باجوہ نے استعفیٰ دے کر فیڈریشن کو بڑے بحران سے بچا لیا

صدر پی ایچ ایف قاسم ضیا کے عہدہ چھوڑنے کی راہ میں قانونی شق حائل ہو گئی

صدر پی ایچ ایف قاسم ضیا کے عہدہ چھوڑنے کی راہ میں قانونی شق حائل ہو گئی. فوٹو: فائل

آصف باجوہ نے استعفیٰ دے کر پاکستان ہاکی فیڈریشن کو بڑے بحران سے بچا لیا۔

ذرائع کے مطابق گذشتہ روزنیشنل اسٹیڈیم لاہور میں ایگزیکٹیو بورڈ میٹنگ میں قاسم ضیا صدر کے عہدے سے مستعفی ہونے پر آمادہ تھے تاہم قانونی شق راہ میں حائل ہو گئی۔ قانون کے مطابق صدر کے استعفیٰ دینے کی صورت میں پی ایچ ایف کے سربراہ کو منتخب کرنے کا اختیار ایگزیکٹیو بورڈ کے بجائے وزیر اعظم کو مل جاتا ہے، قاسم ضیا کے جانے سے پی ایچ ایف کا ایگزیکٹیو بورڈ بھی عملی طور پر ختم ہو جاتا، ذرائع کے مطابق اجلاس میں موجود شرکا کو یہ قانونی نکتہ خود سیکریٹری پی ایچ ایف آصف باجوہ نے پڑھ کر سنایا۔

اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ وہ ورلڈ کپ میں قومی ہاکی ٹیم کی عدم شمولیت کا ذمہ دار خود کو سمجھتے ہوئے مستعفی ہوتے ہیں، ارکان نے اسے قبول کرتے ہوئے اتفاق رائے سے سابق اولمپئن رانا مجاہد علی کو منتخب کر لیا۔




اس موقع پر صدر فیڈریشن قاسم ضیا نے کہا کہ انھوں نے سیکریٹری پی ایچ ایف کے ساتھ مل کر قومی کھیل کو کھویا ہوا مقام واپس دلانے کیلیے بھرپور محنت اور کوشش کی، اب وہ اپنے عہدے کی میعاد ختم ہونے کے بعد مزید کام کرنے کے حق میں نہیں اور چاہتے ہیں کہ کوئی اور موزوں شخصیت ہاکی کی باگ دوڑ اپنے ہاتھ میں لے۔ ذرائع کے مطابق اب سابق کپتان اور حکومتی جماعت مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے چوہدری اختر رسول الیکشن میں حصہ لے کر صدر پی ایچ ایف بننے کی کوشش کریں گے۔

مزید معلوم ہوا ہے کہ پی ایچ ایف سے ناراض کراچی کے ایک اولمپئن نے معروف صنعت کار شوکت ترین کو پیشکش کی کہ اگر وہ پی ایچ ایف کا صدر بننے پر آمادہ ہیں تو انھیں سپورٹ کریں گے، تاہم شوکت ترین نے مصروفیت کے پیش نظر یہ آفر ٹھکرا دی۔
Load Next Story