معیشت اور حکومتی پالیسی
حکومت اسمگلنگ روکنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ یقیناً اس کا بہت بڑا کریڈٹ ہو گا
حکومت اسمگلنگ روکنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ یقیناً اس کا بہت بڑا کریڈٹ ہو گا (فوٹو: فائل)
چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو شبر زیدی نے ہفتے کو لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں بزنس مین کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گھی کی قیمت نہیں بڑھنے دی جائے گی ، چینی اور سیمنٹ کے ڈیلرز پر عائد ٹرن اوور ٹیکس 1.5فیصد سے کم کر کے 0.25فیصد کردیا ہے، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے غلط استعمال، اسمگلنگ اور انڈر انوائسنگ کا مسئلہ حل کیے بغیر ملکی صنعت نہیں چل سکتی۔گزشتہ دنوں وزیراعظم اور آرمی چیف کے ساتھ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے اسمگلنگ اور انڈر انوائسنگ کے خاتمے کے لیے جلد آپریشن شروع کیا جائے گا۔ ہماری مارکیٹیں اسمگل شدہ مال سے بھری پڑی ہیں، اس کے لیے چھاپے نہیں ماریں گے بلکہ سورس تلاش کریں گے۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ٹیکسز کے حوالے سے کاروباری برادری کے تحفظات دور کریں گے لیکن جس نے کاروبار کرنا ہے اسے ٹیکس تو دینا ہی پڑے گا۔
جہاں تک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے غلط استعمال' اسمگلنگ اور انڈر انوائسنگ کا معاملہ ہے تو یہ گزشتہ کئی دہائیوں سے چلا آ رہا ہے' اس مالیاتی کرپشن میں سرکاری اداروں کے راشی اہلکاروں کے کردار سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ افغان سرحد سے لے کر اندرون ملک تک راستے میں درجنوں چوکیاں موجود اور متعدد اداروں کے اہلکار اسمگلنگ روکنے کے لیے تعینات ہوتے ہیں لیکن حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اتنے حفاظتی انتظامات کے باوجود ملکی منڈیاں اسمگلنگ کے مال سے بھری پڑی ہیں۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اسمگلنگ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، یہ راستہ ہمارے شمال مغربی علاقے میں واقع ہے لیکن منڈیوں میں انڈین مال کی بہتات بھی بہت سے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ بات عام ہے کہ جو سرکاری اہلکار اسمگلنگ روکنے کے لیے تعینات ہیں وہی اس برائی کا اصل محرک ہیں اور وہ اس وقت اربوں پتی ہو چکے ہیں۔ حکومت اگر افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے غلط استعمال اور اسمگلنگ کا انسداد چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے کرپٹ سرکاری اہلکاروں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنا ہو گا۔
اگر حکومت اسمگلنگ روکنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ یقیناً اس کا بہت بڑا کریڈٹ ہو گا۔ جب سے حکومت نے معاشی نظام کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے سمیت مختلف اقدامات شروع کیے ہیں تب ہی سے عوامی سطح پر بے چینی کا آغاز ہو چکا ہے' معاشی نظام تو کیا بہتر ہوتا مہنگائی اور ڈالر کی بے قدری میں افزونی اور اسٹاک مارکیٹ میں ہونے والی مندی نے ملکی معاشی ترقی کو ریورس گیئر لگا دیا ہے۔ حکومت کو آئے ابھی ایک سال ہوا ہے کہ صورت حال اس نہج پر آ پہنچی ہے کہ تاجر برادری حکومتی پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے سراپا احتجاج بن گئی ہے۔
آل پاکستان انجمن تاجران کے مختلف گروپوں نے متفقہ طور پر 13جولائی کو ملک بھر میں شٹرڈاؤن ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ظالمانہ ٹیکسوں کی واپسی تک حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے' تاجر رہنماؤں نے متفقہ طور پر ایف بی آر کی جانب سے استعداد سے زائد ٹیکس وصولی کے غیرمناسب بجٹ کو مسترد کر دیا۔ دوسری جانب حکومت کا موقف ہے کہ ٹیکس اور دیگر معاشی نظاموں میں اس قدر خرابیاں ہیں کہ انھیں دور کیے بغیر ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا' قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ انھی خرابیوں کا شاخسانہ ہے' حکومت کو خطیر سرمایہ لیے گئے ٹیکسوں کے سود پر ادا کرنا پڑتا ہے جس نے ملکی معاشی نظام کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے' لہٰذا حکومت ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے پر مجبور ہو گئی ہے جس میں چھوٹے دکانداروں سے لے کر ریڑھی بانوں کو بھی شامل کیا گیاہے۔
