ملا عمر ساتھیوں سمیت پاکستان میں چھپے ہوئے ہیں امریکی جنرل ایلن کا الزم
ملاعمریاتورابطے سے باہرہیں یاانکااپنی فورسزپرکنٹرول ختم ہوچکا،واشنگٹن پوسٹ میں مضمون
ملاعمریاتورابطے سے باہرہیں یاانکااپنی فورسزپرکنٹرول ختم ہوچکا،مالی معاونین نے بھی ان کی امداد بند کر دی،واشنگٹن پوسٹ میں مضمون، فوٹو : رائٹرز
ISLAMABAD:
امریکانے پاکستان پرالزام تراشی کاسلسلہ برقراررکھتے ہوئے ایک بارپھرالزام عائدکیاہے کہ طالبان لیڈرملاعمراپنے ساتھیوں کے ہمراہ پاکستان میںچھپے ہیں،پاکستان اس کیلیے محفوظ سرزمین ہے جہاں سے وہ سیکڑوں کی تعداد میں جنگجوئوں کو افغانستان بھیج رہے ہیں۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈرجنرل جا ن ایلن نے یہ الزام امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں لکھے گئے مضمون میںعائدکیاہے۔انھوں نے کہاکہ ملاعمرکے افغان شہریوں پرحملے نہ کرنے بارے بیانات منافقانہ ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے ہاتھ معصوم اوربیگناہ افغانیوں کے خون سے رنگے ہیں۔وہ پاکستان میںچھپے ہوئے ہیں جہاں ان کی محفوظ پناہ گاہ ہے اور وہاں سے وہ سیکڑوں کی تعداد میں نوجوانوں کوافغانستان میں پرتشددکارروائیوں کیلیے بھیج رہے ہیں۔
جان ایلن کامزیدکہناتھاکہ ملا عمریاتورابطے سے باہر ہیں یاان کااپنی فورسزپرکنٹرول مکمل طورپرختم ہوچکا۔مالی معاونین نے بھی ملاعمر کی امدادبندکردی ہے۔ان کے ڈونرز اپنی رقم کہیں اور بھیج رہے ہیں،طالبان افغانستان کے شہری علاقوں سے باہردھکیل دیے گئے ہیںاوروہ زمینی طورپرشکست کی جانب گامزن ہیں۔جان ایلن نے افغان فورسزکے کردارکی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ طالبان کی مداخلت ختم کرنے میں افغان سیکیورٹی فورسزکی کوششیں قابل ستائش ہیں۔
امریکانے پاکستان پرالزام تراشی کاسلسلہ برقراررکھتے ہوئے ایک بارپھرالزام عائدکیاہے کہ طالبان لیڈرملاعمراپنے ساتھیوں کے ہمراہ پاکستان میںچھپے ہیں،پاکستان اس کیلیے محفوظ سرزمین ہے جہاں سے وہ سیکڑوں کی تعداد میں جنگجوئوں کو افغانستان بھیج رہے ہیں۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈرجنرل جا ن ایلن نے یہ الزام امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں لکھے گئے مضمون میںعائدکیاہے۔انھوں نے کہاکہ ملاعمرکے افغان شہریوں پرحملے نہ کرنے بارے بیانات منافقانہ ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے ہاتھ معصوم اوربیگناہ افغانیوں کے خون سے رنگے ہیں۔وہ پاکستان میںچھپے ہوئے ہیں جہاں ان کی محفوظ پناہ گاہ ہے اور وہاں سے وہ سیکڑوں کی تعداد میں نوجوانوں کوافغانستان میں پرتشددکارروائیوں کیلیے بھیج رہے ہیں۔
جان ایلن کامزیدکہناتھاکہ ملا عمریاتورابطے سے باہر ہیں یاان کااپنی فورسزپرکنٹرول مکمل طورپرختم ہوچکا۔مالی معاونین نے بھی ملاعمر کی امدادبندکردی ہے۔ان کے ڈونرز اپنی رقم کہیں اور بھیج رہے ہیں،طالبان افغانستان کے شہری علاقوں سے باہردھکیل دیے گئے ہیںاوروہ زمینی طورپرشکست کی جانب گامزن ہیں۔جان ایلن نے افغان فورسزکے کردارکی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ طالبان کی مداخلت ختم کرنے میں افغان سیکیورٹی فورسزکی کوششیں قابل ستائش ہیں۔