کلیئرنگ ایجنٹس کی ہڑتال بلاجواز ہے کلکٹر اپریزمنٹ ویسٹ
2010-11 میں نوٹسز جاری ہوئے لیکن کوئی ٹرانزٹ ٹریڈکلیئرنگ ایجنٹ پیش نہیں ہوا۔
آل پاکستان کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کے ارکان کسٹمز ہائوس کے سامنے احتجاج کررہے ہیں، ہڑتال کے باعث پہلے روز ریونیو کی مد میں 4ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔ فوٹو : محمد عظیم / ایکسپریس
محکمہ کسٹمزنے یکم جنوری 2007 تا دسمبر2010 کے دوران ٹرانزٹ ٹریڈ ٹرانزیکشن کے حامل کسٹمز ایجنٹس کوسال2010-11 میں ہی28ہزار شوکازنوٹسزجاری کیے گئے تھے لیکن کوئی بھی کلیئرنگ ایجنٹ سماعت کے لیے پیش نہیں ہوا لہٰذا عدم پیروی پرمحکمہ کسٹمز نے حتمی فیصلہ جاری کیا ہے جس پر کلیئرنگ ایجنٹس سراپا احتجاج ہوگئے ہیں۔
یہ بات کلکٹرکسٹمز اپریزمنٹ ویسٹ محمد سلیم نے منگل کو کسٹمز ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ کلیئرنگ ایجنٹس کی ہڑتال بلاجواز ہے، انہیں ہڑتال کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے جبکہ کسٹمز حکام انہیں ہرقسم کی سہولت بہم پہنچائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اگر کلیئرنگ ایجنٹس جاری کردہ شوکاز نوٹسز کے جوابات دیتے تو آج ان کے خلاف او این اوز جاری نہیں ہوتے، محکمہ کسٹمزقانون کے دائرہ کار میں رہ کر تمام امور نمٹاتا ہے اور کلیئرنگ ایجنٹس کو بھی قانون کی پاسداری کرنا چاہیے۔
انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ کسٹمز کی جانب سے کلیئرنگ ایجنٹس کو ریکوری کے نوٹسز جاری کیے گئے یا ٹرانزٹ ٹریڈ کی خدمات انجام دینے والے کلیئرنگ ایجنٹس کے لائسنس معطل کیے گئے ہیں، کلیئرنگ ایجنٹس کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ مختصرسماعت میں گمشدہ کنٹینرز کے بارے میں اپنے موقف سے محکمہ کسٹمز کو آگاہ کریں اور اسے مزید سہل بنانے کے لیے محکمہ کسٹمز کی پیشکش ہے کہ جن کلیئرنگ ایجنٹس کوایک یا اس سے زائد شوکاز نوٹسز موصول ہوئے ہیں وہ ان تمام شوکازنوٹسز کا صرف ایک ہی جواب محکمہ کسٹمز میں داخل کرائیں تاکہ معاملے کا فوری تصفیہ ممکن ہوسکے۔
ایک اورسوال کے جواب میں کلکٹراپریزمنٹ ویسٹ نے بتایا کہ ہڑتال سے نہ کلیئرنس متاثر ہوگی اور نہ ہی ریونیو وصولی رکے گی کیونکہ محکمہ کسٹمز میں رائج وی بوک خودکار نظام ملک گیر سطح پر آپریشنل ہے اور منگل کو دفتری سرگرمیوں کے آغاز کے پہلے گھنٹے میں ہی محکمہ کسٹمز کو918 گڈز ڈیکلریشنز موصول ہوئی ہیں جبکہ منگل کو پورے دن کے دوران ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ ویسٹ، ایسٹ اور پورٹ قاسم کلکٹریٹس میں مجموعی طور پر 1672 گڈزڈیکلریشنز داخل کرائی گئیں جو عام دنوں میں داخل کرائی جانے والی جی ڈیز کی نسبت تقریباً دگنی ہیں، ہڑتال کے دوران داخل کرائی جانے والی جی ڈیز کے عوض محکمہ کسٹمز کو ریونیو کی مد میں 1 ارب98 کروڑ20 لاکھ روپے کی وصولیاں بھی ہوئی ہیں، متعلقہ درآمدکنندگان نے بینکوں میں آن لائن ڈیوٹی وٹیکسوں کی ادائیگیاں کی ہیں۔