ایک حلقے کی رائے ہے کہ چونکہ ہمارے ہاں اکثریت کو ٹیکس دینے کی عادت نہیں اس لیے جب حکومت نے اسے بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کی ہے تو وہ سراپا احتجاج بن گئی ہے جب کہ دوسرے حلقے کا کہنا ہے کہ ایک معمولی شہری بھی بازار سے خریدی گئی روز مرہ کی پیکنگ اشیا پر ٹیکس ادا کر رہا ہے' صابن' چائے' نمک' مصالحہ جات' جوسز اور یوٹیلٹی بلوں سمیت کون سی ایسی جنس ہے جس پر ایک دیہاڑی دار مزدور بھی ٹیکس ادا نہیں کر رہا ہے۔ جب کروڑوں پتی ارکان اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی بات آتی ہے تو اس پر فی الفور عملدرآمد کر دیا جاتا ہے لیکن عام آدمی کے مسائل پر حکومت کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔ حکومت کی معاشی پالیسیاں درست ہیں یا غلط اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا مگر فی الحال تاجر برادری حکومتی پالیسیوں کو مسترد کرنے کا اعلان کر چکی ہے اور اس صورت حال کا فائدہ حکومت مخالف سیاسی قوتیں اٹھانے کے لیے پر تول رہی ہیں۔حکومت ایسی پالیسیاں تشکیل دے جو سب کو قابل قبول ہوں۔
جہاں تک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے غلط استعمال' اسمگلنگ اور انڈر انوائسنگ کا معاملہ ہے تو یہ گزشتہ کئی دہائیوں سے چلا آ رہا ہے' اس مالیاتی کرپشن میں سرکاری اداروں کے راشی اہلکاروں کے کردار سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ افغان سرحد سے لے کر اندرون ملک تک راستے میں درجنوں چوکیاں موجود اور متعدد اداروں کے اہلکار اسمگلنگ روکنے کے لیے تعینات ہوتے ہیں لیکن حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اتنے حفاظتی انتظامات کے باوجود ملکی منڈیاں اسمگلنگ کے مال سے بھری پڑی ہیں۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اسمگلنگ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، یہ راستہ ہمارے شمال مغربی علاقے میں واقع ہے لیکن منڈیوں میں انڈین مال کی بہتات بھی بہت سے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ بات عام ہے کہ جو سرکاری اہلکار اسمگلنگ روکنے کے لیے تعینات ہیں وہی اس برائی کا اصل محرک ہیں اور وہ اس وقت اربوں پتی ہو چکے ہیں۔ حکومت اگر افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے غلط استعمال اور اسمگلنگ کا انسداد چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے کرپٹ سرکاری اہلکاروں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنا ہو گا۔
اگر حکومت اسمگلنگ روکنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ یقیناً اس کا بہت بڑا کریڈٹ ہو گا۔ جب سے حکومت نے معاشی نظام کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے سمیت مختلف اقدامات شروع کیے ہیں تب ہی سے عوامی سطح پر بے چینی کا آغاز ہو چکا ہے' معاشی نظام تو کیا بہتر ہوتا مہنگائی اور ڈالر کی بے قدری میں افزونی اور اسٹاک مارکیٹ میں ہونے والی مندی نے ملکی معاشی ترقی کو ریورس گیئر لگا دیا ہے۔ حکومت کو آئے ابھی ایک سال ہوا ہے کہ صورت حال اس نہج پر آ پہنچی ہے کہ تاجر برادری حکومتی پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے سراپا احتجاج بن گئی ہے۔
آل پاکستان انجمن تاجران کے مختلف گروپوں نے متفقہ طور پر 13جولائی کو ملک بھر میں شٹرڈاؤن ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ظالمانہ ٹیکسوں کی واپسی تک حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے' تاجر رہنماؤں نے متفقہ طور پر ایف بی آر کی جانب سے استعداد سے زائد ٹیکس وصولی کے غیرمناسب بجٹ کو مسترد کر دیا۔ دوسری جانب حکومت کا موقف ہے کہ ٹیکس اور دیگر معاشی نظاموں میں اس قدر خرابیاں ہیں کہ انھیں دور کیے بغیر ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا' قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ انھی خرابیوں کا شاخسانہ ہے' حکومت کو خطیر سرمایہ لیے گئے ٹیکسوں کے سود پر ادا کرنا پڑتا ہے جس نے ملکی معاشی نظام کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے' لہٰذا حکومت ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے پر مجبور ہو گئی ہے جس میں چھوٹے دکانداروں سے لے کر ریڑھی بانوں کو بھی شامل کیا گیاہے۔
ایک حلقے کی رائے ہے کہ چونکہ ہمارے ہاں اکثریت کو ٹیکس دینے کی عادت نہیں اس لیے جب حکومت نے اسے بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کی ہے تو وہ سراپا احتجاج بن گئی ہے جب کہ دوسرے حلقے کا کہنا ہے کہ ایک معمولی شہری بھی بازار سے خریدی گئی روز مرہ کی پیکنگ اشیا پر ٹیکس ادا کر رہا ہے' صابن' چائے' نمک' مصالحہ جات' جوسز اور یوٹیلٹی بلوں سمیت کون سی ایسی جنس ہے جس پر ایک دیہاڑی دار مزدور بھی ٹیکس ادا نہیں کر رہا ہے۔ جب کروڑوں پتی ارکان اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی بات آتی ہے تو اس پر فی الفور عملدرآمد کر دیا جاتا ہے لیکن عام آدمی کے مسائل پر حکومت کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔ حکومت کی معاشی پالیسیاں درست ہیں یا غلط اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا مگر فی الحال تاجر برادری حکومتی پالیسیوں کو مسترد کرنے کا اعلان کر چکی ہے اور اس صورت حال کا فائدہ حکومت مخالف سیاسی قوتیں اٹھانے کے لیے پر تول رہی ہیں۔حکومت ایسی پالیسیاں تشکیل دے جو سب کو قابل قبول ہوں۔