رانی مکھرجی نے 7 فلم فئیر ایوارڈ حاصل کیے
21 مارچ 1978 کو پیدا ہوئیں، 14 سال کی عمر میں اپنے والد کی بنگالی فلم سے کیرئیر شروع کیا
2011نے رانی نے فلم ’’نو ون کلڈ جیسکا‘‘ میں بہترین ادکاری سے سے شاندار واپسی کا اعلان کیا. فوٹو: فائل
بولی ووڈ ادکارہ رانی مکھر جی سلور اسکرین کی ان خوش نصیب اداکارئوں میں شامل ہیں جنھوں نے بہت کم عرصہ میں شہرت حاصل کی۔
انھوں نے نامور ڈائریکٹر اور ادکاروں سے کام کرکے اپنے فنی صلاحیتوں کا لہوا منوایا۔رانی مکھر جی21مارچ 1978میں ممبئی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد رام مکھر جی معروف فلم ڈائریکٹر والدہ کرشنا مکھر جی پلے بیک سنگر اور کاجول ان کی کزن ہیںرانی مکھرجی نے 14سال کی عمر میں میں 1992میں اپنے والد کی بنگالی فلم سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا اس فلم میں انھوں نے سپورٹنگ رول کیا تھا،جس کے بعد انھیں ہندی فلموں میں کام کرنے کی آفر ہوئی1997میں انھوں فلم'' راجہ کی آئے گی بارات'' میں مرکزی کردار ادا کیا،اس فلم میں انھیں بہترین ادکاری کا فلم فئیر ایوارڈ ملا1998میں رانی کی فلم ''غلام '' نمائش کے لیے پیش کی گئی جس میں عامر خان نے ان کے ساتھ ہیرو کا کردار ادا کیا تھا،2000میں بوبی دیول کے ساتھ ان کی فلم'' بادل'' تھی جسے خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔
اسی سال ان کی ایک اور کامیڈی فلم'' حد کردی'' ریلیز کی گئی جس کے ہیرو گووندہ تھے،رانی کی فلم ''کہیں پیار نہ ہوجائے'' اور''ہر دل جو پیار کرے گا'' درمیانہ درجہ کی فلمیں ثابت ہوئیں،2001''چوری چوری چپکے چپکے'' اور'' بس اتنا سا خواب ہے'' نمائش کے لیے پیش کی گئیں، جب کہ انھیں ادکار شاہ رخ خان کی فلم ''کچھ کچھ ہوتا ہے'' سے شہرت ملی یہ ان کے کیرئیر کی پہلی بلاک بسٹر فلم تھی2002میں ان کی ایک اور کامیاب فلم ''ساتھیا'' ریلیز ہوئی جس کے ڈائریکٹر یش راج تھے اس فلم میں انھیں بہترین ادکاری پرکریٹکس ایوارڈ دیا گیا، اسی سال ان کی فلم'' مجھ سے دوستی کرو گی''جس میں کرینہ کپور اور ابھیشک بچن نے ان کے ساتھ کام کیا۔
فلم ''چلتے چلتے'' میں رانی مکھر جی نے ادکارہ ایشوریہ رائے ہیروئن تھیں، لیکن ان کو فلم کی کاسٹ سے علیحدہ کرکے انھیں فلم میں ہیروئن کاسٹ کرلیا گیا،فلم'' چوری چوری'' میں اجے دیوگن ان کے ہیرو تھے،جب کہ'' ببلی اور بنٹی'' ان کی ایک اور ہٹ فلم تھی جس میں ابھیشک بچن ہیرو تھے، فلم ''پہیلی'' میں شاہ رخ کے ساتھ جب کہ'' منگل پانڈے'' میں انھوں نے عامر خان کے ساتھ بہترین کردار نگاری کا مظاہرہ کیا، فلم'' بابل'' میںسلمان خان اور'' تارارم پم'' اور ''تھوڑا پیار تھوڑا میجک'' میں انھوں نے سیف علی خان کے ساتھ ادکاری کا مظاہرہ کیا، ان کے ساتھ اپنی بہترین کردار نگاری کی وجہ سے فلم پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کی توجہ حاصل کی،2004میں فلم'' ویر زارا'' میں انھیں سپورٹنگ رول میں کام کرنے کا موقع ملا اس فلم کے ہیرو شاہ رخ خان تھے۔
اس فلم میں انھیں بہترین سپورٹنگ رول میں بہترین ادکاری پر ایفاء ایوارڈ دیا گیا،اسی سال ان کی ایک اور فلم ''ہم تم'' بھی نمائش کے لیے پیش کی گئی2005میں فلم ''بلیک'' میں انھوں نے اندھی اور گونگی لڑکی کا کردار ادا کرکے زبردست داد وصول کی2006میں رانی کی ایک اور سپر ہٹ فلم''کبھی الوداع نہ کہنا'' تھی لیکن2007کے بعد ان کے فلمی سفر میں ناکامیوں کا دور شروع ہوا،اور 3سال تک وہ اس دور سے گزرتی رہیں،ان کی فلمی سفر میں بہت سے موڑ آئے لیکن ناکامیوں کے بعد ایک بار پھر انھوں نے عزم ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کام شروع کیا،2011نے رانی نے فلم ''نو ون کلڈ جیسکا'' میں بہترین ادکاری سے سے شاندار واپسی کا اعلان کیا،یہ ان کی تین سال بعد پہلی کمرشل کامیاب فلم تھی2012میں عامر خان کے ساتھ ان کی فلم''تلاش'' باکس آفس پر ہٹ ثابت ہوئی، سال رواں میں بھی ان کی متعدد فلمیں نمائش کے لیے پیش کی جائیں گی، وہ آج بھی ایک کامیاب ادکارہ کے طور پر بولی ووڈ میں شہرت رکھتی ہیں۔
