عمل ہوگا جس کے لیے عبوری قدم کے طور پر انڈسٹری کو ہائبرڈ سلوشنز اختیار کرنا ہوں گے تاکہ کاربن کے اخراج کی موجودہ مقدار کو کم کیا جاسکے، اس طرح توانائی کے روایتی ذرائع سے فوری طور پر ہائبرڈ سلوشنز پر منتقلی ممکن ہوگی، جس کے بعد گرین ٹیکنالوجی کی جانب قدم بڑھائے جائیں گے۔
گرین انرجی روڈ میپ تین مراحل پر مشتمل ہے پہلے مرحلے ''انرجی ایفیشنسی'' میں باکفایت توانائی کے ذرائع اختیار کیے جائیں گے جن میں بی ٹی ایس کے لیے باکفایت انرجی انفرااسٹرکچر ڈیزائن، سائٹ کو لوکیشن اور سول سسٹم ڈیولپمنٹ شامل ہیں دوسرے مرحلے ''فیول ایفیشنسی) میں بیٹری بیک اپ کا فروغ، کمرشل پاور فالٹ کی درستگی اور رئیل ٹائم انرجی منجمنٹ شامل ہیں تیسرے مرحلے'' گرین انرجی'' میں ٹیلی کام تنصیبات کو ونڈ پاور سولر پاور، فیول سیلز اور دیگر سلوشنز پر منتقل کیا جائے گا۔
بجلی کا بحران ٹیلی کام انڈسٹری کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ طویل لوڈ شیڈنگ کے سبب بجلی کے متبادل انتظام پر بھاری خرچ کی وجہ سے کمپنیوں کی آپریٹنگ لاگت میں بے حد اضافے کا سامنا ہے جس سے کمپنیوں کے منافع میں بھی نمایاں کمی واقع ہورہی ہے۔ ٹیلی کام انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق ملک بھر میں طویل لوڈشیڈنگ، تکنیکی فالٹس اوروولٹیج کی کمی کے سبب دیگر صنعتوں کی طرح ٹیلی کام انڈسٹری کو بھی سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ سروس کوالٹی یقینی بنانے کے لیے جنریٹرز کے ذریعے بجلی کے متبادل انتظام پر بھاری اخراجات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب وولٹیج کی کمی بیشی قیمتی تنصیبات اور الیکٹرانک آلات کی خرابی بھی معمول بن چکی ہے۔ موبائل ٹاورز کے لیے جنریٹر کا استعمال مہنگا ہونے کے ساتھ دشوار کن اور ماحول کے لیے بھی مضر ثابت ہورہا ہے۔
موبائل کمپنیوں نے ٹاورز کو چلانے کے لیے جنریٹرز کے استعمال کے ساتھ بیٹریاں بھی نصب کردی ہیں جو بجلی سے چارج ہونے کے بعد لوڈشیڈنگ کے دوران بیک اپ فراہم کررہی ہیں اور جنریٹرز کا استعمال بیٹری کے بعد آخری آپشن کے طور پر کیا جارہا ہے جس سے ماحول میں کاربن کے اخراج کی شرح میں بھی کسی حد تک کمی ہورہی ہے۔ شہروں میں نفوذ مکمل ہونے کے بعد اب ٹیلی کام سروس کا دائرہ کار چھوٹے شہروں اور قصبوں میں وسیع کیا جارہا ہے ان علاقوں میں نیشنل گرڈ کی عدم موجودگی بھی ٹیلی کام سروس کا دائرہ کار وسیع کرنے میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ جنریٹرز کے استعمال سے بڑھتی ہوئی لاگت، ماحولیاتی آلودگی سے بچنے کے لیے ٹیلی کام انڈسٹری تیزی کے ساتھ گرین پاور انرجی کی جانب راغب ہورہی ہے۔ٹیلی کام سیکٹر کے ماہرین کے مطابق توانائی کا بحران اور متبادل توانائی پر بلند لاگت کا مسئلہ تھری جی ٹیکنالوجی کے فروغ کی راہ میں بھی رکاوٹ بنا رہے گا جسے دور کرنے کے لیے انڈسٹری میں توانائی کے متبادل ذرائع پر بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
