میکسیکو کی سرحد کیساتھ دیوار کی تعمیر…ٹرمپ کی مشکل میں اضافہ
امریکی ریاست ایری زونا میں 5 میل کے رقبے میں دیوار کی تعمیر جاری ہے
امریکی ریاست ایری زونا میں 5 میل کے رقبے میں دیوار کی تعمیر جاری ہے۔ فوٹو: فائل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکو کی امریکا کے ساتھ ملنے والی سرحد پر دیوار بنانے کا اعلان اپنی صدارتی مہم کے دوران میں کر دیا تھا تا کہ میکسیکو سے غیر قانونی طور پر امریکا میں آنے والوں کا داخلہ مکمل طور پر بند ہو سکے۔ اس کے ساتھ ہی امریکی صدر نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اس دیوار کی تعمیر پر جو بھاری بھرکم اخراجات ہوں گے وہ بھی میکسیکو سے ہی وصول کیے جائیں گے۔ یہ دیوار امریکا کی ریاست نیو میکسیکو کی سرحد کے ساتھ ریاست کیلی فورنیا اور ایری زونا تک تعمیر کی جائے گی، اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اس دیوار کی تعمیر کے لیے 2.5 بلین (ارب) ڈالر کی رقم فوجی اخراجات کی کٹوتی کرکے حاصل کی جائے گی۔ مگر اوکلینڈ کے وفاقی جج نے صدر ٹرمپ کو دفاعی اخراجات سے اتنی بھاری رقم لینے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
اوکلینڈ کے وفاقی جج ''ہیورڈ گلیام جونڈ''نے دو قانونی مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ فوجی مقاصد کے لیے مختص رقم کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کی جا سکتی۔ گویا صدر ٹرمپ نے مجوزہ دیوار کی تعمیر میں تو کوئی کامیابی حاصل نہیں کی البتہ جس چیز کی تعمیر میں کامیابی حاصل کی ہے وہ ہے آئینی بحران کی تعمیر جس کی وجہ سے ریاست کی یکجہتی اور سالمیت کو نقصان پہنچنے کا امکان پیدا ہو جائے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وفاقی عدالت کے اس فیصلے کو اپنی توہین کے مترادف قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹرمپ نے اس فیصلے کے خلاف اپیل میں جانے کا اعلان بھی کر دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اپیل کا فیصلہ یقینا ان ہی کے حق میں ہو گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ میکسیکو کی سرحد کے ساتھ طویل دیوار مختلف مراحل میں تعمیر کی جائے گی اور یہ بھی بتایا کہ اول تو دیوار کا بہت سا حصہ پہلے ہی تعمیر کر لیا گیا ہے۔ لہٰذا اس کی تعمیر روکنے کے فیصلہ کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ دیوار کی تعمیر اعلیٰ ترجیح کا معاملہ ہے۔ نیو میکسیکو کی سرحد پر 46 میل لمبی دیوار پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے جب کہ امریکی ریاست ایری زونا میں 5 میل کے رقبے میں دیوار کی تعمیر جاری ہے۔
اس قانونی لڑائی کا ابھی اختتام نہیں ہوا۔ عدالت اگلے ہفتے صدر ٹرمپ کی اپیل کی سماعت کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے قومی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کر دیا ہے تا کہ فوج سے 6.7 بلین ڈالر کی رقم واپس لے کر دیوار کی تعمیر پر خرچ کی جائے ۔ادھر دیوار کی تعمیر کے خلاف استغاثہ دائر کرنے والوں کا موقف ہے کہ اس دیوار کی تعمیر سے ماحولیاتی ابتری پیدا ہونے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور جنگلی حیات کی کئی اقسام کے لیے غیر فطری رکاوٹ درپیش آ سکتی ہے۔ دیوار کی تعمیر کے خلاف سول لبرٹیز یونین کی طرف سے بھی استغاثہ دائر کیا گیا ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ امریکا کولینڈ آف امیگرنٹس کہا جاتا ہے۔امریکا میں سفید فام ہوں ، نیگرو ہوں یا دیگر قومیت کے لوگ ، سب تارکین وطن ہیں۔اب امریکا اپنے ملک میں آنے والے تارکین وطن کے لیے دن بدن مشکلات پیدا کررہا ہے۔
اوکلینڈ کے وفاقی جج ''ہیورڈ گلیام جونڈ''نے دو قانونی مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ فوجی مقاصد کے لیے مختص رقم کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کی جا سکتی۔ گویا صدر ٹرمپ نے مجوزہ دیوار کی تعمیر میں تو کوئی کامیابی حاصل نہیں کی البتہ جس چیز کی تعمیر میں کامیابی حاصل کی ہے وہ ہے آئینی بحران کی تعمیر جس کی وجہ سے ریاست کی یکجہتی اور سالمیت کو نقصان پہنچنے کا امکان پیدا ہو جائے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وفاقی عدالت کے اس فیصلے کو اپنی توہین کے مترادف قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹرمپ نے اس فیصلے کے خلاف اپیل میں جانے کا اعلان بھی کر دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اپیل کا فیصلہ یقینا ان ہی کے حق میں ہو گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ میکسیکو کی سرحد کے ساتھ طویل دیوار مختلف مراحل میں تعمیر کی جائے گی اور یہ بھی بتایا کہ اول تو دیوار کا بہت سا حصہ پہلے ہی تعمیر کر لیا گیا ہے۔ لہٰذا اس کی تعمیر روکنے کے فیصلہ کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ دیوار کی تعمیر اعلیٰ ترجیح کا معاملہ ہے۔ نیو میکسیکو کی سرحد پر 46 میل لمبی دیوار پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے جب کہ امریکی ریاست ایری زونا میں 5 میل کے رقبے میں دیوار کی تعمیر جاری ہے۔
اس قانونی لڑائی کا ابھی اختتام نہیں ہوا۔ عدالت اگلے ہفتے صدر ٹرمپ کی اپیل کی سماعت کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے قومی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کر دیا ہے تا کہ فوج سے 6.7 بلین ڈالر کی رقم واپس لے کر دیوار کی تعمیر پر خرچ کی جائے ۔ادھر دیوار کی تعمیر کے خلاف استغاثہ دائر کرنے والوں کا موقف ہے کہ اس دیوار کی تعمیر سے ماحولیاتی ابتری پیدا ہونے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور جنگلی حیات کی کئی اقسام کے لیے غیر فطری رکاوٹ درپیش آ سکتی ہے۔ دیوار کی تعمیر کے خلاف سول لبرٹیز یونین کی طرف سے بھی استغاثہ دائر کیا گیا ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ امریکا کولینڈ آف امیگرنٹس کہا جاتا ہے۔امریکا میں سفید فام ہوں ، نیگرو ہوں یا دیگر قومیت کے لوگ ، سب تارکین وطن ہیں۔اب امریکا اپنے ملک میں آنے والے تارکین وطن کے لیے دن بدن مشکلات پیدا کررہا ہے۔