غلام رسول اور پاکستان کی اقتصادی صورتحال
غلام رسول کو جواب ملتا ہے ابھی پاکستان کی اقتصادی صورتحال بہتر نہیں ہے، جب بھی بہتری آئے گی، اسے نوکری پر رکھ لیں گے
پاکستان کی اقتصادی صورتحال بہتر نہیں ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)
لاہور:
یورپ میں برٹش بک ایوارڈ جیتنے کے بعد یہ میرا دوسرا ایوارڈ تھا۔ میں تیس سال بعد پاکستان آرہا تھا۔ میری چوتھی اردو کتاب 'بادبان کے سایہ میں' جو پاکستان میں چھپی اور اکادمی ادبیات نے ادب کے اعلیٰ ایوارڈ کےلیے منتخب کرلی تھی۔ اگر یہ ایوارڈ یورپ و امریکا میں ملتا تو کوئی خاص بات نہ تھی۔ وہاں ہر اچھی کتاب اور اچھے موضوع کو ادبی ادارے انعام و اکرام سے نوازتے رہتے ہیں۔ مگر پاکستان میں مجھے بغیر کسی سفارش اور لابی کے ایوارڈ مل رہا تھا۔ جو میری سمجھ سے باہر تھا۔ پی آئی اے کے جہاز نے مجھے حیران کردیا، انتہائی بہترین سروس جو یورپ و امریکا کو بھی مات دے۔ پاکستانی اخبارات کا مطالعہ کیا تو دل مسرت سے سرشار ہوگیا۔ اب صحافت کا معیار بہت بلند ہوچکا تھا۔ کلر پیج اخبار میں کوئی قتل، خون خرابہ اور چوری ڈکیتی کی خبر نہ ملی۔ اک اطمینان محسوس ہوا۔ یااللہ! یہ پاکستان کو کیا ہوگیا ہے۔
ایئرپورٹ اترا۔ کینٹین سے ایک کافی مانگی۔ قیمت سو روپے سن کر ایک جھٹکا لگا۔ مجھے شک ہوا کہ یہ دو نمبر کافی ہے۔ غور سے دیکھا، پھر چسکی لگائی۔ واقعی وہ cappuccino coffee تھی۔ تمام شہر میں تجاویزات نام کو نہ تھیں۔ سڑکیں کھلی، صاف اور کشادہ۔ ٹریفک میں اک خاص بہاؤ اور تمام موٹر سائیکل والے ہیلمٹ پہنے نظر آئے۔ تمام شہر میں گرین بیلٹ تروتازہ پھول اور درخت اپنی بہار دکھا رہے تھے۔ لاتعداد درخت لگے نظر آئے۔ یوں لگا جیسے لندن یا نیویارک میں آگئے ہوں۔ جون میں بھی درجہ حرارت بہت کم تھا۔ دل بہت خوش ہوا۔
شہر میں جگہ جگہ سیف سٹی کے کیمرے نصب تھے۔ فلائی اوورز اور انڈر پاس میں میٹرو بسیں اور اورنج ٹرینیں رواں دواں تھیں۔ ایک جگہ رک کے کھانا کھایا۔ واہ...! ایسا کھانا پورپ والوں کو بھی کیا نصیب ہوگا۔ اعلیٰ درجے کی صفائی اور خالص غذا۔ پتہ چلا یہاں اب فوڈ اتھارٹی والے کسی کو نہیں چھوڑتے، جو حفظان صحت کا خیال نہ رکھے۔ چائے بھی خالص دودھ کی ملی۔ علم ہوا کہ ڈبے کے دودھ والی چائے بین ہوچکی ہے۔ شہر سے دور سرکار نے گائے بھینسوں کے باڑے بنائے ہیں، جہاں اپنی نگرانی میں تمام شہر کو دودھ سپلائی ہوتا ہے۔ پھل اور سبزیاں بھی اب ہر شہری کو ایکسپورٹ کوالٹی کی ملتی ہیں۔
میں یہ سب دیکھ کر قدرے رشک اور حسد میں آگیا۔ تیس سال یورپ میں رہتے ہوئے وہاں کے ماحول اور منظم شہری اصول اور قانون کی پابندی کے قصے پاکستان میں رہنے والے اپنے رشتے داروں اور دوستوں کو سنا سنا کر احساس کمتری میں مبتلا کرتے چلے آئے تھے۔ اب بھلا کون ہمارے جنگل میں مور ناچتے دیکھے گا۔ خیر کچھ دیر بعد وطن کی محبت مجھ پر غالب آگئی اور میں نے ملکی تعمیر و ترقی کو دل سے خوش آمدید کہا۔
