نئی سیاسی مفاہمت
سابق وفاقی حکومت چھوڑ جانے کے بعد مسلم لیگ (ن) نے تو پنجاب کو اپنا مرکز بنا لیا تھا
وزیراعظم میاں نواز شریف کی طرف سے پہلی بار اپنی آئینی مدت مکمل کرنے والے پہلے سیاسی صدر آصف علی زرداری کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے کے موقعے پر ایک خوشگوار سیاسی تبدیلی نظر آئی اور دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا اس کی توقع نہیں تھی۔ ایسی توقعات تو سال 2008 کے انتخابات کے بعد ان ہی دونوں رہنماؤں سے وابستہ کی گئی تھیں مگر چند ماہ بعد ہی دونوں کے راستے جدا ہوگئے تھے جس کی سزا قوم نے 5 سال تک ہونے والی اقرباپروری، دوست نوازی، کرپشن کی داستانوں ملک کی سب سے بڑی بھاری بھرکم کابیناؤں کے اخراجات، مہنگائی، بیروزگاری اور باہر سے لیے گئے ریکارڈ قرضوں کے بوجھ تلے آکر نہایت تکلیف دہ حالت میں بھگتی۔
سابق وفاقی حکومت چھوڑ جانے کے بعد مسلم لیگ (ن) نے تو پنجاب کو اپنا مرکز بنا لیا تھا اور وفاق، سندھ، بلوچستان اور کے پی کے میں جو ہوتا رہا اس پر (ن) لیگ نے کوئی خاص توجہ نہیں دی اور میاں برادران نے اپنی بھرپور توجہ پنجاب پر مرکوز رکھی جس کا صلہ نون لیگ کو ضرور ملا اور مسلم لیگ (ن) کے فرینڈلی اپوزیشن بنے رہنے کا فائدہ تحریک انصاف نے اٹھایا اور 2013 کے انتخابات میں وہ پنجاب کی اہم سیاسی قوت بن گئی اور ملکی سیاست میں دوسرے نمبر پر ووٹ حاصل کرنے والی جماعت کے طور پر ابھری۔ پنجاب میں ہی اصل انتخابات ہوئے اور آصف علی زرداری جو توقعات لگائے بیٹھے تھے کہ (ن) لیگ اور پی ٹی آئی کی لڑائی کا فائدہ پیپلزپارٹی کو ہوگا وہ توقعات پوری نہ ہوسکیں اور پیپلز پارٹی تو سندھ تک محدود ہوگئی اور اس کی بڑی حلیف مسلم لیگ (ق) کا تو صفایا ہی ہوگیا۔
2013 کے عام انتخابات میں ملکی سطح پر جو نتائج برآمد ہوئے اس کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) نے وفاق اور پنجاب میں اپنی واضح اکثریت سے حکومت تو بنالی مگر اس کے مقابل پی پی اور پی ٹی آئی اپوزیشن کے طور پر موجود ہیں جن کے درمیان خاصہ فاصلہ موجود ہے اور اس فاصلے کا ختم ہونا (ن) لیگ کے لیے اہم مسئلہ بن سکتا ہے۔ (ق)لیگ اپنا بچا کھچا وجود بچانے کے لیے پی پی اور پی ٹی آئی کے ساتھ چلنے پر مجبور ہے اور اگر (ن)لیگ سے ان کے فاصلے زیادہ بڑھے تو ایک مضبوط اپوزیشن وجود میں آسکتی ہے جو حکومت کا بگاڑ تو کچھ نہیں سکے گی مگر حکومت کے لیے مسائل ضرور پیدا کرتی رہے گی۔
ملک کی سیاسی صورت حال بھی عجب رنگ اختیار کرچکی ہے۔ ایم کیوایم اور جے یو آئی کے پی ٹی آئی سے فاصلے بہت بڑھ چکے ہیں اور یہ دونوں مسلم لیگ (ن) کی حمایت کر رہی ہیں۔ اے این پی اپنے صوبے تک محدود مگر پی پی کے ساتھ ہے جب کہ بلوچستان کی دو بڑی پارٹیاں (ن) لیگ کی اتحادی ہیں جب کہ فاٹا ارکان ہمیشہ وفاقی حکومت کے ساتھ رہے ہیں۔ تحریک انصاف نے مسلم لیگ (ن) کو اپنا نمبر ون حریف اور پی پی کو اپنا دوسرے نمبر کا حریف سمجھ کر انتخاب میں حصہ لیا مگر نتائج عمران خان کی سوچ کے برعکس نکلے مگر وہ کے پی کے میں حکومت بنانے میں کامیاب رہے اور اب مسلم لیگ (ن) کے پاس ملک کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب اور سب سے چھوٹا صوبہ بلوچستان ہے جب کہ پی پی کے پاس ملک کا دوسرا بڑا صوبہ سندھ اور پی ٹی آئی کے پاس تیسرا بڑا صوبہ کے پی کے ہے۔ سندھ کی دوسری بڑی جماعت متحدہ اور کے پی کے کی دوسری بڑی جماعت جے یو آئی وفاق کی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہیں اور مسلم لیگ چاہے تو مستقبل میں اپنے دونوں حلیفوں کے ساتھ مل کر سندھ سے پی پی اور کے پی کے سے پی ٹی آئی کی حکومتیں ختم کرواسکتی ہے۔
وزیر اعظم نواز شریف نے اقتدار میں آنے سے قبل ہی واضح کردیا تھا کہ وہ سندھ اور کے پی کے میں پی پی اور پی ٹی آئی کا مینڈیٹ تسلیم کرتے ہیں اور اسی لیے انھوں نے بلوچستان میں اپنی حکومت نہیں بنائی اور وہ سیاسی محاذ آرائی سے بھی گریز کر رہے ہیں جس کی ملک کو ضرورت بھی ہے۔
میاں نواز شریف اورآصف علی زرداری نے ایک بار پھر قریب آنے کی کوشش کی ہے اور آصف علی زرداری نے بھی سیاست 5 سال بعد کرنے اور نواز شریف کی قیادت میں کام کرنے کا اعلان تو کیا ہے مگر ہوتا کیا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن یہ ایک اچھی سیاسی پیش رفت ہے کیونکہ ملک سیاسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
پی پی نے اپنی باری کامیابی سے پوری کی اور اب (ن) لیگ کی باری شروع ہوگئی ہے جس کو پی پی کی اپوزیشن سے زیادہ پی ٹی آئی کی اپوزیشن مہنگی پڑتی نظر آرہی ہے۔ وفاقی حکومت نے کسی پس و پیش کے بجائے پی پی کا اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کو تسلیم کرلیا تھا اور متحدہ اگر پی ٹی آئی کے قریب آتی تو دونوں مل کر اپنا اپوزیشن لیڈر لاسکتے تھے مگر پی ٹی آئی نے (ن) لیگ کے برعکس سیاسی محاذ آرائی برقرار رکھی ہوئی ہے اور پی ٹی آئی اب تک دھاندلی دھاندلی کا شور مچا رہی ہے۔ عام انتخابات کو چار ماہ گزر گئے مگر پی ٹی آئی اب بھی انتخابی نتائج تسلیم نہیں کر رہی اس لیے وزیر اعظم نواز شریف نے پیپلزپارٹی کی طرف دوبارہ مفاہمت کا ہاتھ بڑھا دیا ہے جس کا انھیں جواب بھی معقول ملا ہے اور پی ٹی آئی پھر تنہا پرواز پر گامزن ہے اور توقع نہیں ہے کہ اس کی کے پی کے حکومت وفاق کے ساتھ مفاہمت سے چلے گی۔
سندھ حکومت اپنے صوبے میں وفاق کی کوئی مداخلت قبول نہیں کریگی اور اگر کراچی کی صورتحال وزیر اعلیٰ سندھ کی قیادت میں بہتر نہ ہوئی تو وفاق کا خاموش رہنا ممکن نہیں رہے گا۔ سندھ حکومت سے یہ توقع ہے ہی نہیں کہ وہ کراچی میں امن لے آئے گی کیونکہ جو کام وہ 5سال اپنی وفاقی حکومت ہوتے ہوئے نہیں کرسکی وہ اب وفاق میں (ن) لیگ کی حکومت ہوتے ہوئے کیسے کرسکے گی اور (ن) لیگ کو اس کا کریڈٹ کیوں لینے دے گی یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب بہت آسان ہے۔ وفاق نے اگر آصف علی زرداری کے سوئز مقدمات میں دلچسپی نہ لی۔ سابق پی پی حکومت کی بدعنوانیوں پر خاموشی برقرار رکھی اور سندھ حکومت کو من مانی جاری رکھنے دی تو میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کی نئی سیاسی مفاہمت آگے چل سکتی ہے۔ دوسری صورت میں پی پی اور پی ٹی آئی کی حکومتیں وفاق سے محاذ آرائی بڑھائیں گی جس کا نتیجہ دونوں پارٹیوں کی صوبائی حکومتوں کے خاتمے کی صورت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
سابق وفاقی حکومت چھوڑ جانے کے بعد مسلم لیگ (ن) نے تو پنجاب کو اپنا مرکز بنا لیا تھا اور وفاق، سندھ، بلوچستان اور کے پی کے میں جو ہوتا رہا اس پر (ن) لیگ نے کوئی خاص توجہ نہیں دی اور میاں برادران نے اپنی بھرپور توجہ پنجاب پر مرکوز رکھی جس کا صلہ نون لیگ کو ضرور ملا اور مسلم لیگ (ن) کے فرینڈلی اپوزیشن بنے رہنے کا فائدہ تحریک انصاف نے اٹھایا اور 2013 کے انتخابات میں وہ پنجاب کی اہم سیاسی قوت بن گئی اور ملکی سیاست میں دوسرے نمبر پر ووٹ حاصل کرنے والی جماعت کے طور پر ابھری۔ پنجاب میں ہی اصل انتخابات ہوئے اور آصف علی زرداری جو توقعات لگائے بیٹھے تھے کہ (ن) لیگ اور پی ٹی آئی کی لڑائی کا فائدہ پیپلزپارٹی کو ہوگا وہ توقعات پوری نہ ہوسکیں اور پیپلز پارٹی تو سندھ تک محدود ہوگئی اور اس کی بڑی حلیف مسلم لیگ (ق) کا تو صفایا ہی ہوگیا۔
2013 کے عام انتخابات میں ملکی سطح پر جو نتائج برآمد ہوئے اس کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) نے وفاق اور پنجاب میں اپنی واضح اکثریت سے حکومت تو بنالی مگر اس کے مقابل پی پی اور پی ٹی آئی اپوزیشن کے طور پر موجود ہیں جن کے درمیان خاصہ فاصلہ موجود ہے اور اس فاصلے کا ختم ہونا (ن) لیگ کے لیے اہم مسئلہ بن سکتا ہے۔ (ق)لیگ اپنا بچا کھچا وجود بچانے کے لیے پی پی اور پی ٹی آئی کے ساتھ چلنے پر مجبور ہے اور اگر (ن)لیگ سے ان کے فاصلے زیادہ بڑھے تو ایک مضبوط اپوزیشن وجود میں آسکتی ہے جو حکومت کا بگاڑ تو کچھ نہیں سکے گی مگر حکومت کے لیے مسائل ضرور پیدا کرتی رہے گی۔
ملک کی سیاسی صورت حال بھی عجب رنگ اختیار کرچکی ہے۔ ایم کیوایم اور جے یو آئی کے پی ٹی آئی سے فاصلے بہت بڑھ چکے ہیں اور یہ دونوں مسلم لیگ (ن) کی حمایت کر رہی ہیں۔ اے این پی اپنے صوبے تک محدود مگر پی پی کے ساتھ ہے جب کہ بلوچستان کی دو بڑی پارٹیاں (ن) لیگ کی اتحادی ہیں جب کہ فاٹا ارکان ہمیشہ وفاقی حکومت کے ساتھ رہے ہیں۔ تحریک انصاف نے مسلم لیگ (ن) کو اپنا نمبر ون حریف اور پی پی کو اپنا دوسرے نمبر کا حریف سمجھ کر انتخاب میں حصہ لیا مگر نتائج عمران خان کی سوچ کے برعکس نکلے مگر وہ کے پی کے میں حکومت بنانے میں کامیاب رہے اور اب مسلم لیگ (ن) کے پاس ملک کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب اور سب سے چھوٹا صوبہ بلوچستان ہے جب کہ پی پی کے پاس ملک کا دوسرا بڑا صوبہ سندھ اور پی ٹی آئی کے پاس تیسرا بڑا صوبہ کے پی کے ہے۔ سندھ کی دوسری بڑی جماعت متحدہ اور کے پی کے کی دوسری بڑی جماعت جے یو آئی وفاق کی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہیں اور مسلم لیگ چاہے تو مستقبل میں اپنے دونوں حلیفوں کے ساتھ مل کر سندھ سے پی پی اور کے پی کے سے پی ٹی آئی کی حکومتیں ختم کرواسکتی ہے۔
