لگتا نہیں اے پی سی کے فیصلوں پر عمل ہوسکے گا اختر مینگل

کانفرنس بلانیوالے بلوچستان کے بارے میں فیصلوں میں بااختیار نہیں، لوگوں کا اغوا جاری ہے، اختر مینگل

فیصلوں پر عمل ہوا تو 5 ماہ میں حالات بہتر ہوجائیں گے،عباس آفریدی،کل تک میں گفتگو۔ فوٹو: فائل

BAHAWALPUR:
بی این پی کے رہنما سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان کی محرومیاں پچھلے کئی عشروں پر محیط ہیں، اے پی سی بلانے والے بلوچستان کے بارے میں فیصلوں میں بااختیار نہیں ہیں۔

لگتا نہیں اے پی سی کے فیصلوں پر عمل ہوسکے گا۔ منگل کو ایکسپریس نیو زکے پروگرام ''کل تک'' میں میزبان جاوید چوہدری سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ اے پی سی میں ہماری باری آخر میں آئی ۔ اے پی سی کے بعد بھی لوگوں کے اغوا کا سلسلہ جاری ہے ۔انھوں نے کہا کہ ہم نہ تواپنے لے کچھ کرسکے نہ ہی بلوچستان کے عوام کیلیے جنھوں نے ہمیں ووٹ دیے اور اسمبلی میںپہنچایا ۔لوگوں کا اغوا اورمسخ شدہ لاشوں کا ملنا بہت ہی تکلیف دہ ہے۔




اے پی سی بلانا اچھی بات ہے لیکن ماضی کو دیکھیں تو لگتا نہیں کہ اے پی سی کے فیصلوں پر عملدرآمد ہوسکے گا۔چوری کرنا جرم نہیں ہے بھیک مانگنا جرم ہے ،جب چوری کو حق سمجھا جائے تو حالات ایسے ہی ہوں گے۔ فاٹا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر عباس آفریدی نے کہا کہ اے پی سی بہت اچھا اقدام ہے،اے پی سی کے فیصلوں پر عملدرآمد ہوا تو 4سے 5 ماہ میں حالات بہتری کی طرف بڑھنا شروع ہوجائیں گے۔
Load Next Story