راستے میں پنجاب یونیورسٹی ایک دوست پروفیسر سے ملنے جا نکلا۔ یونیورسٹی دیکھ کر چکرا گیا۔ کہیں بھی طلبا و طالبات کا گروپ نظر نہ آیا۔ نہ کوئی شور اور نہ شرابا۔ خوبصورت گراسی پلاٹس اور سایہ دار درختوں کا جھنڈ اور درمیان میں کارپٹ سڑکیں۔ دماغ میں آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیاں گھومنے لگیں۔ اطلاع ملنے پر دوست ایک گھنٹہ بعد آیا۔ غصہ تو بہت آیا کہ میں یورپ سے اسے ملنے آیا ہوں لیکن اسے میری جیسے کوئی پروا ہی نہ ہو۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ ہم لوگ وقت کی کتنی قدر کرتے ہیں۔ آتے ہی اس نے معذرت کی کہ وہ کلاس میں لیکچر دے رہا تھا۔ اور لیکچر ادھورا چھوڑ کر نہیں آسکتا تھا۔ اب وہ دور گزر گئے جب استاد اور پروفیسر اپنی مرضی سے آتے، پڑھاتے اور گپ شپ لگاتے گھروں کو لوٹ جاتے تھے۔
میں حیرت زدہ رہ گیا ''پاکستان میں یہ تبدیلیاں؟ کب سے؟'' وہ مسکرایا اور کہا ''لگتا ہے آپ پاکستان کے حالات سے بے خبر رہتے ہیں۔'' میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ ''میری جان اب اس ملک کی قسمت جاگ چکی ہے۔ تبدیلی کے نعرے نے سب بدل دیا ہے۔ لوگ اب خوشحال، امن پسند اور محب وطن ہیں۔ حکمرانوں نے عوام سے کیے وعدے پورے کردیے ہیں۔ اب تو لوگ یورپ و امریکا سے یہاں نوکری ڈھونڈنے آنے والے ہیں۔''
یہ سب سن کر خوشی سے میری روح کھل اُٹھی۔ میں تیزی سے سوچنے لگا۔ جمع، ضرب، تقسیم دماغ میں گھومنے لگے۔ تیس سال دیار غیر میں کام کرتے اب تھک چکا تھا۔ مصنوعی چکاچوند روشنیاں اور پرائے رنگ اپنا اثر اور تاثیر کھوچکے تھے۔ اپنے آباؤ اجداد اور اپنی مٹی نے میرا ہاتھ تھام لیا۔ میں نے حتمی فیصلہ کرلیا۔ ''میرے دوست! سمجھو اب میں بھی یہاں جاب کروں گا۔ میں جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں یورپی نوکری اور ان کی دولت کو۔''
گاؤں جاتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ کراچی ٹی وی کے اس پروڈیوسر کی ذرا خبر لوں جس کے ایک ٹی وی کھیل نے مجھے دیار غیر جانے پر مجبور کردیا تھا۔ یہ 1990 کی دہائی تھی جب کراچی ٹی وی سینٹر سے طویل دورانیہ کا کھیل ''غلام رسول اور پاکستان کی اقتصادی صورتحال'' نشر ہوا تھا۔ جو بہت منفرد اور اپنے انوکھے پلاٹ کی وجہ سے بہت پاپولر ہوا۔ اس ڈرامے میں لیاری کراچی کے ایک سیاہ فام باکسر اور فٹ بالر غلام رسول، جو کہ تعلیم یافتہ اور اپنے کھیلوں کی وجہ سے ملکی ایوارڈ یافتہ اور لیاری میں پاپولر ہوتا ہے۔ وہ نوکری کی تلاش میں جس بھی سرکاری دفتر جاتا ہے، افسران اس کی قابلیت، کھیلوں میں قومی سطح کے اعزازات اور پراعتماد شخصیت کی وجہ سے اس کی بہت تعریف کرتے ہیں۔ چائے، پانی، بوتل پلاتے ہیں، اسے عزت اور لائق تحسین پروٹوکول دیتے ہیں۔ آخر میں سب محکمے یہ کہہ کر مایوس کردیتے ہیں کہ ابھی پاکستان کی اقتصادی صورتحال بہتر نہیں ہے۔ جب بھی بہتری آئے گی، وہ اسے نوکری پر رکھ لیں گے۔ یوں غلام رسول آخر میں ساحل سمندر پر جاکر ڈوبتے سورج کی روشنی میں اپنی ڈگریاں پھاڑ کر سمندر میں بہادیتا ہے۔
فون ملنے پر میں نے پروڈیوسر سے کہا کہ وہ اب 90 کی دہائی کو بھول جائے اور اب وہ غلام رسول اور پاکستان کی مضبوط اقتصادی صورتحال پر ڈرامے پیش کرے۔
پروڈیوسر نے کہا ''بھولے بادشاہ! پاکستان کی مضبوط اقتصادی صورتحال پر اس وقت درجنوں ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہورہے ہیں۔ آپ ٹی وی نہیں دیکھتے؟''
