سینیٹ کمیٹی کے ای ایس سی کو سرکاری تحویل میں لینے کی سفارش

توانائی منصوبوںمیں تاخیراورفنڈکے اجرا میں سستی پر کمیٹی کے ارکان برہم، ٹھیکیدارکام بندکردیتے ہیں،چیئرمین واپڈا

پشاورمیں سرکاری سرپرستی میں بجلی چوری ہو رہی ہے، صوبائی حکومت چوروں کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ ہے، عابدشیر فوٹو: فائل

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پانی وبجلی کے چیئرمین زاہدخان نے قومی مفادات کے حامل بجلی وپانی کے بڑے منصوبوں پرعملدرآمد،تکمیل میں تاخیراورفنڈکے اجرا کے سلسلے میں سستی پرسخت برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ توانائی کے بحران کے حل کاذمے دارادارہ واپڈااب تک بجلی پیداکرنے اورپانی کے بڑے منصوبے منگلہ ڈیم کی اپ ریزنگ، متاثرین کی رہائشی کالونیوں اورمنصوبے کا انفرا اسٹرکچر بنانے میں ناکام ہے، نیلم جہلم اوربھاشاڈیم منصوبوں کی فائلیں بھی مختلف سرکاری دفاترمیں سرخ فیتے کاشکارہیں، محکموں میں رابطوں کافقدان ہے بیوروکریسی کی کوتاہی کی وجہ سے قومی منصوبوں کی مالیت میں کئی گنا اضافہ ہوجاتاہے۔

قائمہ کمیٹی نے سفارش کی کہ حکومت کے ای ایس سی کی نجکاری ختم کرکے اسے اپنی تحویل میں لے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرزمولابخش چانڈیو، ہمایوں مندوخیل، شاہی سید، سیف اللہ مگسی، رفیق رجوانہ اور مولانا غفور حیدری کے علاوہ چیئرمین واپڈاودیگرحکام نے شرکت کی۔ کمیٹی نے غلط معلومات فراہم کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی کی سفارش کی۔ وزیرمملکت عابدشیرعلی نے کہاکہ وزیراعظم نے ہائیڈرل منصوبوں کی تکمیل میں تاخیرکانوٹس لیا ہے، پشاورکی شہری آبادی میں بجلی چوری سرکاری سرپرستی میں ہورہی ہے اوربجلی چوروں کے خلاف اقدامات میں صوبائی حکومت رکاوٹ ہے۔ وزارت پانی و بجلی کی طرف سے وزرائے اعلیٰ کوخطوط ارسال کردیے گئے ہیں کہ اب سرکاری نقصان کی ذمے دارصوبائی حکومتیں ہوں گی۔




چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ وزیراعظم نے 2018تک 10ہزارمیگاواٹ بجلی پیداکرنے کی ڈیڈلائن تودیدی ہے لیکن محکموں میں عدم رابطے اور فنڈکی کمی کی وجہ سے ٹارگٹ حاصل کرنامشکل ہے۔ چیئرمین واپڈانے بتایاکہ نیلم جہلم پروجیکٹ رواں ماہ مکمل ہوجائے گا۔ سدپارہ،گومل زام ڈیم اورسندھ میں تراٹ ڈیم مکمل ہوچکے ہیں۔ بڑے منصوبوں کیلیے فنڈ کی فراہمی کی تاخیرکی وجہ سے ٹھیکیدارکام بندکردیتے ہیں اورکلیم میں بھی کئی گنااضافہ ہوجاتاہے۔ کمیٹی نے متفقہ طورپرسفارش کی کہ پانی وبجلی کے60فیصدسے زائدزیرتکمیل منصوبوں کیلیے فنڈفوری طورپرفراہم کیے جائیں۔ آئی این پی کے مطابق پانی وبجلی کیذیلی کمیٹی کی رپورٹ میں سفارشات پیش کی گئیں کہ حکومت کے ای ایس سی کی نجکاری ختم کرکے انتظامی امورتحویل میں لے،کے ای ایس سی نے معاہدوں کی خلاف ورزیاں کی ہیں، ترمیمی معاہدے بھی غیرقانونی تھے، بے قاعدگیوں کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیاجائے،ذمے داروں کاتعین کرکے فوجداری مقدمات درج کیے جائیں،7ہزار مستقل ملازمین کوبرطرف کرکے زیادہ تنخواہوں پر10ہزارنئے ملازمین رکھے، مراعات دے کر قومی خزانے کو کھربوںروپے کانقصان پہنچایاگیاحکومت سردست KESCکانظام خودسنبھالے۔
Load Next Story