معیشت ٹیکس اور حکومت
پاکستانیوں نے دبئی کی جائیدادوں کو بڑے پیمانے پر ظاہر کیا
پاکستانیوں نے دبئی کی جائیدادوں کو بڑے پیمانے پر ظاہر کیا (فوٹو: فائل)
ISLAMABAD:
حکومت معاشی بحران سے نبرد آزمائی میں مختلف پالیسیاں تشکیل دے رہی ہے' ایمنسٹی اسکیم بھی انھی پالیسیوں کا ایک تسلسل ہے جس کی مدت حکومت کے اعلان کے مطابق گزشتہ روز اتوار کو ختم ہوگئی۔ اطلاعات کے مطابق ایف بی آر کوٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے اب تک 35 ہزار لوگوں کی جانب سے1575 ارب روپے کے اثاثے ظاہر کرنے کے نتیجے میں مجموعی طور پر34 ارب روپے کا اضافی ریونیو ملا ہے تاہم اس کے باوجود ایف بی آر جون کے دوران اب تک کل350ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کر پایا ہے اور اب بھی ہدف حاصل ہونے کے بجائے ریونیو شارٹ فال کا خطرہ ہے۔ جس کے باعث ایف بی آر کے لیے رواں مالی سال 19۔2018کے لیے مقرر کردہ 4398ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ادھر وزیراعظم عمران خان نے ہفتے کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ساڑھے 19ارب ڈالر کا خسارہ ملا' معاشی بدحالی کی وجہ ملک کا یہی سب سے بڑا خسارہ ہے اور روپیہ گرنے کی بڑی وجہ منی لانڈرنگ ہے۔
حکومت کی ایمنسٹی اسکیم بظاہر کامیاب نظر آ رہی ہے' اس اسکیم کے تحت حکومت کو 350ارب روپے ٹیکس وصولی کی صورت میں فائدہ پہنچا ہے' ایف بی آر حکام کے مطابق ٹیکس ایمنسٹی میں دبئی سے اثاثے ظاہر کرنے والے سب سے آگے ہیں۔ پاکستانیوں نے دبئی کی جائیدادوں کو بڑے پیمانے پر ظاہر کیا' صورت حال یہ ہے کہ ایمنسٹی اسکیم کے آخری تین دنوں میں اثاثہ جات ظاہر کرنے والے درخواست گزاروں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا جس کے باعث ایف بی آر کا آن لائن سسٹم ہی بیٹھ گیا، اس صورت حال کے باعث تاجروں' سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کی طرف سے ٹیکس ایمنسٹی کی مدت میں تین ماہ کی توسیع کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔بعض حکومتی ارکان بھی ایسا تاثر دے رہے ہیں جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید حکومت ایمنسٹی اسکیم میں توسیع کا اعلان کردے ، بہرحال یہ پالیسی میٹر ہے اور حکومت کی صوابدید ہے کہ وہ کیا کرنا چاہتی ہے۔
ایک جانب حکومت نے ٹیکس وصولیوں کے لیے ایمنسٹی اسکیم دی تو دوسری جانب وہ پٹرول' بجلی' گیس سمیت دیگر یوٹیلٹی بلز کی قیمتوں میں وقفے وقفے سے اضافہ کر رہی ہے جن کے منفی اثرات روز مرہ کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ گراس روٹ لیول پر عام آدمی تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے ہاتھوں شدید پریشان ہو گیا ہے۔ معاملہ یہیں رکا نہیں بلکہ حکومت اب بھی پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کی ''خوشخبری'' سنا رہی ہے' معاشی بحران کے حل کے لیے حکومت سخت فیصلے ضرور کرے لیکن اس کا بوجھ عام آدمی پر نہ ڈالا جائے تو بہتر ہے۔ اس وقت سفید پوش اور درمیانے طبقے کی مالی حالت خراب ہوگئی ہے، اسے اپنا ماہانہ بجٹ بنانے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کی حالت تو انتہائی خراب ہے جس کی وجہ سے غربت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
جاگیردار' قبائلی سردار' بڑے زمیندار ، گدی نشین اور روایتی طبقے کے بااثر افراد کی ایک بڑی تعداد یا تو ٹیکس ہی ادا نہیں کرتی یا پھر ٹیکس چوری میں ملوث ہوتی ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقے تو ہر قسم کے ٹیکس سے آزاد ہیں۔ ان افراد کا رہن سہن کسی شاہانہ انداز سے کم نہیں مگر جب ٹیکس دینے کی باری آتی ہے تو یہ راہ فرار اختیار کرتے ہیں' حیرت انگیز امر یہ ہے کہ یہ اشرافیہ حکومت میں آکر تمام مراعات سے بھی مستفید ہوتی ہے۔ اگر روپے کی قیمت کی بڑی وجہ منی لانڈرنگ ہے تو حکومت کو اس کے تمام لوپ ہولز ختم کرنے کی جانب توجہ دینی چاہیے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت اپنے مخالفین پر کرپشن اور مالی بدعنوانی کے حوالے سے تو اعتراضات کر رہی ہے لیکن اگر بہ نظر غائر دیکھا جائے تو حکومت میں شریک بہت سے افراد بھی انھی الزامات کا سامنا کرتے نظر آئیں گے اور یہ کہنا پڑ جائے گا کہ
دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
معاشی مسائل تو رہے ایک طرف گلی محلوں کے مسائل حل کرنے کے لیے حکومت بلدیاتی نظام ہی درست طریقے سے رائج نہیں کر سکی۔ بلدیاتی الیکشن تو ہو گئے لیکن بلدیاتی اداروں کو عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے نہ اختیارات دیے گئے اور نہ ہی فنڈز۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ایم پی ایز اور ایم این ایز ہیں۔
صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کو بے بس کیے ہوئے ہیں۔ اب تو موجودہ حکومت نے پنجاب کے بلدیاتی ادارے ہی ختم کردیے ہیں۔کراچی سمیت بڑے شہروں کے مسائل کی جب بھی بات کی جاتی ہے تو میئرز یہی شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ان کے پاس اختیارات ہی نہیں ہیں۔ بلدیاتی ادارے جمہوریت کے استحکام کے لیے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں لہٰذا ناگزیر ہے کہ عوام کے مسائل گراس روٹ لیول پر حل کرنے کے لیے بلدیاتی اداروں کو متحرک اور موثر بنایا جائے اور پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کراکے ان اداروں کو بحال کیا جائے ۔حکومت عوام سے مختلف پالیسیوں کے تحت ٹیکس تو وصول کرنے پر زور دے رہی ہے لیکن اسے عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے تعلیمی اداروں' اسپتالوں اور سرکاری اداروں کی بہتری کی جانب بھی توجہ دینی چاہیے۔ جب عوام کو حکومتی اداروں پر اعتماد ہو گا تو وہ خود بخود ٹیکس ادا کرنے میں خوشی محسوس کریں گے۔
موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ معیشت کو بہتر بنانے کے لیے قوانین کو تاجر اور سرمایہ کار دوست بنائے ۔بیوروکریسی کے اختیارات کم سے کم کیے جائیں۔ملک کے ایسے علاقے جو قانون کی گرفت سے باہر ہیں، وہاں سے ٹیکس وصول کیے جائیں۔ خیبر پختونخوا، بلوچستان وغیرہ میں نان کسٹمز پیڈ گاڑیاں چل رہیں، ان گاڑیوں اور موٹر سائیکلز پر نمبرپلٹیس نہیں ہیں۔ حکومت کو اس حوالے سے قوانین کا نفاذ کرنا چاہیے تاکہ صوبائی اور مرکزی حکومت کے ریونیو میں اضافہ ہوسکے۔
حکومت معاشی بحران سے نبرد آزمائی میں مختلف پالیسیاں تشکیل دے رہی ہے' ایمنسٹی اسکیم بھی انھی پالیسیوں کا ایک تسلسل ہے جس کی مدت حکومت کے اعلان کے مطابق گزشتہ روز اتوار کو ختم ہوگئی۔ اطلاعات کے مطابق ایف بی آر کوٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے اب تک 35 ہزار لوگوں کی جانب سے1575 ارب روپے کے اثاثے ظاہر کرنے کے نتیجے میں مجموعی طور پر34 ارب روپے کا اضافی ریونیو ملا ہے تاہم اس کے باوجود ایف بی آر جون کے دوران اب تک کل350ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کر پایا ہے اور اب بھی ہدف حاصل ہونے کے بجائے ریونیو شارٹ فال کا خطرہ ہے۔ جس کے باعث ایف بی آر کے لیے رواں مالی سال 19۔2018کے لیے مقرر کردہ 4398ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ادھر وزیراعظم عمران خان نے ہفتے کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ساڑھے 19ارب ڈالر کا خسارہ ملا' معاشی بدحالی کی وجہ ملک کا یہی سب سے بڑا خسارہ ہے اور روپیہ گرنے کی بڑی وجہ منی لانڈرنگ ہے۔
حکومت کی ایمنسٹی اسکیم بظاہر کامیاب نظر آ رہی ہے' اس اسکیم کے تحت حکومت کو 350ارب روپے ٹیکس وصولی کی صورت میں فائدہ پہنچا ہے' ایف بی آر حکام کے مطابق ٹیکس ایمنسٹی میں دبئی سے اثاثے ظاہر کرنے والے سب سے آگے ہیں۔ پاکستانیوں نے دبئی کی جائیدادوں کو بڑے پیمانے پر ظاہر کیا' صورت حال یہ ہے کہ ایمنسٹی اسکیم کے آخری تین دنوں میں اثاثہ جات ظاہر کرنے والے درخواست گزاروں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا جس کے باعث ایف بی آر کا آن لائن سسٹم ہی بیٹھ گیا، اس صورت حال کے باعث تاجروں' سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کی طرف سے ٹیکس ایمنسٹی کی مدت میں تین ماہ کی توسیع کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔بعض حکومتی ارکان بھی ایسا تاثر دے رہے ہیں جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید حکومت ایمنسٹی اسکیم میں توسیع کا اعلان کردے ، بہرحال یہ پالیسی میٹر ہے اور حکومت کی صوابدید ہے کہ وہ کیا کرنا چاہتی ہے۔