یہ سن کر اچانک میری آنکھ کھلی اور پھر کھلی کی کھلی رہ گئی۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
یورپ میں برٹش بک ایوارڈ جیتنے کے بعد یہ میرا دوسرا ایوارڈ تھا۔ میں تیس سال بعد پاکستان آرہا تھا۔ میری چوتھی اردو کتاب 'بادبان کے سایہ میں' جو پاکستان میں چھپی اور اکادمی ادبیات نے ادب کے اعلیٰ ایوارڈ کےلیے منتخب کرلی تھی۔ اگر یہ ایوارڈ یورپ و امریکا میں ملتا تو کوئی خاص بات نہ تھی۔ وہاں ہر اچھی کتاب اور اچھے موضوع کو ادبی ادارے انعام و اکرام سے نوازتے رہتے ہیں۔ مگر پاکستان میں مجھے بغیر کسی سفارش اور لابی کے ایوارڈ مل رہا تھا۔ جو میری سمجھ سے باہر تھا۔ پی آئی اے کے جہاز نے مجھے حیران کردیا، انتہائی بہترین سروس جو یورپ و امریکا کو بھی مات دے۔ پاکستانی اخبارات کا مطالعہ کیا تو دل مسرت سے سرشار ہوگیا۔ اب صحافت کا معیار بہت بلند ہوچکا تھا۔ کلر پیج اخبار میں کوئی قتل، خون خرابہ اور چوری ڈکیتی کی خبر نہ ملی۔ اک اطمینان محسوس ہوا۔ یااللہ! یہ پاکستان کو کیا ہوگیا ہے۔
ایئرپورٹ اترا۔ کینٹین سے ایک کافی مانگی۔ قیمت سو روپے سن کر ایک جھٹکا لگا۔ مجھے شک ہوا کہ یہ دو نمبر کافی ہے۔ غور سے دیکھا، پھر چسکی لگائی۔ واقعی وہ cappuccino coffee تھی۔ تمام شہر میں تجاویزات نام کو نہ تھیں۔ سڑکیں کھلی، صاف اور کشادہ۔ ٹریفک میں اک خاص بہاؤ اور تمام موٹر سائیکل والے ہیلمٹ پہنے نظر آئے۔ تمام شہر میں گرین بیلٹ تروتازہ پھول اور درخت اپنی بہار دکھا رہے تھے۔ لاتعداد درخت لگے نظر آئے۔ یوں لگا جیسے لندن یا نیویارک میں آگئے ہوں۔ جون میں بھی درجہ حرارت بہت کم تھا۔ دل بہت خوش ہوا۔
شہر میں جگہ جگہ سیف سٹی کے کیمرے نصب تھے۔ فلائی اوورز اور انڈر پاس میں میٹرو بسیں اور اورنج ٹرینیں رواں دواں تھیں۔ ایک جگہ رک کے کھانا کھایا۔ واہ...! ایسا کھانا پورپ والوں کو بھی کیا نصیب ہوگا۔ اعلیٰ درجے کی صفائی اور خالص غذا۔ پتہ چلا یہاں اب فوڈ اتھارٹی والے کسی کو نہیں چھوڑتے، جو حفظان صحت کا خیال نہ رکھے۔ چائے بھی خالص دودھ کی ملی۔ علم ہوا کہ ڈبے کے دودھ والی چائے بین ہوچکی ہے۔ شہر سے دور سرکار نے گائے بھینسوں کے باڑے بنائے ہیں، جہاں اپنی نگرانی میں تمام شہر کو دودھ سپلائی ہوتا ہے۔ پھل اور سبزیاں بھی اب ہر شہری کو ایکسپورٹ کوالٹی کی ملتی ہیں۔
میں یہ سب دیکھ کر قدرے رشک اور حسد میں آگیا۔ تیس سال یورپ میں رہتے ہوئے وہاں کے ماحول اور منظم شہری اصول اور قانون کی پابندی کے قصے پاکستان میں رہنے والے اپنے رشتے داروں اور دوستوں کو سنا سنا کر احساس کمتری میں مبتلا کرتے چلے آئے تھے۔ اب بھلا کون ہمارے جنگل میں مور ناچتے دیکھے گا۔ خیر کچھ دیر بعد وطن کی محبت مجھ پر غالب آگئی اور میں نے ملکی تعمیر و ترقی کو دل سے خوش آمدید کہا۔
