ایک ہی کاندان کے5افراد کے قاتل کو 5بار سزائے موت

فاضل عدالت نے ڈرائیور اسحاق کو ڈکیتی کے الزام میں 10برس قید اور2لاکھ روپے جرمانے کی بھی سزا سنائی

فاضل عدالت نے اسی مجرم کو ڈکیتی کے الزام میں 10برس قید اور2لاکھ روپے جرمانے کی بھی سزا سنائی. فوٹو: فائل

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی سہیل جبار ملک نے ایک ہی خاندان کے5 افراد کے قتل میں ملوث مقتولین کے سا بق ڈرائیورمحمد اسحاق کو جرم ثابت ہونے پر 5مرتبہ پھانسی اور5 لاکھ روپے مقتولین کے ورثا کو ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

فاضل عدالت نے اسی مجرم کو ڈکیتی کے الزام میں 10برس قید اور2لاکھ روپے جرمانے کی بھی سزا سنائی مجرم کو جرمانے کی عدم ادائیگی پر مزید 6ماہ قید بھگتنا ہوگی، استغاثہ کے مطابق29 فروری 2012 کو مجرم ڈکیتی کے نیت سے عسکری 3کے بنگلے میں داخل ہوا تھا اور لوٹ مار سے قبل ہی اندھیرا ہونے کے باعث مجرم کسی چیز سے ٹکرا گیا تھا جس پرمقتولہ زینب بانو باوانی جاگ گئی تھی اورمجرم کو شناخت کرلیا تھا ، مجرم نے خنجر کے وار کرکے اسے قتل کیا، مقتولہ کا شور سن کر اس کے شوہر یوسف نے بچانے کی کوشش کی تھی، مجرم نے اسے بھی قتل کیا قریب ہی اس کا بیٹا عارف جو کہ پہلے ہی جاگ رہا تھا۔

ا س کے قریب آتے ہی اسے بھی قتل کیا بعدازاں اس کی اہلیہ عالیہ اور بیٹی ردا کودوسری منزل پر جاکر قتل کیا ، طلائی زیورات موبائل فون وغیرہ لوٹ کر فرارہوگیا تھا ،اگلے روز چوکیدار نے ان کی بیٹی زیتون کو اطلاع دی کہ انکے والدین سوئے ہوئے ہیں اسکول وین بھی آچکی ہے اور ردا بھی اسکول کیلیے باہر نہیں آئی زیتون اور اس کے شوہر نے آکر دروازہ توڑا تو اندر تمام مقتولین کی لاشیں موجود تھیں فوری طور پر تھانہ صدر کو مطلع کیا گیا اور پولیس نے ضابطے کے کارروائی کے بعد لاشیں ورثا کے حوالے کردیں۔




مدعی سید عمر بن صغیر کی مدعیت میں مقدمہ درج کیاگیا تھا ، تفتیش چوکیدار اور موجودہ ڈرائیور سے کی گئی لیکن کوئی شواہد موصول نہیں ہوئے دوران تفتیش سابقہ ڈرائیور اسحاق کے آنے کا انکشاف ہوا تھا جس پر پولیس نے ملزم کو گرفتار کیا، جسے مقتولین نے 6ماہ قبل نوکری سے نکال دیا تھا، ابتدائی تفتیش میں مجرم نے جرم کا اعتراف کیا اور پولیس نے اس کے قبضے سے طلائی زیورات برآ مد کیے، پولیس نے مجرم کی نشاندہی پر آلہ قتل جیکسن کے علاقے سے برآمد کیا تھا اور اس کا الگ تھانہ جیکسن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

دریں اثناءسزا یافتہ مجرم ڈرائیور محمد اسحاق کو 7مارچ2012 کو گرفتار کیا گیاتھا ، جوڈیشل مجسٹریٹ سے 11مارچ تک جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا اسی دوران مجرم نے اعترافی بیان قلمبند کرانے کی رضامندی ظاہر کی تھی ، پولیس نے 9مارچ کو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ممتاز علی سولنگی کے روبرو پیش کیا تھا ، ملزم نے ضابطہ فوجداری کے ایکٹ 164کے تحت اقبالی بیان میں جرم قبول کیا، عدالت کو بتایا تھا وہ اپنے گاؤں گیا تھا لیکن واپسی پر اسے نوکری سے نکال دیاگیا ، وہ ڈکیتی کی نیت سے کھڑکی کے ذریعے گھر میں داخل ہوا تھا۔

لیکن مالکن بانو باوانی جاگ گئی تھی اور اسے شناخت کرلیا تھا، اس خوف سے اس نے تمام اہل خانہ کو قتل کیا اور لوٹ مار کرکے فرار ہوگیا تھا، اسی دوران ملزم سے برآمد ہونے والی طلائی چوڑیاں بھی مقتولین کے اہل خانہ نے شناخت کی تھیں اور ملزم کو بھی شناخت کیا تھا کہ وہ ان کا سابق ڈرائیور تھا جسے نوکری سے نکال دیا گیا تھا۔
Load Next Story