عالمی ایونٹس میں شرکت کے لیے جنگ عروج پر پہنچ گئی
اسلامک گیمزکا حصہ بننے کے لیے پی او اے کے دھڑے اثرورسوخ استعمال کرنے لگے
پاکستان پر پابندی کی صورت میں کھلاڑی آئی او سی کے پرچم تلے ایونٹس میں شریک ہوںگے. فوٹو؛ فائل
پی او اے مخالف گروپس کے درمیان عالمی ایونٹس میں شرکت کیلیے جنگ عروج پر پہنچ گئی، رواں ماہ انڈونیشیا میں شیڈول اسلامک سالیڈیرٹی گیمزکا حصہ بننے کے لیے اثروسوخ استعمال کیا جانے لگا۔
انٹرنیشنل اور ایشین اولمپک کمیٹی جنرل (ر) عارف حسن ہی کی اولمپک ایسوسی ایشن کو تسلیم کرتی ہے، اس لیے ان کے کھلاڑی ہی ملک کی نمائندگی کرنے کے حقدار ہیں۔ پاکستان پر پابندی کی صورت میں کھلاڑی آئی او سی کے پرچم تلے ایونٹس میں شریک ہوںگے، اس صورتحال کے پیش نظر جنرل (ر) اکرم ساہی گروپ آئی او سی یا او سی اے کے زیر اہتمام نہ ہونے والے ایونٹس میں ملکی نمائندگی کر سکے گا، البتہ 22 ستمبر سے انڈونیشیا میں ہونے والے تیسری اسلامک سالیڈیرٹی گیمز میں اس کے دستے کی شرکت پر سوالیہ نشان ہے۔
گو لاہور میں گذشتہ روز پریس کانفرنس میں جنرل(ر) اکرم ساہی نے دعویٰ کیاکہ اسلامی گیمز میں ان کا 96 رکنی دستہ7 کھیلوں میں شرکت کرے گا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق انڈونیشیا کی حکومت نے اسلامک گیمز کے کامیاب انعقاد کیلیے اپنی اسپورٹس منسٹری کے بجائے اولمپک ایسوسی ایشن سے رابطہ کیا۔
اس کے عہدیداروں نے اولمپک ایسوسی ایشن اور آئی او سی کی منظور شدہ عارف حسن کی پی او اے سے رابطہ کیا، جنھوں نے 8 ہزار ڈالر فیس جمع کرانے کے بعد گیمز کی رجسٹریشن حاصل کر لی، ایونٹ میں شرکت کیلیے کھلاڑیوں کے ایکریڈیٹیشن کارڈز12 ستمبر تک جاری ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق ایونٹ میں پاکستان کا26 رکنی دستہ 5 گیمز ووشو، کراٹے، سوئمنگ، تائیکوانڈو اور ویٹ لفٹنگ میں شرکت کرے گا۔ محاذ آرائی نیا رخ اختیار کرنے کی صورت میں دونوں گروپس کے کھلاڑی ایونٹ میں شرکت سے محروم ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ تیسرے اسلامک سالیڈیرٹی گیمز22 ستمبر سے یکم اکتوبر تک انڈونیشیا کے شہرپالم بینگ میں ہوںگے، اس میں56 ممالک کے کھلاڑی 18 گیمز آرچری، ایتھلیٹکس، بیڈمنٹن، باسکٹ بال، بیچ والی بال، فٹبال، جمناسٹکس، کراٹے، پینکیک سلٹ، سیپک ٹکرا، اسپورٹ کلائمنگ، سوئمنگ، تائیکوانڈو، ٹینس، کشتی رانی، ویٹ لفٹنگ اور ووشو میں شرکت کریں گے۔ یہ گیمز ایران میں ہونے تھے لیکن حکومت کے عرب ممالک سے کشیدہ تعلقات کی وجہ سے اپریل 2010 میں میزبانی انڈونیشیا کو سونپ دی گئی تھی۔
انٹرنیشنل اور ایشین اولمپک کمیٹی جنرل (ر) عارف حسن ہی کی اولمپک ایسوسی ایشن کو تسلیم کرتی ہے، اس لیے ان کے کھلاڑی ہی ملک کی نمائندگی کرنے کے حقدار ہیں۔ پاکستان پر پابندی کی صورت میں کھلاڑی آئی او سی کے پرچم تلے ایونٹس میں شریک ہوںگے، اس صورتحال کے پیش نظر جنرل (ر) اکرم ساہی گروپ آئی او سی یا او سی اے کے زیر اہتمام نہ ہونے والے ایونٹس میں ملکی نمائندگی کر سکے گا، البتہ 22 ستمبر سے انڈونیشیا میں ہونے والے تیسری اسلامک سالیڈیرٹی گیمز میں اس کے دستے کی شرکت پر سوالیہ نشان ہے۔
گو لاہور میں گذشتہ روز پریس کانفرنس میں جنرل(ر) اکرم ساہی نے دعویٰ کیاکہ اسلامی گیمز میں ان کا 96 رکنی دستہ7 کھیلوں میں شرکت کرے گا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق انڈونیشیا کی حکومت نے اسلامک گیمز کے کامیاب انعقاد کیلیے اپنی اسپورٹس منسٹری کے بجائے اولمپک ایسوسی ایشن سے رابطہ کیا۔
اس کے عہدیداروں نے اولمپک ایسوسی ایشن اور آئی او سی کی منظور شدہ عارف حسن کی پی او اے سے رابطہ کیا، جنھوں نے 8 ہزار ڈالر فیس جمع کرانے کے بعد گیمز کی رجسٹریشن حاصل کر لی، ایونٹ میں شرکت کیلیے کھلاڑیوں کے ایکریڈیٹیشن کارڈز12 ستمبر تک جاری ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق ایونٹ میں پاکستان کا26 رکنی دستہ 5 گیمز ووشو، کراٹے، سوئمنگ، تائیکوانڈو اور ویٹ لفٹنگ میں شرکت کرے گا۔ محاذ آرائی نیا رخ اختیار کرنے کی صورت میں دونوں گروپس کے کھلاڑی ایونٹ میں شرکت سے محروم ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ تیسرے اسلامک سالیڈیرٹی گیمز22 ستمبر سے یکم اکتوبر تک انڈونیشیا کے شہرپالم بینگ میں ہوںگے، اس میں56 ممالک کے کھلاڑی 18 گیمز آرچری، ایتھلیٹکس، بیڈمنٹن، باسکٹ بال، بیچ والی بال، فٹبال، جمناسٹکس، کراٹے، پینکیک سلٹ، سیپک ٹکرا، اسپورٹ کلائمنگ، سوئمنگ، تائیکوانڈو، ٹینس، کشتی رانی، ویٹ لفٹنگ اور ووشو میں شرکت کریں گے۔ یہ گیمز ایران میں ہونے تھے لیکن حکومت کے عرب ممالک سے کشیدہ تعلقات کی وجہ سے اپریل 2010 میں میزبانی انڈونیشیا کو سونپ دی گئی تھی۔