ڈنگی بخار کے مریضوں میں اضافہ سرویلنس سیل کے سربراہ بنکاک چلے گئے
ڈاکٹر شکیل ملک ’’ ایشیائی ربیزکانفرنس‘‘ میں شرکت کیلیے بنکاک گئے ہیں ان کا ربیز کے علاج سے کوئی تعلق نہیں ہے
ڈاکٹر شکیل ملک کی گزشتہ روزبنکاک روانگی پر یہ تاثر دیاجارہا ہے کہ ڈاکٹر شکیل ملک اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک ہیں جبکہ ان کی پیشہ وارانہ قابلیت صرف ایم بی بی ایس ہے. فوٹو: محمد نعمان / ایکسپریس
کراچی میں ڈنگی بخار کے مریضوں میں مسلسل اضافے کے باوجود صوبائی ڈنگی سرویلنس سیل کے سربراہ بنکاک میں ہونے والی ایشیائی ربیزکانفرنس میں شرکت کے لیے روانہ ہوگئے۔
معلوم ہوا ہے کہ ڈنگی سیل کے سربراہ نے ایشیائی ربیزکانفرنس اپنی نامزدگی بھی کروائی تھی جبکہ ڈنگی سیل کے سربراہ کا تعلق ربیز علاج سے ہے اورنہ ڈنگی وائرس سے متعلق مہارت ہے ، انھوں نے 1978 میں ایم بی بی ایس پاس کیا جبکہ گزشتہ سال چین کا بھی سرکاری دورہ کیا اور ایک ماہ رہے، جرمنی اور برطانیہ کے بھی سرکاری دورے کرچکے ہیں جبکہ سول اسپتال میں ڈاکٹر طارق کمال ایوبی گزشتہ8سال سے سگ گزیدگی (ربیز)کے مریضوں کا علاج کررہے ہیں لیکن حیرت انگیز طورپر صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے بیرون ممالک دورے کیلیے صرف ایک ہی ڈاکٹرکو بھیجا جاتا ہے۔
ڈاکٹر شکیل ملک کی گزشتہ روزبنکاک روانگی پر یہ تاثر دیاجارہا ہے کہ ڈاکٹر شکیل ملک اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک ہیں جبکہ ان کی پیشہ وارانہ قابلیت صرف ایم بی بی ایس ہے تاہم ڈاکٹر شکیل ملک کے بنکاک میں ہونے والی ایشیائی ربیزکانفرنس میں شرکت پر تعجب کا اظہار کیا جارہا ہے اورمحکمہ صحت کے اعلیٰ افسران اور ایس اینڈ جی ڈی نے انھیں بیرون ملک جانے کی اجازت کس طرح دی، کسی بھی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کیلیے اعلیٰ تعلیمی قابلیت اورتجربہ لازمی ہوتا ہے، تحقیقی مقالے بھی پیش کیے جاتے ہیں۔
تاہم ڈاکٹر شکیل ملک کو ایس اینڈ جی ڈی اور محکمہ صحت کے اعلیٰ افسران کی حمایت پرانھیں بیرون ممالک جانے کی اجازت دیدی جاتی ہے ، دریں اثنا کراچی میں مزید 11افراد میں ڈنگی وائرس کی تشخیص کی گئی ہے، ڈنگی سرویلنس سیل کے دیگر ملازمین نے بتایا کہ سیل کے سربراہ بیرون ملک میں ہیں ، اس لیے مریضوں کی تفصیلات جاری نہیں کی جاسکتیں ۔
معلوم ہوا ہے کہ ڈنگی سیل کے سربراہ نے ایشیائی ربیزکانفرنس اپنی نامزدگی بھی کروائی تھی جبکہ ڈنگی سیل کے سربراہ کا تعلق ربیز علاج سے ہے اورنہ ڈنگی وائرس سے متعلق مہارت ہے ، انھوں نے 1978 میں ایم بی بی ایس پاس کیا جبکہ گزشتہ سال چین کا بھی سرکاری دورہ کیا اور ایک ماہ رہے، جرمنی اور برطانیہ کے بھی سرکاری دورے کرچکے ہیں جبکہ سول اسپتال میں ڈاکٹر طارق کمال ایوبی گزشتہ8سال سے سگ گزیدگی (ربیز)کے مریضوں کا علاج کررہے ہیں لیکن حیرت انگیز طورپر صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے بیرون ممالک دورے کیلیے صرف ایک ہی ڈاکٹرکو بھیجا جاتا ہے۔
ڈاکٹر شکیل ملک کی گزشتہ روزبنکاک روانگی پر یہ تاثر دیاجارہا ہے کہ ڈاکٹر شکیل ملک اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک ہیں جبکہ ان کی پیشہ وارانہ قابلیت صرف ایم بی بی ایس ہے تاہم ڈاکٹر شکیل ملک کے بنکاک میں ہونے والی ایشیائی ربیزکانفرنس میں شرکت پر تعجب کا اظہار کیا جارہا ہے اورمحکمہ صحت کے اعلیٰ افسران اور ایس اینڈ جی ڈی نے انھیں بیرون ملک جانے کی اجازت کس طرح دی، کسی بھی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کیلیے اعلیٰ تعلیمی قابلیت اورتجربہ لازمی ہوتا ہے، تحقیقی مقالے بھی پیش کیے جاتے ہیں۔
تاہم ڈاکٹر شکیل ملک کو ایس اینڈ جی ڈی اور محکمہ صحت کے اعلیٰ افسران کی حمایت پرانھیں بیرون ممالک جانے کی اجازت دیدی جاتی ہے ، دریں اثنا کراچی میں مزید 11افراد میں ڈنگی وائرس کی تشخیص کی گئی ہے، ڈنگی سرویلنس سیل کے دیگر ملازمین نے بتایا کہ سیل کے سربراہ بیرون ملک میں ہیں ، اس لیے مریضوں کی تفصیلات جاری نہیں کی جاسکتیں ۔