سیاسی و مذہبی جماعتوں کا اے پی سی پر اطمینان کا اظہار تعاون کی یقین دہانی

امید ہے فیصلوں پرعمل ہوگا،منورحسن،جوذمے داری ملی،پوری کرونگا،فضل الرحمن، دارومدارخفیہ اداروں پرہوگا،خورشید شاہ

متفقہ قراردادنیک شگون ہے،شیرپاؤ، بزنجو، ، قرار دادوں پر فوری عمل شروع کیا جائے، لدھیانوی، انجام پہلے والا ہوگا، شیخ رشید فوٹو: فائل

سیاسی ومذہبی جماعتوں نے دہشت گردی کیخلاف قومی پالیسی پر اتفاق رائے کیلئے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں ہونیوالے مشترکہ فیصلہ فیصلوں پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور تعاون کا یقین دلایا ہے ۔

امیرجماعت اسلامی سید منورحسن نے امیدظاہر کی کہ کانفرنس کے فیصلوں کا حشر گزشتہ آل پارٹیز کانفرنسوں اور پارلیمانی قراردادوں جیسا نہیں ہوگا، امریکا سے ڈرون حملوں پر کھل کر بات ہونی چاہیے۔جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ کانفرنس میں طے پایا گیا ہے کہ ملک میں امن کیلیے بامعنی مذاکرات ہونے چاہئیں۔ جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کے نتائج سے مطمئن ہوں ، مجھے جو بھی ذمے داری دی جائے گی ، اسے پورا کروں گا۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ دہشتگردی کیخلاف آپریشن اور مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار خفیہ اداروں پر ہوگا۔ پیپلزپارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم نے کہا کہ دیکھنا ہوگا کہ طالبان سے مذاکرات کس قیمت پر ہوں گے۔




مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ اے پی سی بڑی کامیابی ہے، حکومت رات کی تاریکی میں فیصلے نہیں کرسکتی ۔ اے این پی کے سینئر رہنما حاجی عدیل نے کہا کہ ، آئین پارلیمنٹ ، جمہوریت اور عدلیہ کو تسلیم کرنا مذاکرات کی شرائط ہیں ۔ بی این پی کے رہنما میر حاصل بزنجو نے کہا کہ تمام جماعتوں نے طالبان سے مذاکرات کا اختیار حکومت کو دیا ہے ، ٹائم فریم حکومت طے کرے گی۔

انصارالامہ پاکستان کے سربراہ ودفاع پاکستان کونسل کے مرکزی رہنما مولانافضل الرحمن خلیل نے کہاہے کہ حکومت اورفوج کاطالبان کے حوالے سے مذاکرات کے لیے ایک پچ پرآناحوصلہ افزاء اقدام ہے۔ طالبان سے مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق خوش آئند ہے۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ اس اے پی سی کا انجام بھی پہلے کی 2 سے مختلف نہیں ہو گا۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل نے کہا کہ کانفرنس میں امریکی اتحادی ہونے کامعاملہ زیربحث ہی نہیں آیا، نوازشریف دبائومیں دکھائی دیتے ہیں۔

Recommended Stories

Load Next Story