وزیر اعظم نواز شریف نے اقتدار میں آنے سے قبل ہی واضح کردیا تھا کہ وہ سندھ اور کے پی کے میں پی پی اور پی ٹی آئی کا مینڈیٹ تسلیم کرتے ہیں اور اسی لیے انھوں نے بلوچستان میں اپنی حکومت نہیں بنائی اور وہ سیاسی محاذ آرائی سے بھی گریز کر رہے ہیں جس کی ملک کو ضرورت بھی ہے۔
میاں نواز شریف اورآصف علی زرداری نے ایک بار پھر قریب آنے کی کوشش کی ہے اور آصف علی زرداری نے بھی سیاست 5 سال بعد کرنے اور نواز شریف کی قیادت میں کام کرنے کا اعلان تو کیا ہے مگر ہوتا کیا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن یہ ایک اچھی سیاسی پیش رفت ہے کیونکہ ملک سیاسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
پی پی نے اپنی باری کامیابی سے پوری کی اور اب (ن) لیگ کی باری شروع ہوگئی ہے جس کو پی پی کی اپوزیشن سے زیادہ پی ٹی آئی کی اپوزیشن مہنگی پڑتی نظر آرہی ہے۔ وفاقی حکومت نے کسی پس و پیش کے بجائے پی پی کا اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کو تسلیم کرلیا تھا اور متحدہ اگر پی ٹی آئی کے قریب آتی تو دونوں مل کر اپنا اپوزیشن لیڈر لاسکتے تھے مگر پی ٹی آئی نے (ن) لیگ کے برعکس سیاسی محاذ آرائی برقرار رکھی ہوئی ہے اور پی ٹی آئی اب تک دھاندلی دھاندلی کا شور مچا رہی ہے۔ عام انتخابات کو چار ماہ گزر گئے مگر پی ٹی آئی اب بھی انتخابی نتائج تسلیم نہیں کر رہی اس لیے وزیر اعظم نواز شریف نے پیپلزپارٹی کی طرف دوبارہ مفاہمت کا ہاتھ بڑھا دیا ہے جس کا انھیں جواب بھی معقول ملا ہے اور پی ٹی آئی پھر تنہا پرواز پر گامزن ہے اور توقع نہیں ہے کہ اس کی کے پی کے حکومت وفاق کے ساتھ مفاہمت سے چلے گی۔
سندھ حکومت اپنے صوبے میں وفاق کی کوئی مداخلت قبول نہیں کریگی اور اگر کراچی کی صورتحال وزیر اعلیٰ سندھ کی قیادت میں بہتر نہ ہوئی تو وفاق کا خاموش رہنا ممکن نہیں رہے گا۔ سندھ حکومت سے یہ توقع ہے ہی نہیں کہ وہ کراچی میں امن لے آئے گی کیونکہ جو کام وہ 5سال اپنی وفاقی حکومت ہوتے ہوئے نہیں کرسکی وہ اب وفاق میں (ن) لیگ کی حکومت ہوتے ہوئے کیسے کرسکے گی اور (ن) لیگ کو اس کا کریڈٹ کیوں لینے دے گی یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب بہت آسان ہے۔ وفاق نے اگر آصف علی زرداری کے سوئز مقدمات میں دلچسپی نہ لی۔ سابق پی پی حکومت کی بدعنوانیوں پر خاموشی برقرار رکھی اور سندھ حکومت کو من مانی جاری رکھنے دی تو میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کی نئی سیاسی مفاہمت آگے چل سکتی ہے۔ دوسری صورت میں پی پی اور پی ٹی آئی کی حکومتیں وفاق سے محاذ آرائی بڑھائیں گی جس کا نتیجہ دونوں پارٹیوں کی صوبائی حکومتوں کے خاتمے کی صورت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