’’مویشی منڈی آنیوالے شہریوں کو پارکنگ فیس دینی ہوگی‘‘
کار کے 30 اور موٹر سائیکل کی پارکنگ فیس 20 روپے مقرر، منڈی کے انتظامات بد سے بدتر ہو رہے ہیں ،بیوپاری
جانوروں کی خریداری کے بعد گھروں کو لے جانے والی سوزوکی پک اپ 300 اور منی ٹرک 350 کوادا کرنے ہونگے ۔ فوٹو: فائل
مویشی منڈی میں اس سال پہلی بار مویشی منڈی آنے والے شہریوں کو گاڑیوں کی پارکنگ فیس ادا کرنا پڑے گی۔
مویشی منڈی میں رحیم یارخان ، خان پور ، خیر پور ، دادو ، لاڑکانہ اور بہاولپور سمیت دیگر شہروں سے اب تک 10 ہزار سے زائد قربانی کے جانور لائے جا چکے ہیں تاہم اس سال پہلی بار مویشی منڈی آنے والے شہریوں کو گاڑیوں کی پارکنگ فیس ادا کرنا پڑے گی جس میں کار کے 30 اور موٹر سائیکل کی پارکنگ فیس 20 روپے ادا کرنے ہونگے۔
پارکنگ کا ٹھیکہ حاصل کرنے والے چوہدری طارق نے بتایا کہ مویشی منڈی میں قربانی کے جانوروں کی خریداری کے بعد گھروں کو لے جانے والی مال بردار گاڑیوں کی بھی داخلہ فیس مقرر کر دی گئی ہے جس میں سوزوکی پک اپ کے 300 روپے اور منی ٹرک سے 350 روپے ہر بار مویشی منڈی میں داخلے کے موقع پر وصول کیے جائیں گے۔
صادق آباد سے آنے والے بیوپاری کا کہنا تھا کہ منڈی میں کسی قسم کی سہولت موجود نہیں ہے ، جانوروں کے لیے پانی خریدنا پڑ رہا ہے ، رات میں بجلی کا کوئی انتظام نہیں ہے ، گزشتہ سال جن پلاٹوں کی کوئی قیمت نہیں ہوتی تھی اس سال ان پلاٹوں کے ایک لاکھ 70 ہزار روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔
مویشی منڈی کے انتظامات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں ، سہولت حاصل کرنے کے لیے منہ مانگی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مویشی منڈی کی انتظامیہ کی تمام توجہ بیوپاریوں کو کسی بھی قسم کی سہولیات دینے کے بجائے صرف رقم بٹورنے پر لگی ہوئی ہے اور ان تمام خرچے کو پورا کرنے کے لیے ہمیں بھی مجبوراً قربانی کا جانور مہنگا فروخت کرنا پڑتا ہے۔
قربانی کا جانور خریدنے کے لیے مویشی منڈی آنے والے شہریوں کا کہنا تھا کہ بیوپاریوں کو سہولیات کے عوض رقم وصول کرنے کی وجہ سے جانوروں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ، چھوٹے سے چھوٹے قربانی کے جانور کی قیمت ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے طلب کی جا رہی ہے جو کہ ہماری سکت سے باہر ہے۔
مویشی منڈی میں رحیم یارخان ، خان پور ، خیر پور ، دادو ، لاڑکانہ اور بہاولپور سمیت دیگر شہروں سے اب تک 10 ہزار سے زائد قربانی کے جانور لائے جا چکے ہیں تاہم اس سال پہلی بار مویشی منڈی آنے والے شہریوں کو گاڑیوں کی پارکنگ فیس ادا کرنا پڑے گی جس میں کار کے 30 اور موٹر سائیکل کی پارکنگ فیس 20 روپے ادا کرنے ہونگے۔
پارکنگ کا ٹھیکہ حاصل کرنے والے چوہدری طارق نے بتایا کہ مویشی منڈی میں قربانی کے جانوروں کی خریداری کے بعد گھروں کو لے جانے والی مال بردار گاڑیوں کی بھی داخلہ فیس مقرر کر دی گئی ہے جس میں سوزوکی پک اپ کے 300 روپے اور منی ٹرک سے 350 روپے ہر بار مویشی منڈی میں داخلے کے موقع پر وصول کیے جائیں گے۔
صادق آباد سے آنے والے بیوپاری کا کہنا تھا کہ منڈی میں کسی قسم کی سہولت موجود نہیں ہے ، جانوروں کے لیے پانی خریدنا پڑ رہا ہے ، رات میں بجلی کا کوئی انتظام نہیں ہے ، گزشتہ سال جن پلاٹوں کی کوئی قیمت نہیں ہوتی تھی اس سال ان پلاٹوں کے ایک لاکھ 70 ہزار روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔
مویشی منڈی کے انتظامات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں ، سہولت حاصل کرنے کے لیے منہ مانگی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مویشی منڈی کی انتظامیہ کی تمام توجہ بیوپاریوں کو کسی بھی قسم کی سہولیات دینے کے بجائے صرف رقم بٹورنے پر لگی ہوئی ہے اور ان تمام خرچے کو پورا کرنے کے لیے ہمیں بھی مجبوراً قربانی کا جانور مہنگا فروخت کرنا پڑتا ہے۔
قربانی کا جانور خریدنے کے لیے مویشی منڈی آنے والے شہریوں کا کہنا تھا کہ بیوپاریوں کو سہولیات کے عوض رقم وصول کرنے کی وجہ سے جانوروں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ، چھوٹے سے چھوٹے قربانی کے جانور کی قیمت ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے طلب کی جا رہی ہے جو کہ ہماری سکت سے باہر ہے۔