ٹیلی کام انڈسٹری تھری جی لائسنس کی خریداری اور انفرااسٹرکچر میں آئندہ دو سے تین سال کے دوران 4ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کررہی ہے، ٹیلی کام انڈسٹری سے متعلق غیرواضح پالیسیوں اور قدغنوں کے سبب انڈسٹری کو پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے، موجودہ صورتحال میں توانائی کے بحران کے سبب موبائل ٹاورز کو گرین انرجی پر منتقل کرنے کے لیے سرمایہ کاری کا بوجھ برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ انڈسٹری ماہرین نے ٹیلی کام انڈسٹری کو توانائی کے بحران سے نکلانے کے لیے کثیر الماقصد روڈ میپ پیش کیا ہے، اس روڈ میپ میں یونیورسل سروس فنڈ کے ذریعے ٹیلی کام انڈسٹری کو گرین انرجی پر منتقلی کی سفارش کی گئی ہے۔ یونیورسل سروس فنڈ کے ذریعے متبادل توانائی کے ذرائع کا فروغ فنڈ کی بنیادی روح کے عین مطابق ہے جس کے تحت یہ فنڈ دور دراز اور پسماندہ علاقوں تک ٹیلی کمیونی کیشن کی خدمات کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اس حوالے سے ٹیلی نار کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر Gyorgy Koller کا کہنا ہے کہ ٹیلی نار پاکستان حکومت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر گرین انرجی روڈ میپ تشکیل دینے کی خواہش مند ہے۔ ٹیلی کام انڈسٹری کی گرین انرجی پر منتقلی لوکل کمیونٹیز اور انڈسٹری دونوں کے لیے فائدہ مند ہے تاہم گرین انرجی پر منتقلی میں روڈ میپ پر عمل درآمد اور سرمایہ کاری دو بنیادی چیلنجز ثابت ہوں گے۔ بجلی کے بحران کے سبب ریونیو اور منافع میں کمی کے سبب ہائی کیپیٹل اخراجات اور نیٹ ورک میں توسیع کے ساتھ گرین انرجی کے لیے بھاری سرمایہ کاری میں مشکلات ہوں گی۔ توانائی کے روایتی ذرائع سے متبادل گرین انرجی پر منتقلی ایک طویل مدتی عمل ہوگا جس کے لیے عبوری قدم کے طور پر انڈسٹری کو ہائبرڈ سلوشنز اختیار کرنا ہوں گے تاکہ کاربن کے اخراج کی موجودہ مقدار کو کم کیا جاسکے، اس طرح توانائی کے روایتی ذرائع سے فوری طور پر ہائبرڈ سلوشنز پر منتقلی ممکن ہوگی، جس کے بعد گرین ٹیکنالوجی کی جانب قدم بڑھائے جائیں گے۔
گرین انرجی روڈ میپ تین مراحل پر مشتمل ہے پہلے مرحلے ''انرجی ایفیشنسی'' میں باکفایت توانائی کے ذرائع اختیار کیے جائیں گے جن میں بی ٹی ایس کے لیے باکفایت انرجی انفرااسٹرکچر ڈیزائن، سائٹ کو لوکیشن اور سول سسٹم ڈیولپمنٹ شامل ہیں دوسرے مرحلے ''فیول ایفیشنسی) میں بیٹری بیک اپ کا فروغ، کمرشل پاور فالٹ کی درستگی اور رئیل ٹائم انرجی منجمنٹ شامل ہیں تیسرے مرحلے'' گرین انرجی'' میں ٹیلی کام تنصیبات کو ونڈ پاور سولر پاور، فیول سیلز اور دیگر سلوشنز پر منتقل کیا جائے گا۔