ایکسپریس کی خبر کا نوٹس اے آئی جی نے اہلکارکے قتل کی رپورٹ طلب کر لی
اے آئی جی ویلفیئر کو حاجی جاوید اختر کے اہلخانہ سے رابطہ کرنے کی بھی ہدایت
خبر کی اشاعت سے قبل محکمہ پولیس نے متاثرہ خاندان سے تعزیت تک نہیں کی تھی ۔ فوٹو : فائل
ایڈیشنل آئی جی کراچی نے ایکسپریس اخبار کی خبر کا نوٹس لے لیا۔
انھوں نے اے آئی جی ویلفیئر کو فوری طور پر پاکستان بازار تھانے کی حدود میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنائے جانے والے پولیس اہلکار کے اہلخانہ سے رابطہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی، تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام قادر تھیبو نے ایکسپریس اخبار کی خبر پر نوٹس لیتے ہوئے اے آئی جی ویلفیئر نوشابہ کوثر کو فوری طور پر پاکستان بازار تھانے کی حدود میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنائے جانے والے پولیس اہلکار حاجی جاوید اختر کے اہلخانہ سے رابطہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
واضح رہے کہ 4 ستمبر کو ماڑی پور تھانے سے پاکستان بازار تھانے جاتے ہوئے پولیس اہلکار حاجی جاوید کو اورنگی ٹائون کے علاقے گلشن بہار جوہر چوک میں نجی اسکول کے قریب ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا تھا، مقتول پولیس اہلکار گھر کا واحد کفیل اور3 بچوں کا باپ تھا، واقعے کے کئی روز گزر جانے کے باوجود محکمہ سندھ پولیس کی جانب سے متاثرہ خاندان سے رابطہ کیا گیا نہ ہی واقعے سے متعلق کسی قسم کی تعزیت کی گئی تھی جبکہ مقتول اہلکار کے ورثا کے لیے کسی قسم کے معاوضہ کا اعلان تک نہیں کیا گیا تھا، اس کے باعث مقتول اہلکار کے اہلخانہ معالی پریشانیوں کے ساتھ ساتھ شدید ذہنی اذیت اور مشکلات سے دو چار ہو گئے تھے۔
انھوں نے اے آئی جی ویلفیئر کو فوری طور پر پاکستان بازار تھانے کی حدود میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنائے جانے والے پولیس اہلکار کے اہلخانہ سے رابطہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی، تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام قادر تھیبو نے ایکسپریس اخبار کی خبر پر نوٹس لیتے ہوئے اے آئی جی ویلفیئر نوشابہ کوثر کو فوری طور پر پاکستان بازار تھانے کی حدود میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنائے جانے والے پولیس اہلکار حاجی جاوید اختر کے اہلخانہ سے رابطہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
واضح رہے کہ 4 ستمبر کو ماڑی پور تھانے سے پاکستان بازار تھانے جاتے ہوئے پولیس اہلکار حاجی جاوید کو اورنگی ٹائون کے علاقے گلشن بہار جوہر چوک میں نجی اسکول کے قریب ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا تھا، مقتول پولیس اہلکار گھر کا واحد کفیل اور3 بچوں کا باپ تھا، واقعے کے کئی روز گزر جانے کے باوجود محکمہ سندھ پولیس کی جانب سے متاثرہ خاندان سے رابطہ کیا گیا نہ ہی واقعے سے متعلق کسی قسم کی تعزیت کی گئی تھی جبکہ مقتول اہلکار کے ورثا کے لیے کسی قسم کے معاوضہ کا اعلان تک نہیں کیا گیا تھا، اس کے باعث مقتول اہلکار کے اہلخانہ معالی پریشانیوں کے ساتھ ساتھ شدید ذہنی اذیت اور مشکلات سے دو چار ہو گئے تھے۔