انھوں نے نامور ڈائریکٹر اور ادکاروں سے کام کرکے اپنے فنی صلاحیتوں کا لہوا منوایا۔رانی مکھر جی21مارچ 1978میں ممبئی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد رام مکھر جی معروف فلم ڈائریکٹر والدہ کرشنا مکھر جی پلے بیک سنگر اور کاجول ان کی کزن ہیںرانی مکھرجی نے 14سال کی عمر میں میں 1992میں اپنے والد کی بنگالی فلم سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا اس فلم میں انھوں نے سپورٹنگ رول کیا تھا،جس کے بعد انھیں ہندی فلموں میں کام کرنے کی آفر ہوئی1997میں انھوں فلم'' راجہ کی آئے گی بارات'' میں مرکزی کردار ادا کیا،اس فلم میں انھیں بہترین ادکاری کا فلم فئیر ایوارڈ ملا1998میں رانی کی فلم ''غلام '' نمائش کے لیے پیش کی گئی جس میں عامر خان نے ان کے ساتھ ہیرو کا کردار ادا کیا تھا،2000میں بوبی دیول کے ساتھ ان کی فلم'' بادل'' تھی جسے خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔
اسی سال ان کی ایک اور کامیڈی فلم'' حد کردی'' ریلیز کی گئی جس کے ہیرو گووندہ تھے،رانی کی فلم ''کہیں پیار نہ ہوجائے'' اور''ہر دل جو پیار کرے گا'' درمیانہ درجہ کی فلمیں ثابت ہوئیں،2001''چوری چوری چپکے چپکے'' اور'' بس اتنا سا خواب ہے'' نمائش کے لیے پیش کی گئیں، جب کہ انھیں ادکار شاہ رخ خان کی فلم ''کچھ کچھ ہوتا ہے'' سے شہرت ملی یہ ان کے کیرئیر کی پہلی بلاک بسٹر فلم تھی2002میں ان کی ایک اور کامیاب فلم ''ساتھیا'' ریلیز ہوئی جس کے ڈائریکٹر یش راج تھے اس فلم میں انھیں بہترین ادکاری پرکریٹکس ایوارڈ دیا گیا، اسی سال ان کی فلم'' مجھ سے دوستی کرو گی''جس میں کرینہ کپور اور ابھیشک بچن نے ان کے ساتھ کام کیا۔
فلم ''چلتے چلتے'' میں رانی مکھر جی نے ادکارہ ایشوریہ رائے ہیروئن تھیں، لیکن ان کو فلم کی کاسٹ سے علیحدہ کرکے انھیں فلم میں ہیروئن کاسٹ کرلیا گیا،فلم'' چوری چوری'' میں اجے دیوگن ان کے ہیرو تھے،جب کہ'' ببلی اور بنٹی'' ان کی ایک اور ہٹ فلم تھی جس میں ابھیشک بچن ہیرو تھے، فلم ''پہیلی'' میں شاہ رخ کے ساتھ جب کہ'' منگل پانڈے'' میں انھوں نے عامر خان کے ساتھ بہترین کردار نگاری کا مظاہرہ کیا، فلم'' بابل'' میںسلمان خان اور'' تارارم پم'' اور ''تھوڑا پیار تھوڑا میجک'' میں انھوں نے سیف علی خان کے ساتھ ادکاری کا مظاہرہ کیا، ان کے ساتھ اپنی بہترین کردار نگاری کی وجہ سے فلم پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کی توجہ حاصل کی،2004میں فلم'' ویر زارا'' میں انھیں سپورٹنگ رول میں کام کرنے کا موقع ملا اس فلم کے ہیرو شاہ رخ خان تھے۔
اس فلم میں انھیں بہترین سپورٹنگ رول میں بہترین ادکاری پر ایفاء ایوارڈ دیا گیا،اسی سال ان کی ایک اور فلم ''ہم تم'' بھی نمائش کے لیے پیش کی گئی2005میں فلم ''بلیک'' میں انھوں نے اندھی اور گونگی لڑکی کا کردار ادا کرکے زبردست داد وصول کی2006میں رانی کی ایک اور سپر ہٹ فلم''کبھی الوداع نہ کہنا'' تھی لیکن2007کے بعد ان کے فلمی سفر میں ناکامیوں کا دور شروع ہوا،اور 3سال تک وہ اس دور سے گزرتی رہیں،ان کی فلمی سفر میں بہت سے موڑ آئے لیکن ناکامیوں کے بعد ایک بار پھر انھوں نے عزم ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کام شروع کیا،2011نے رانی نے فلم ''نو ون کلڈ جیسکا'' میں بہترین ادکاری سے سے شاندار واپسی کا اعلان کیا،یہ ان کی تین سال بعد پہلی کمرشل کامیاب فلم تھی2012میں عامر خان کے ساتھ ان کی فلم''تلاش'' باکس آفس پر ہٹ ثابت ہوئی، سال رواں میں بھی ان کی متعدد فلمیں نمائش کے لیے پیش کی جائیں گی، وہ آج بھی ایک کامیاب ادکارہ کے طور پر بولی ووڈ میں شہرت رکھتی ہیں۔