ہائیکورٹ نے جہانگیر پارک کی بدتر صورتحال پر نوٹس جاری کر دیے
پارک خودکش حملہ آوروں اور ٹارگٹ کلرز کی منصوبہ بندی کا گڑھ بن چکا، اصغردرس کا چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط
سندھ حکومت،ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی،کمشنر ،آئی جی،ایڈوکیٹ جنرل،ڈپٹی اٹارنی جنرل اور دیگر سے جواب طلب کرلیا گیا فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
سندھ ہائیکورٹ نے صدر میں واقع تاریخی جہانگیر پارک کی بدترین صورتحال سے متعلق درخواست پر سندھ حکومت،ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی،کمشنر کراچی،آئی جی سندھ،ایڈوکیٹ جنرل،ڈپٹی اٹارنی جنرل اور دیگر حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔
چیف جسٹس مشیر عالم نے مولانااصغردرس کے خط کو آئینی درخواست میں تبدیل کرتے ہوئے وائس چیئرمین سندھ بار کونسل، صدروسیکریٹری سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کو بھی معاونت کیلیے طلب کیا ہے جبکہ بیرسٹرعبدالرحمن اوربیرسٹر صلاح الدین کو بھی عدالتی معاون مقرر کردیاہے، مولانا اصغر درس کی جانب سے چیف جسٹس مشیر عالم کے نام لکھے گئے خط میں کہا گیاہے کہ صدر میں واقع جہانگیر پارک تاریخی اہمیت کا حامل ہے مگر کئی برسوں سے حکومت کی عدم توجہی کے باعث زبوں حالی کا شکا رہے۔
اب یہ پارک مجرموں کی آماج گاہ بن چکا ہے جہاں جرائم پیشہ عناصرکی مجرمانہ سرگرمیاں عروج پرہیں،یہاں خود کش حملہ آوروں،ٹارگٹ کلرزاور دہشت گردوں کو منصوبہ بندی کیلیے محفوظ ماحول میسر ہے،شہر کے وسط میں مجرمانہ سرگرمیوں کا نوٹس نہ لیا گیا تو دہشت گردی کی کارروائیوں کو روکنا نا ممکن ہوجائے گااس لیے ضروری ہے حکام کو کارروائی کا حکم دیا جائے، چیف جسٹس مشیر عالم نے خط کو آئینی درخواست میں تبدیل کرتے ہوئے حکام کونوٹس جاری کردیے ہیں اور 10دن میں درخواست کی سماعت کی ہدایت کی ہے، واضح رہے کہ جہانگیر پارک کی زبوں حالی سے متعلق ایک اور آئینی درخواست سندھ ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جس پر فاضل عدالت متعلقہ حکام سے جواب طلب کرچکی ہے۔
سندھ ہائیکورٹ نے صدر میں واقع تاریخی جہانگیر پارک کی بدترین صورتحال سے متعلق درخواست پر سندھ حکومت،ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی،کمشنر کراچی،آئی جی سندھ،ایڈوکیٹ جنرل،ڈپٹی اٹارنی جنرل اور دیگر حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔
چیف جسٹس مشیر عالم نے مولانااصغردرس کے خط کو آئینی درخواست میں تبدیل کرتے ہوئے وائس چیئرمین سندھ بار کونسل، صدروسیکریٹری سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کو بھی معاونت کیلیے طلب کیا ہے جبکہ بیرسٹرعبدالرحمن اوربیرسٹر صلاح الدین کو بھی عدالتی معاون مقرر کردیاہے، مولانا اصغر درس کی جانب سے چیف جسٹس مشیر عالم کے نام لکھے گئے خط میں کہا گیاہے کہ صدر میں واقع جہانگیر پارک تاریخی اہمیت کا حامل ہے مگر کئی برسوں سے حکومت کی عدم توجہی کے باعث زبوں حالی کا شکا رہے۔
اب یہ پارک مجرموں کی آماج گاہ بن چکا ہے جہاں جرائم پیشہ عناصرکی مجرمانہ سرگرمیاں عروج پرہیں،یہاں خود کش حملہ آوروں،ٹارگٹ کلرزاور دہشت گردوں کو منصوبہ بندی کیلیے محفوظ ماحول میسر ہے،شہر کے وسط میں مجرمانہ سرگرمیوں کا نوٹس نہ لیا گیا تو دہشت گردی کی کارروائیوں کو روکنا نا ممکن ہوجائے گااس لیے ضروری ہے حکام کو کارروائی کا حکم دیا جائے، چیف جسٹس مشیر عالم نے خط کو آئینی درخواست میں تبدیل کرتے ہوئے حکام کونوٹس جاری کردیے ہیں اور 10دن میں درخواست کی سماعت کی ہدایت کی ہے، واضح رہے کہ جہانگیر پارک کی زبوں حالی سے متعلق ایک اور آئینی درخواست سندھ ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جس پر فاضل عدالت متعلقہ حکام سے جواب طلب کرچکی ہے۔