سفاری پارک مقابلے کے اہم کردار ایس ایچ او ملک سلیم کو نوٹس جاری
7 دن میں جواب داخل نہ کرنے پر حتمی اظہار وجوہ کا نوٹس جاری ہوگا،اس کا جواب نہ دینے پر ملازمت سے برطرف کیاجاسکتا ہے
انکوائری رپورٹ میں پولیس مقابلے کی تمام تر ذمے داری سابق ایس ایچ او سب انسپکٹر ملک سلیم پر عائد کی گئی ہے فوٹو:فائل
سفاری پارک پولیس مقابلے کے مرکزی کردار اور سابق ایس ایچ اوگلستان جوہر ملک سلیم کو پہلا اظہار وجوہ نوٹس جاری کرتے ہوئے 7 روز میں جواب داخل کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق اگر ملک سلیم نے 7 دن میں جواب داخل نہ کیا تو حتمی اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا جائے گا اور اگر اس کے بعد بھی مقررہ وقت میں جواب داخل نہ کیا گیا توسخت کارروائی کی جاسکتی ہے اور کارروائی میں ملازمت سے برطرفی بھی شامل ہے ، تفصیلات کے مطابق سفاری پاک پولیس مقابلے کے مرکزی کردار اور سابق ایس ایچ او گلستان جوہر سب انسپکٹر ملک سلیم کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا گیا ہے ۔
پولیس ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں سفاری پارک پولیس مقابلے کی انکوائری رپورٹ مکمل کر کے ایڈ یشنل آئی جی کراچی غلام قادر تھیبو کو جمع کرا دی گئی تھی اور5صفحات پر مشتمل انکوائری رپورٹ میں پولیس مقابلے کی تمام تر ذمے داری سابق ایس ایچ او سب انسپکٹر ملک سلیم پر عائد کی گئی ایڈ یشنل آئی جی کراچی غلام قادر تھیبو کی جانب سے سب انسپکٹر ملک سلیم کیخلاف قانون کے مطابق محکمہ جاتی کارروائی کرنے کے حوالے سے ڈی آئی جی ایسٹ طاہر نوید اور ایس ایس پی ایسٹ عمران کو ہدایت جاری کی ۔
ایس ایس پی ایسٹ عمران شوکت کی جانب سے سفاری پارک پولیس مقابلے کے مرکزی کردار سب انسپکٹر ملک سلیم کو پہلا اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کردیا گیا ہے اور ملک سلیم کو 7روز میں جواب داخل کر نے کا پابند کیا گیا ۔
پولیس ذرائع کے مطابق اگر ملک سلیم نے پہلے اظہار وجوہ کے نوٹس کا جواب 7روز میں ایس ایس پی ایسٹ کو داخل نہ کیا تو ملک سلیم کو دوبارہ اور حتمی اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا جائے گا اور اگر اس کے بعد بھی ملک سلیم نے دوبارہ مقررہ وقت 7روز میں جواب داخل نہ کیا تو ملک سلیم کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کی جا سکتی ہے اور اس کارروائی میں ملازمت سے برطرفی بھی شامل ہے ، واضح رہے کہ 15 اگست کو سفاری پاک میں ہونے والے خونی مقابلے میں پولیس کی ناقص حکمت عملی اور روایتی بھتہ خوری میں ڈی ایس پی گلشن اقبال قاسم غوری ، اے ایس آئی آصف محمود جاں بحق ہو گئے تھے جبکہ متعدد افسران و اہلکار زخمی ہو گئے تھے جس پر آئی جی سندھ کی ہدایت پر ڈی آئی جی سی آئی اے سلطان خواجہ کی سربراہ میں پولیس مقابلے کی انکوائری کمیٹی قائم کی گئی تھی اور پولیس مقابلے کی انکوائری کمیٹی کو ابتدامیں ہی یہ بات معلوم ہوچکی تھی کہ سفاری پارک پولیس مقابلہ مدھو گوٹھ کا قبضہ ایک جرائم پیشہ گروہ سے ختم کرا کر دوسرے جرائم پیشہ گروہ کا قبضہ کرانے کے نتیجے میں ہوا تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق اگر ملک سلیم نے 7 دن میں جواب داخل نہ کیا تو حتمی اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا جائے گا اور اگر اس کے بعد بھی مقررہ وقت میں جواب داخل نہ کیا گیا توسخت کارروائی کی جاسکتی ہے اور کارروائی میں ملازمت سے برطرفی بھی شامل ہے ، تفصیلات کے مطابق سفاری پاک پولیس مقابلے کے مرکزی کردار اور سابق ایس ایچ او گلستان جوہر سب انسپکٹر ملک سلیم کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا گیا ہے ۔
پولیس ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں سفاری پارک پولیس مقابلے کی انکوائری رپورٹ مکمل کر کے ایڈ یشنل آئی جی کراچی غلام قادر تھیبو کو جمع کرا دی گئی تھی اور5صفحات پر مشتمل انکوائری رپورٹ میں پولیس مقابلے کی تمام تر ذمے داری سابق ایس ایچ او سب انسپکٹر ملک سلیم پر عائد کی گئی ایڈ یشنل آئی جی کراچی غلام قادر تھیبو کی جانب سے سب انسپکٹر ملک سلیم کیخلاف قانون کے مطابق محکمہ جاتی کارروائی کرنے کے حوالے سے ڈی آئی جی ایسٹ طاہر نوید اور ایس ایس پی ایسٹ عمران کو ہدایت جاری کی ۔
ایس ایس پی ایسٹ عمران شوکت کی جانب سے سفاری پارک پولیس مقابلے کے مرکزی کردار سب انسپکٹر ملک سلیم کو پہلا اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کردیا گیا ہے اور ملک سلیم کو 7روز میں جواب داخل کر نے کا پابند کیا گیا ۔
پولیس ذرائع کے مطابق اگر ملک سلیم نے پہلے اظہار وجوہ کے نوٹس کا جواب 7روز میں ایس ایس پی ایسٹ کو داخل نہ کیا تو ملک سلیم کو دوبارہ اور حتمی اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا جائے گا اور اگر اس کے بعد بھی ملک سلیم نے دوبارہ مقررہ وقت 7روز میں جواب داخل نہ کیا تو ملک سلیم کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کی جا سکتی ہے اور اس کارروائی میں ملازمت سے برطرفی بھی شامل ہے ، واضح رہے کہ 15 اگست کو سفاری پاک میں ہونے والے خونی مقابلے میں پولیس کی ناقص حکمت عملی اور روایتی بھتہ خوری میں ڈی ایس پی گلشن اقبال قاسم غوری ، اے ایس آئی آصف محمود جاں بحق ہو گئے تھے جبکہ متعدد افسران و اہلکار زخمی ہو گئے تھے جس پر آئی جی سندھ کی ہدایت پر ڈی آئی جی سی آئی اے سلطان خواجہ کی سربراہ میں پولیس مقابلے کی انکوائری کمیٹی قائم کی گئی تھی اور پولیس مقابلے کی انکوائری کمیٹی کو ابتدامیں ہی یہ بات معلوم ہوچکی تھی کہ سفاری پارک پولیس مقابلہ مدھو گوٹھ کا قبضہ ایک جرائم پیشہ گروہ سے ختم کرا کر دوسرے جرائم پیشہ گروہ کا قبضہ کرانے کے نتیجے میں ہوا تھا۔