راستے میں پنجاب یونیورسٹی ایک دوست پروفیسر سے ملنے جا نکلا۔ یونیورسٹی دیکھ کر چکرا گیا۔ کہیں بھی طلبا و طالبات کا گروپ نظر نہ آیا۔ نہ کوئی شور اور نہ شرابا۔ خوبصورت گراسی پلاٹس اور سایہ دار درختوں کا جھنڈ اور درمیان میں کارپٹ سڑکیں۔ دماغ میں آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیاں گھومنے لگیں۔ اطلاع ملنے پر دوست ایک گھنٹہ بعد آیا۔ غصہ تو بہت آیا کہ میں یورپ سے اسے ملنے آیا ہوں لیکن اسے میری جیسے کوئی پروا ہی نہ ہو۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ ہم لوگ وقت کی کتنی قدر کرتے ہیں۔ آتے ہی اس نے معذرت کی کہ وہ کلاس میں لیکچر دے رہا تھا۔ اور لیکچر ادھورا چھوڑ کر نہیں آسکتا تھا۔ اب وہ دور گزر گئے جب استاد اور پروفیسر اپنی مرضی سے آتے، پڑھاتے اور گپ شپ لگاتے گھروں کو لوٹ جاتے تھے۔
میں حیرت زدہ رہ گیا ''پاکستان میں یہ تبدیلیاں؟ کب سے؟'' وہ مسکرایا اور کہا ''لگتا ہے آپ پاکستان کے حالات سے بے خبر رہتے ہیں۔'' میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ ''میری جان اب اس ملک کی قسمت جاگ چکی ہے۔ تبدیلی کے نعرے نے سب بدل دیا ہے۔ لوگ اب خوشحال، امن پسند اور محب وطن ہیں۔ حکمرانوں نے عوام سے کیے وعدے پورے کردیے ہیں۔ اب تو لوگ یورپ و امریکا سے یہاں نوکری ڈھونڈنے آنے والے ہیں۔''
یہ سب سن کر خوشی سے میری روح کھل اُٹھی۔ میں تیزی سے سوچنے لگا۔ جمع، ضرب، تقسیم دماغ میں گھومنے لگے۔ تیس سال دیار غیر میں کام کرتے اب تھک چکا تھا۔ مصنوعی چکاچوند روشنیاں اور پرائے رنگ اپنا اثر اور تاثیر کھوچکے تھے۔ اپنے آباؤ اجداد اور اپنی مٹی نے میرا ہاتھ تھام لیا۔ میں نے حتمی فیصلہ کرلیا۔ ''میرے دوست! سمجھو اب میں بھی یہاں جاب کروں گا۔ میں جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں یورپی نوکری اور ان کی دولت کو۔''
گاؤں جاتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ کراچی ٹی وی کے اس پروڈیوسر کی ذرا خبر لوں جس کے ایک ٹی وی کھیل نے مجھے دیار غیر جانے پر مجبور کردیا تھا۔ یہ 1990 کی دہائی تھی جب کراچی ٹی وی سینٹر سے طویل دورانیہ کا کھیل ''غلام رسول اور پاکستان کی اقتصادی صورتحال'' نشر ہوا تھا۔ جو بہت منفرد اور اپنے انوکھے پلاٹ کی وجہ سے بہت پاپولر ہوا۔ اس ڈرامے میں لیاری کراچی کے ایک سیاہ فام باکسر اور فٹ بالر غلام رسول، جو کہ تعلیم یافتہ اور اپنے کھیلوں کی وجہ سے ملکی ایوارڈ یافتہ اور لیاری میں پاپولر ہوتا ہے۔ وہ نوکری کی تلاش میں جس بھی سرکاری دفتر جاتا ہے، افسران اس کی قابلیت، کھیلوں میں قومی سطح کے اعزازات اور پراعتماد شخصیت کی وجہ سے اس کی بہت تعریف کرتے ہیں۔ چائے، پانی، بوتل پلاتے ہیں، اسے عزت اور لائق تحسین پروٹوکول دیتے ہیں۔ آخر میں سب محکمے یہ کہہ کر مایوس کردیتے ہیں کہ ابھی پاکستان کی اقتصادی صورتحال بہتر نہیں ہے۔ جب بھی بہتری آئے گی، وہ اسے نوکری پر رکھ لیں گے۔ یوں غلام رسول آخر میں ساحل سمندر پر جاکر ڈوبتے سورج کی روشنی میں اپنی ڈگریاں پھاڑ کر سمندر میں بہادیتا ہے۔
فون ملنے پر میں نے پروڈیوسر سے کہا کہ وہ اب 90 کی دہائی کو بھول جائے اور اب وہ غلام رسول اور پاکستان کی مضبوط اقتصادی صورتحال پر ڈرامے پیش کرے۔
پروڈیوسر نے کہا ''بھولے بادشاہ! پاکستان کی مضبوط اقتصادی صورتحال پر اس وقت درجنوں ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہورہے ہیں۔ آپ ٹی وی نہیں دیکھتے؟''
یہ سن کر اچانک میری آنکھ کھلی اور پھر کھلی کی کھلی رہ گئی۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