جرمنی کا اسلام پسندوں کی جاسوسی کیلیے امریکا سے تعاون کا انکشاف
جرمن خفیہ اداروں نے جہادیوں کا ڈیٹا جمع کرنے پرسی آئی اے کی برسوں مدد کی، رپورٹ
جرمن خفیہ اداروں نے جہادیوں کا ڈیٹا جمع کرنے پرسی آئی اے کی برسوں مدد کی، رپورٹ. فوٹو: فائل
جرمنی کی خفیہ ایجنسیوں نے جرمنی میں مشتبہ جہادیوں اور ان کے حامیوں کی معلومات پر امریکی سی آئی اے سے کئی سالوں تک تعاون کیا۔
ہفت روزہ جرمن جریدے درسپیگل نے اتوارکوکسی ذریعے کاحوالہ دیے بغیرایک رپورٹ میں بتایاکہ خفیہ نام پراجیکٹ 6تحت جرمنی کی ''بی این ڈی''، Verfassungschutz انٹیلی جنس سروسزاور سی آئی اے نے جرمنی میں اسلام پسندوں اورمشتبہ دہشت گردوںکی نگرانی کی اور ان کی معلومات اکٹھی کیں۔
جریدے کے ایڈیشن میں آرٹیکل سے متعلق پریس ریلیزمیں بتایاکہ امریکی اور جرمن خفیہ اداروں نے Colongneجانے سے پہلے 2005میں مغربی قصبے Neussمیں مشترکہ طور پرعمارت کرائے پربھی لی۔درسپیگل نے بتایاکہ بی این ڈی نے معلومات کی موجودگی کی تصدیق کی لیکن کہا کہ یہ تعاون2010میں ختم کردیاگیا۔ میگزین کے مطابق ان معلومات میں جرمنی کے ایک صحافی اسٹیفن بوشن کا نام، تاریخ پیدائش اورپاسپورٹ کانمبر بھی شامل ہے جس نے یمن میں ایک عالم دین سے رابطہ کیا اور افغانستان کابھی کئی مرتبہ دورہ کیا۔
ہفت روزہ جرمن جریدے درسپیگل نے اتوارکوکسی ذریعے کاحوالہ دیے بغیرایک رپورٹ میں بتایاکہ خفیہ نام پراجیکٹ 6تحت جرمنی کی ''بی این ڈی''، Verfassungschutz انٹیلی جنس سروسزاور سی آئی اے نے جرمنی میں اسلام پسندوں اورمشتبہ دہشت گردوںکی نگرانی کی اور ان کی معلومات اکٹھی کیں۔
جریدے کے ایڈیشن میں آرٹیکل سے متعلق پریس ریلیزمیں بتایاکہ امریکی اور جرمن خفیہ اداروں نے Colongneجانے سے پہلے 2005میں مغربی قصبے Neussمیں مشترکہ طور پرعمارت کرائے پربھی لی۔درسپیگل نے بتایاکہ بی این ڈی نے معلومات کی موجودگی کی تصدیق کی لیکن کہا کہ یہ تعاون2010میں ختم کردیاگیا۔ میگزین کے مطابق ان معلومات میں جرمنی کے ایک صحافی اسٹیفن بوشن کا نام، تاریخ پیدائش اورپاسپورٹ کانمبر بھی شامل ہے جس نے یمن میں ایک عالم دین سے رابطہ کیا اور افغانستان کابھی کئی مرتبہ دورہ کیا۔