سینیٹ کمیٹی کی بھارت سے بجلی خریدنے کا منصوبہ ختم کرنیکی سفارش

ہائیڈل منصوبوں سے 15 ہزار میگاواٹ بجلی پیداکرکے عوام کوریلیف دیاجائے، پنجاب حکومت سے سولرمعاہدے کی تفصیل طلب

ہائیڈل منصوبوں سے 15 ہزار میگاواٹ بجلی پیداکرکے عوام کوریلیف دیاجائے، پنجاب حکومت سے سولرمعاہدے کی تفصیل طلب. فوٹو: فائل

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پانی وبجلی نے بھارت سے بجلی درآمد کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہاہے کہ پن بجلی کے ذریعے سسٹم میں بجلی لاکرعوام کوریلیف دیاجائے۔

کمیٹی کا اجلاس منگل کو چیئرمین سینیٹرزاہدخان کی صدارت میںہوا۔ زاہد خان نے چیئرمین این ٹی ڈی سی اور پرائیویٹ پاورانفرااسٹرکچربورڈکے اعلیٰ افسران کی اجلاس میںمسلسل عدم شرکت پرشدیدبرہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بیوروکریسی ہرحکومت کوغلط معلومات فراہم کرکے سیاستدانوںکی بدنامی کا باعث بنتی ہے،غلط معلومات فراہم کرکے عوامی نمائندوںکاوقت ضا ئع کیاجاتا ہے۔ مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق کمیٹی نے بھارت سے بجلی درآمدکرنیکا منصوبہ ختم کرنیکی سفارش کر دی ہے،کمیٹی نے سفارش کی کہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی ہے اسلیے منصوبہ مکمل ہونیکی ضمانت نہیں دی جاسکتی ،اسے منسوخ کردیاجائے۔




نمائندہ ایکسپریس کے مطابق کمیٹی نے کہاکہ بیوروکریسی سرکاری فرائض کی ادائیگی اورذمے داری پوری کرے، چیئرمین این ٹی ڈی سی اور آئی پی بی کے اعلیٰ افسران کوآخری موقع دیاجاتاہے۔چیئرمین نے کہاکہ لاڑکانہ پاورپروجیکٹ کاٹھیکہ اور لیزحاصل کرنیوالی چینی اورامریکی کمپنی نے فنی خرابی کابہانہ بناکرخزانے کواربوںکا نقصان پہنچایا اوران کیخلاف کوئی کارروائی نہیںکی گئی،جام شورومیں 8ہزارایکٹرسرکاری زمین سے معدنی ذخائر کے نام پرکوئلہ نکال کرمارکیٹ میں بیچاجارہاہے۔

قومی خزانے کواربوں کا نقصان پہنچانے والی کمپنی کیخلاف کارروائی کی ذمے داراُس وقت کی حکومت تھی،اس حوالے سے سپریم کورٹ کوبھی اصل حقائق سے آگاہ نہیںکیا گیا، اگرحکومت سندھ ہائیکورٹ سے حکم امتناع ختم نہیںکراسکتی توکمیٹی سپریم کورٹ میںفریق بنے گی،ایڈیشنل سیکریٹری واپڈا نے تسلیم کیاکہ جام شوروکی سرکاری زمین سے فتح گروپ قیمتی کوئلہ حاصل کررہاہے۔این ٹی ڈی سی کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ بجلی درآمد کرنے کیلیے دونوں حکومتوںکے درمیان کوئی معاہدہ نہیںہوگابلکہ تجارتی کمپنیاںبجلی پیدا کرنے کی ذمے دارہوںگی اوراے سی سسٹم کے ذریعے12ملین سے3سومیگاواٹ بجلی حاصل کرنے کیلیے 12سے 15ماہ کاعرصہ درکار ہوگا۔
Load Next Story