طالبان کے تمام گروپوں سے رابطہ کیا جائے گا پرویز رشید
ن لیگ کو انقلابی اقدامات کرنا ہونگے،جاوید ہاشمی،مذاکرات سے انکار نہیں، حاجی عدیل
اے پی سی میں ان لوگوں کا ذکر نہیں جو دہشتگردی کی نذر ہوئے،وسیم اختر، ’’کل تک‘‘ میں گفتگو۔ فوٹو: فائل
(ن) لیگ کے رہنما سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ اے پی سی میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم نے زبان کا ہتھیار استعمال کرنا ہے ۔
طالبان کے ہر گروپ سے بات چیت کرنی ہے اور اس کے لیے تمام گروپوں سے رابطہ کیا جائیگا۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''کل تک'' میں میزبان جاوید چوہد ری سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ پچھلے الیکشن میں بعض ایسی جماعتیں بھی تھیں جنہوں نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا تھا لیکن اس اے پی سی میں وہ سب جماعتیں شامل تھیں جوپاکستان میں کہیں نہ کہیں مینڈیٹ رکھتی ہیں۔ جب اے پی سی شروع ہوئی تو سب اپنی اپنی جماعت کا موقف پیش کررہے تھے لیکن اے پی سی کے اختتام تک سب بطور پاکستانی اپنے موقف کا اظہار کررہے تھے۔
متفقہ طورپر فیصلہ کیا گیا ہے کہ طالبان کے تمام گروپوں سے مذاکرات کئے جائینگے بندوق کی سیاست کو ترک کردیا جائیگااور پاکستان کو محفوظ اور پرامن ملک بنایا جائیگا۔ تحریک انصاف کے رہنما جاوید ہاشمی نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات ایک پیچیدہ راستہ ہے جتنی سپورٹ حکومت کو چاہئے تھی اس سے زیادہ سپورٹ حکومت کو مل گئی ہے اور ہم خوشی سے سپورٹ کرتے ہیں لیکن ن لیگ کیلئے فیصلے پر عملدرآمد کرانا مشکل کام ہے میری دعا ہے کہ ن لیگ اس میں کامیاب ہوجائے ۔
(ن) لیگ کو انقلابی اقدامات اٹھانا پڑینگے اے این پی کے رہنما حاجی عدیل نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے نمائندے کے طورپر میں نے اے پی سی میں کہا تھا کہ جو طالبان ریاست حکومت اور عدالت کو تسلیم کریں ان سے مذاکرات کرنے میں کوئی ہرج نہیں ہے ہم نے تو یہ بھی کہا ہے کہ ہم تم کو اپنے شہیدوں کا خون بھی معاف کرتے ہیں لیکن اس معافی کا مقصد صرف وقت لینا نہیں ہے ۔
اے پی سی کو بہت کم وقت دیا گیا ہے جلدی اس بات کی تھی کہ صدر نے حلف اٹھانا ہے۔مذاکرات سے کوئی بھی انکاری نہیں ہے ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر نے کہا کہ اے پی سی کا ہونا خوش آئند ہے لیکن اس میں ان لوگوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا جو اس دہشتگردی کی نذر ہوچکے ہیں طالبان کو پیغام جانا چاہئے تھا کہ ہمارے لوگ دہشتگردی کی نذرہوئے ہیں اس کا ہمیں غصہ ہے لیکن اس کے باوجود ہم آپ سے مذاکرات کررہے ہیں۔ مذاکرات کا ٹائم فریم طے کرنا چاہئے کیونکہ طالبان گروپ بہت زیادہ ہیں کس سے مذاکرات ہوں گے اورکب ہوں گے۔ ہم آئندہ نسلوں کو بہتر پاکستان دینا چاہتے ہیں۔
طالبان کے ہر گروپ سے بات چیت کرنی ہے اور اس کے لیے تمام گروپوں سے رابطہ کیا جائیگا۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''کل تک'' میں میزبان جاوید چوہد ری سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ پچھلے الیکشن میں بعض ایسی جماعتیں بھی تھیں جنہوں نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا تھا لیکن اس اے پی سی میں وہ سب جماعتیں شامل تھیں جوپاکستان میں کہیں نہ کہیں مینڈیٹ رکھتی ہیں۔ جب اے پی سی شروع ہوئی تو سب اپنی اپنی جماعت کا موقف پیش کررہے تھے لیکن اے پی سی کے اختتام تک سب بطور پاکستانی اپنے موقف کا اظہار کررہے تھے۔
متفقہ طورپر فیصلہ کیا گیا ہے کہ طالبان کے تمام گروپوں سے مذاکرات کئے جائینگے بندوق کی سیاست کو ترک کردیا جائیگااور پاکستان کو محفوظ اور پرامن ملک بنایا جائیگا۔ تحریک انصاف کے رہنما جاوید ہاشمی نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات ایک پیچیدہ راستہ ہے جتنی سپورٹ حکومت کو چاہئے تھی اس سے زیادہ سپورٹ حکومت کو مل گئی ہے اور ہم خوشی سے سپورٹ کرتے ہیں لیکن ن لیگ کیلئے فیصلے پر عملدرآمد کرانا مشکل کام ہے میری دعا ہے کہ ن لیگ اس میں کامیاب ہوجائے ۔
(ن) لیگ کو انقلابی اقدامات اٹھانا پڑینگے اے این پی کے رہنما حاجی عدیل نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے نمائندے کے طورپر میں نے اے پی سی میں کہا تھا کہ جو طالبان ریاست حکومت اور عدالت کو تسلیم کریں ان سے مذاکرات کرنے میں کوئی ہرج نہیں ہے ہم نے تو یہ بھی کہا ہے کہ ہم تم کو اپنے شہیدوں کا خون بھی معاف کرتے ہیں لیکن اس معافی کا مقصد صرف وقت لینا نہیں ہے ۔
اے پی سی کو بہت کم وقت دیا گیا ہے جلدی اس بات کی تھی کہ صدر نے حلف اٹھانا ہے۔مذاکرات سے کوئی بھی انکاری نہیں ہے ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر نے کہا کہ اے پی سی کا ہونا خوش آئند ہے لیکن اس میں ان لوگوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا جو اس دہشتگردی کی نذر ہوچکے ہیں طالبان کو پیغام جانا چاہئے تھا کہ ہمارے لوگ دہشتگردی کی نذرہوئے ہیں اس کا ہمیں غصہ ہے لیکن اس کے باوجود ہم آپ سے مذاکرات کررہے ہیں۔ مذاکرات کا ٹائم فریم طے کرنا چاہئے کیونکہ طالبان گروپ بہت زیادہ ہیں کس سے مذاکرات ہوں گے اورکب ہوں گے۔ ہم آئندہ نسلوں کو بہتر پاکستان دینا چاہتے ہیں۔