عید الاضحی مویشی منڈی میں جانوروں کی آمد کا سلسلہ شروع

منڈی کی انتظامیہ کے ٹھیکیدار کی عدم دلچسپی کے باعث مویشی منڈی کے قیام کا کام سست روی کا شکار ہے

اندرون سندھ سے مجموعی طور پر ساڑھے چار سو کے قریب قربانی کیلیے گائے اور بیل فروخت کیلیے مویشی منڈی لائے گئے۔ فوٹو: فائل

عیدالاضحی کے موقع پر سپرہائی وے پر قائم کی جانے والی ایشیا کی سب سے بڑی عارضی مویشی منڈی میں قربانی کے جانوروں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا تاہم مویشی منڈی کی انتظامیہ کے ٹھیکیدار کی عدم دلچسپی کے باعث مویشی منڈی کے قیام کا کام سست روی کا شکار ہے۔

مویشی منڈی میں اندرون سندھ کے علاقے نوشہرو اور دادو سے تعلق رکھنے والے 3 بیوپاری قربانی کے جانور لیکر مویشی منڈی پہنچ گئے،اندرون سندھ سے مجموعی طور پر 20 ٹرکوں کے ذریعے تقریباً ساڑھے چار سو کے قریب قربانی کیلیے گائے اور بیل فروخت کے لیے لائے گئے۔

اطلاعات کے مطابق بیوپاریوں کی جانب سے قربانی کے جانور کے 70 ہزار سے ڈھائی لاکھ روپے تک طلب کیے جا رہے ہیں تاہم مویشی منڈی انتظامیہ کے ٹھیکیدار کی عدم دلچسپی کے باعث مویشی منڈی کے قیام کا کام انتہائی سست روی کا شکار ہے جس کے باعث اندرون سندھ سے آنے والے بیوپاریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔


حیرت انگیز طور پر مویشی منڈی انتظامیہ کا ٹھیکہ حاصل کرنے والے آؤٹ ڈور ایڈور ٹائزنگ کمپنی کے مالک ملک نجیب اللہ کے کوآرڈینیٹر راجہ عدنان سے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ مویشی منڈی کے قیام کے حوالے سے انھیں کچھ بھی نہیں معلوم اور نہ ہی وہ کچھ بتا سکتے ہیں جو بھی معلومات ہیں وہ ملک نجیب اللہ ہی بتا سکیں گے جب ان سے ٹھیکیدار کا موبائل فون نمبر دینے کا کہا تو انھوں نے دینے سے معذرت کرتے ہوئے مویشی منڈی سے متعلق قائم کیے جانے والے میڈیا سیل سے معلومات حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔

ایک جانب راجہ عدنان مویشی منڈی انتظامیہ کے ٹھیکیدار کے نام پر میڈیا نمائندوں سے بات چیت تو ضرور کر رہے ہیں لیکن مویشی منڈی کے قیام سمیت دیگر امور سے متعلق کچھ بھی بتانے سے گریز کر رہے ہیں جو کہ انتہائی حیران کن ہے عمل ہے۔

 
Load Next Story