انہوں نے بتایاکہ پیرکی شب کسٹمز ایجنٹس کے نمائندوں نے کسٹمزافسران کے استفسارکے باوجودوی بوک کلیئرنس سسٹم کی خامیوں سے متعلق کوئی نشاندہی نہیں کی حالانکہ کسٹمز وی بوک میں نئے ماڈیولز متعارف کرانے کے بجائے اس میں پہلے سے موجود خامیاں دورکرنے کی پالیسی پر گامزن ہے لہذا وی بوک استعمال کنندگان کوسسٹم میں موجودخامیوں سے کسٹمزکوفوری طورپر آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بات کلکٹرکسٹمز اپریزمنٹ ویسٹ محمد سلیم نے منگل کو کسٹمز ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ کلیئرنگ ایجنٹس کی ہڑتال بلاجواز ہے، انہیں ہڑتال کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے جبکہ کسٹمز حکام انہیں ہرقسم کی سہولت بہم پہنچائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اگر کلیئرنگ ایجنٹس جاری کردہ شوکاز نوٹسز کے جوابات دیتے تو آج ان کے خلاف او این اوز جاری نہیں ہوتے، محکمہ کسٹمزقانون کے دائرہ کار میں رہ کر تمام امور نمٹاتا ہے اور کلیئرنگ ایجنٹس کو بھی قانون کی پاسداری کرنا چاہیے۔
انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ کسٹمز کی جانب سے کلیئرنگ ایجنٹس کو ریکوری کے نوٹسز جاری کیے گئے یا ٹرانزٹ ٹریڈ کی خدمات انجام دینے والے کلیئرنگ ایجنٹس کے لائسنس معطل کیے گئے ہیں، کلیئرنگ ایجنٹس کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ مختصرسماعت میں گمشدہ کنٹینرز کے بارے میں اپنے موقف سے محکمہ کسٹمز کو آگاہ کریں اور اسے مزید سہل بنانے کے لیے محکمہ کسٹمز کی پیشکش ہے کہ جن کلیئرنگ ایجنٹس کوایک یا اس سے زائد شوکاز نوٹسز موصول ہوئے ہیں وہ ان تمام شوکازنوٹسز کا صرف ایک ہی جواب محکمہ کسٹمز میں داخل کرائیں تاکہ معاملے کا فوری تصفیہ ممکن ہوسکے۔
ایک اورسوال کے جواب میں کلکٹراپریزمنٹ ویسٹ نے بتایا کہ ہڑتال سے نہ کلیئرنس متاثر ہوگی اور نہ ہی ریونیو وصولی رکے گی کیونکہ محکمہ کسٹمز میں رائج وی بوک خودکار نظام ملک گیر سطح پر آپریشنل ہے اور منگل کو دفتری سرگرمیوں کے آغاز کے پہلے گھنٹے میں ہی محکمہ کسٹمز کو918 گڈز ڈیکلریشنز موصول ہوئی ہیں جبکہ منگل کو پورے دن کے دوران ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ ویسٹ، ایسٹ اور پورٹ قاسم کلکٹریٹس میں مجموعی طور پر 1672 گڈزڈیکلریشنز داخل کرائی گئیں جو عام دنوں میں داخل کرائی جانے والی جی ڈیز کی نسبت تقریباً دگنی ہیں، ہڑتال کے دوران داخل کرائی جانے والی جی ڈیز کے عوض محکمہ کسٹمز کو ریونیو کی مد میں 1 ارب98 کروڑ20 لاکھ روپے کی وصولیاں بھی ہوئی ہیں، متعلقہ درآمدکنندگان نے بینکوں میں آن لائن ڈیوٹی وٹیکسوں کی ادائیگیاں کی ہیں۔
انہوں نے بتایاکہ پیرکی شب کسٹمز ایجنٹس کے نمائندوں نے کسٹمزافسران کے استفسارکے باوجودوی بوک کلیئرنس سسٹم کی خامیوں سے متعلق کوئی نشاندہی نہیں کی حالانکہ کسٹمز وی بوک میں نئے ماڈیولز متعارف کرانے کے بجائے اس میں پہلے سے موجود خامیاں دورکرنے کی پالیسی پر گامزن ہے لہذا وی بوک استعمال کنندگان کوسسٹم میں موجودخامیوں سے کسٹمزکوفوری طورپر آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