ایک جانب حکومت نے ٹیکس وصولیوں کے لیے ایمنسٹی اسکیم دی تو دوسری جانب وہ پٹرول' بجلی' گیس سمیت دیگر یوٹیلٹی بلز کی قیمتوں میں وقفے وقفے سے اضافہ کر رہی ہے جن کے منفی اثرات روز مرہ کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ گراس روٹ لیول پر عام آدمی تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے ہاتھوں شدید پریشان ہو گیا ہے۔ معاملہ یہیں رکا نہیں بلکہ حکومت اب بھی پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کی ''خوشخبری'' سنا رہی ہے' معاشی بحران کے حل کے لیے حکومت سخت فیصلے ضرور کرے لیکن اس کا بوجھ عام آدمی پر نہ ڈالا جائے تو بہتر ہے۔ اس وقت سفید پوش اور درمیانے طبقے کی مالی حالت خراب ہوگئی ہے، اسے اپنا ماہانہ بجٹ بنانے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کی حالت تو انتہائی خراب ہے جس کی وجہ سے غربت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
جاگیردار' قبائلی سردار' بڑے زمیندار ، گدی نشین اور روایتی طبقے کے بااثر افراد کی ایک بڑی تعداد یا تو ٹیکس ہی ادا نہیں کرتی یا پھر ٹیکس چوری میں ملوث ہوتی ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقے تو ہر قسم کے ٹیکس سے آزاد ہیں۔ ان افراد کا رہن سہن کسی شاہانہ انداز سے کم نہیں مگر جب ٹیکس دینے کی باری آتی ہے تو یہ راہ فرار اختیار کرتے ہیں' حیرت انگیز امر یہ ہے کہ یہ اشرافیہ حکومت میں آکر تمام مراعات سے بھی مستفید ہوتی ہے۔ اگر روپے کی قیمت کی بڑی وجہ منی لانڈرنگ ہے تو حکومت کو اس کے تمام لوپ ہولز ختم کرنے کی جانب توجہ دینی چاہیے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت اپنے مخالفین پر کرپشن اور مالی بدعنوانی کے حوالے سے تو اعتراضات کر رہی ہے لیکن اگر بہ نظر غائر دیکھا جائے تو حکومت میں شریک بہت سے افراد بھی انھی الزامات کا سامنا کرتے نظر آئیں گے اور یہ کہنا پڑ جائے گا کہ
دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
معاشی مسائل تو رہے ایک طرف گلی محلوں کے مسائل حل کرنے کے لیے حکومت بلدیاتی نظام ہی درست طریقے سے رائج نہیں کر سکی۔ بلدیاتی الیکشن تو ہو گئے لیکن بلدیاتی اداروں کو عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے نہ اختیارات دیے گئے اور نہ ہی فنڈز۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ایم پی ایز اور ایم این ایز ہیں۔
صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کو بے بس کیے ہوئے ہیں۔ اب تو موجودہ حکومت نے پنجاب کے بلدیاتی ادارے ہی ختم کردیے ہیں۔کراچی سمیت بڑے شہروں کے مسائل کی جب بھی بات کی جاتی ہے تو میئرز یہی شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ان کے پاس اختیارات ہی نہیں ہیں۔ بلدیاتی ادارے جمہوریت کے استحکام کے لیے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں لہٰذا ناگزیر ہے کہ عوام کے مسائل گراس روٹ لیول پر حل کرنے کے لیے بلدیاتی اداروں کو متحرک اور موثر بنایا جائے اور پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کراکے ان اداروں کو بحال کیا جائے ۔حکومت عوام سے مختلف پالیسیوں کے تحت ٹیکس تو وصول کرنے پر زور دے رہی ہے لیکن اسے عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے تعلیمی اداروں' اسپتالوں اور سرکاری اداروں کی بہتری کی جانب بھی توجہ دینی چاہیے۔ جب عوام کو حکومتی اداروں پر اعتماد ہو گا تو وہ خود بخود ٹیکس ادا کرنے میں خوشی محسوس کریں گے۔
موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ معیشت کو بہتر بنانے کے لیے قوانین کو تاجر اور سرمایہ کار دوست بنائے ۔بیوروکریسی کے اختیارات کم سے کم کیے جائیں۔ملک کے ایسے علاقے جو قانون کی گرفت سے باہر ہیں، وہاں سے ٹیکس وصول کیے جائیں۔ خیبر پختونخوا، بلوچستان وغیرہ میں نان کسٹمز پیڈ گاڑیاں چل رہیں، ان گاڑیوں اور موٹر سائیکلز پر نمبرپلٹیس نہیں ہیں۔ حکومت کو اس حوالے سے قوانین کا نفاذ کرنا چاہیے تاکہ صوبائی اور مرکزی حکومت کے ریونیو میں اضافہ ہوسکے۔