پرستاروں کو مایوس نہیں کرونگی نرما
فلموں اور ڈراموں سمیت کمرشلز کی آفرز ہیں، سوچ سمجھ کر ہی پراجیکٹ سائن کرونگی
نرما نے کہا کہ مجھے ٹی وی ڈرامہ کی آفرز ہوئیں مگر بجٹ اور اسکرپٹ جاندار نہ ہونے پر انکار کردیا. فوٹو: فائل
لالی ووڈ اداکارہ اور ''چن میرے مکھناں'' فیم نرما نے شوبزانڈسٹری میں واپسی کا گرین سگنل دیدیا ہے۔
ان کا کہنا ہے وہ بھرپور تیاری کے ساتھ دوبارہ میدان میں آ رہی ہیں، اس سلسلہ میں انھیں فلموں اور ڈراموں سمیت کمرشلز کی آفرز ہیں مگر وہ سوچ سمجھ کر ہی پراجیکٹ سائن کرنا چاہ رہی ہیں۔ اس حوالے سے انھوں نے گزشتہ روز '' نمائندہ ایکسپریس'' کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ''ان'' اور ''آوٹ'' زندگی کا حصہ ہے اور خاص طور پر شوبز انڈسٹری میں یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے، بعض اوقات آپ کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا دن رات کام اور کام ہی ہو رہا ہوتا ہے، جس سے آپ آرام اور اپنی فیملی کو وقت نہیں دے پاتے۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا، کیرئیر کا آغاز ہی کامیابی سے ہوا، ٹی وی اور فیشن انڈسٹری میں کامیابیاں میرے قدم چوم رہی تھیں۔
فلم کیطرف آئی تو وہاں پر بھی معروف ڈائریکٹرز ، پروڈیوسرز کے پراجیکٹس کا حصہ تھی۔ ہر پراجیکٹ کے لیے محنت کرتی کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ میری کامیابی اور مستقبل کا فیصلہ کام نے ہی کرنا ہے، مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ میری اس محنت اور لگن کی تعریف کرنے کی بجائے منفی پروپیگنڈہ ہی ہوتا رہا، مگر میں نے ان پر کان دھرنے کی بجائے پہلے سے زیادہ جنون کے ساتھ کام کیا۔ جس طرح سے میرے حوالے سے سازشیں ہو رہی تھیں بلکہ اب بھی جب میں کچھ عرصہ کے لیے لائم لائٹ سے دور تھی تو ایسی ایسی باتیں پھیلائی گئیں کہ کام نہ ہونے کیوجہ سے ڈپریشن کا شکار ہو گئی ہے.
دوسری اداکارائوں کیطرح بالی ووڈ فلم حاصل کرنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔ پھر یہ کہا گیا کہ اس کا افیئر چل رہا ہے جلد شادی کرنیوالی ہے، بس اب اس کا کیرئیر ختم ہو گیا، اسے کون کاسٹ کریگا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب باتیں سن کر ہنسنے کے سوا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
ردعمل بھی اسی بات کا ہوتا ہے جس میں کوئی حقیقت ہو۔ اصل میں فلم انڈسٹری کی حالت تو ہمارے سامنے ہی ہے کہ اکا دکا فلم بن رہی ہے جہاں تک ٹی وی پروڈکشن کی بات ہے تو وہ کراچی تک ہی محدود ہو کر رہ گئی، وہاں بھی لابی سسٹم ہے ہر کسی نے اپنا پروڈکشن ہائوس اور ٹیم بنائی ہوئی ہے، اس لابی سسٹم کا حصہ بننے کے لیے میرٹ نہیں بلکہ تعلقات دیکھے جاتے ہیں۔ جتنا کام کر چکی ہوں اس کے بعد میں کسی لابی سسٹم یا سفارش کے ذریعے کام نہیں مانگ سکتی۔ نئے چینلز آنے سے ٹی وی پروڈکشن میں اضافہ ہوا فنکاروں میں خوشحالی اور نئے ٹیلنٹ کو مواقع ملے ہیں مگر لابی سسٹم سے ڈراموں کا معیار گر رہا ہے۔ پروڈیوسر کم بجٹ کے ساتھ ڈنگ ٹپائو پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے غیر معروف کاسٹ کو ترجیح دے رہے ہیں۔
نرما نے کہا کہ مجھے ٹی وی ڈرامہ کی آفرز ہوئیں مگر بجٹ اور اسکرپٹ جاندار نہ ہونے پر انکار کردیا، جہاں تک کسی پروگرام کی میزبانی کرنے کا سوال ہے تو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہی ہوں لیکن فی الحال کوئی منفرد اور اچھوتا پروگرام ہوسٹ کرنا چاہونگی۔ اسوقت میری ساتھی اداکارائیں ایک ہی طرح کے پروگرام کر رہی ہیں جب کہ سٹیلائٹس چینلز کی بھرمار میں ہمارا مقابلہ بہت سخت ہے جس کے لیے ہمیں پلاننگ کرنا ہو گی۔ نرما نے کہا کہ پاکستان فلم انڈسٹری میں بہتری کے چانس صرف نیا ٹیلنٹ ہی لا سکتا ہے جس کا عملی مظاہرہ نظر آ رہا ہے.
