سفاری پارک مقابلے کا مرکزی کردار ملک سلیم ملازمت سے برطرف

بھتہ نہ ملنے پرمدھو گوٹھ میں چھاپے کے علاوہ لاپروائی، کرپشن اور دیگر الزامات تھے.

انکوائری کمیٹی کی جانب سے تیار رپورٹ کی روشنی میں برطرف کیا گیا، پولیس افسر فوٹو:فائل

سفاری پارک پولیس مقابلے کے مرکزی کردار سابق ایس ایچ او گلستان جوہر ملک سلیم کو ملازمت سے بر طرف کر دیا گیا ۔

ملک سلیم کے خلاف مجرمانہ غفلت و لاپروائی ، اختیارات کا ناجائز استعمال ، کرپشن اور سینئر افسران سے حقائق چھپانے کے علاوہ بھتہ نہ ملنے پر مدھو گوٹھ میں چھاپہ مارنے کا الزام تھا،ایس ایس پی ایسٹ نے ملک سلیم کی ملازمت سے برطرفی کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا، سفاری پارک خونی مقابلے میں ڈی ایس پی گلشن اقبال قاسم غوری اور اے ایس آئی گلشن اقبال آصف محمود جاں بحق اور متعدد افسران و اہلکار زخمی ہوئے تھے، تفصیلات کے مطابق سفاری پارک میں خونی پولیس مقابلے کے مرکزی کردار سابق ایس ایچ او گلستان جوہر سب انسپکٹر ملک سلیم کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا ہے اور اس سلسلے میں ایس ایس پی ایسٹ عمران شوکت نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا۔




ایسٹ زون کے ایک پولیس افسر نے ایکسپریس کو بتایا کہ ملک سلیم کو ڈی آئی جی سی آئی اے سلطان خواجہ کی سربراہی میں قائم کی جانے والی انکوائری کمیٹی کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ کی روشنی میں برطرف کیا گیا ہے ، انھوں نے بتایا کہ رپورٹ میں یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ملک سلیم نے پولیس مقابلے میں مجرمانہ غفلت و لا پروائی کا مظاہرہ کیا اور اختیارات کے نا جائز استعمال کے علاوہ ملک سلیم کرپشن میں بھی ملوث پایا گیا ہے انھوں نے بتایا کہ ملک سلیم نے خونی پولیس مقابلے کے دن اپنے سینئر افسران سے حقائق چھپائے تھے اور اسی وجہ سے ڈی ایس پی گلشن اقبال قاسم غوری اور اے ایس آئی گلشن اقبال آصف محمود کو زندگی سے محروم ہونا پڑا جبکہ ایس ایچ او بہادر آباد حیدر زیدی سمیت دیگر پولیس افسران و اہلکار زخمی ہوگئے تھے ۔

انھوں نے بتایا کہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ملک سلیم نے بھتہ نہ ملنے پر مدھو گوٹھ میں چھاپہ مارا تھا اور ان ہی وجوہات کو بنیاد بنا کر تحقیقات شروع کی گئی تھی جس میں تمام حقائق کھل کر سامنے آگئے ، انھوں نے بتایا کہ برطرف کیے جانے والے ملک سلیم کی ذاتی پولیس پارٹی میں شامل اے ایس آئی ندیم بٹ اور سائوتھ زون کے اہلکار وسیم کو بھی تحقیقاتی رپورٹ میں قصور وار ٹھہرایا گیا ہے تاہم دونوں کسی اور ضلعوں میں تعینات تھے اور ان دونوں کے خلاف متعلقہ ضلع ہی کارروائی کریگا ۔

Recommended Stories

Load Next Story