کراچی میں ٹی وی پروڈکشنز فلم کیطرف بھی آ گئی ہیں جس سے حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہونگے، جہاں تک فلم انڈسٹری کے ڈائریکٹر، رائٹر اور پروڈیوسرز کی بات ہے تو انھیں روایتی ڈگر سے ہٹ کر ہی فلمیں بنانا ہونگی ورنہ اس کی بحالی کا خواب ہمیشہ خواب ہی رہ جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ شوبزبزنس میں جس طرح سے مجھے خوش آمدید کہا گیا ہے اسی طرح اپنے کام کے ذریعے اپنے پرستاروں کو مایوس نہیں کرونگی، تھیٹر میں دوبارہ کام کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ پہلی والی غلطی کو دوبارہ دہرانا نہیں چاہتی۔
ان کا کہنا ہے وہ بھرپور تیاری کے ساتھ دوبارہ میدان میں آ رہی ہیں، اس سلسلہ میں انھیں فلموں اور ڈراموں سمیت کمرشلز کی آفرز ہیں مگر وہ سوچ سمجھ کر ہی پراجیکٹ سائن کرنا چاہ رہی ہیں۔ اس حوالے سے انھوں نے گزشتہ روز '' نمائندہ ایکسپریس'' کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ''ان'' اور ''آوٹ'' زندگی کا حصہ ہے اور خاص طور پر شوبز انڈسٹری میں یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے، بعض اوقات آپ کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا دن رات کام اور کام ہی ہو رہا ہوتا ہے، جس سے آپ آرام اور اپنی فیملی کو وقت نہیں دے پاتے۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا، کیرئیر کا آغاز ہی کامیابی سے ہوا، ٹی وی اور فیشن انڈسٹری میں کامیابیاں میرے قدم چوم رہی تھیں۔
فلم کیطرف آئی تو وہاں پر بھی معروف ڈائریکٹرز ، پروڈیوسرز کے پراجیکٹس کا حصہ تھی۔ ہر پراجیکٹ کے لیے محنت کرتی کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ میری کامیابی اور مستقبل کا فیصلہ کام نے ہی کرنا ہے، مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ میری اس محنت اور لگن کی تعریف کرنے کی بجائے منفی پروپیگنڈہ ہی ہوتا رہا، مگر میں نے ان پر کان دھرنے کی بجائے پہلے سے زیادہ جنون کے ساتھ کام کیا۔ جس طرح سے میرے حوالے سے سازشیں ہو رہی تھیں بلکہ اب بھی جب میں کچھ عرصہ کے لیے لائم لائٹ سے دور تھی تو ایسی ایسی باتیں پھیلائی گئیں کہ کام نہ ہونے کیوجہ سے ڈپریشن کا شکار ہو گئی ہے.
دوسری اداکارائوں کیطرح بالی ووڈ فلم حاصل کرنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔ پھر یہ کہا گیا کہ اس کا افیئر چل رہا ہے جلد شادی کرنیوالی ہے، بس اب اس کا کیرئیر ختم ہو گیا، اسے کون کاسٹ کریگا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب باتیں سن کر ہنسنے کے سوا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
ردعمل بھی اسی بات کا ہوتا ہے جس میں کوئی حقیقت ہو۔ اصل میں فلم انڈسٹری کی حالت تو ہمارے سامنے ہی ہے کہ اکا دکا فلم بن رہی ہے جہاں تک ٹی وی پروڈکشن کی بات ہے تو وہ کراچی تک ہی محدود ہو کر رہ گئی، وہاں بھی لابی سسٹم ہے ہر کسی نے اپنا پروڈکشن ہائوس اور ٹیم بنائی ہوئی ہے، اس لابی سسٹم کا حصہ بننے کے لیے میرٹ نہیں بلکہ تعلقات دیکھے جاتے ہیں۔ جتنا کام کر چکی ہوں اس کے بعد میں کسی لابی سسٹم یا سفارش کے ذریعے کام نہیں مانگ سکتی۔ نئے چینلز آنے سے ٹی وی پروڈکشن میں اضافہ ہوا فنکاروں میں خوشحالی اور نئے ٹیلنٹ کو مواقع ملے ہیں مگر لابی سسٹم سے ڈراموں کا معیار گر رہا ہے۔ پروڈیوسر کم بجٹ کے ساتھ ڈنگ ٹپائو پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے غیر معروف کاسٹ کو ترجیح دے رہے ہیں۔
نرما نے کہا کہ مجھے ٹی وی ڈرامہ کی آفرز ہوئیں مگر بجٹ اور اسکرپٹ جاندار نہ ہونے پر انکار کردیا، جہاں تک کسی پروگرام کی میزبانی کرنے کا سوال ہے تو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہی ہوں لیکن فی الحال کوئی منفرد اور اچھوتا پروگرام ہوسٹ کرنا چاہونگی۔ اسوقت میری ساتھی اداکارائیں ایک ہی طرح کے پروگرام کر رہی ہیں جب کہ سٹیلائٹس چینلز کی بھرمار میں ہمارا مقابلہ بہت سخت ہے جس کے لیے ہمیں پلاننگ کرنا ہو گی۔ نرما نے کہا کہ پاکستان فلم انڈسٹری میں بہتری کے چانس صرف نیا ٹیلنٹ ہی لا سکتا ہے جس کا عملی مظاہرہ نظر آ رہا ہے.
کراچی میں ٹی وی پروڈکشنز فلم کیطرف بھی آ گئی ہیں جس سے حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہونگے، جہاں تک فلم انڈسٹری کے ڈائریکٹر، رائٹر اور پروڈیوسرز کی بات ہے تو انھیں روایتی ڈگر سے ہٹ کر ہی فلمیں بنانا ہونگی ورنہ اس کی بحالی کا خواب ہمیشہ خواب ہی رہ جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ شوبزبزنس میں جس طرح سے مجھے خوش آمدید کہا گیا ہے اسی طرح اپنے کام کے ذریعے اپنے پرستاروں کو مایوس نہیں کرونگی، تھیٹر میں دوبارہ کام کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ پہلی والی غلطی کو دوبارہ دہرانا نہیں چاہتی۔