مصر کی عبوری حکومت کا مرسی کے حامی 55 ہزارعلما کی زبان بندی کا عندیہ

ان علما کی رجسٹریشن ہے نہ ہی لائسنس، یہ بنیاد پرست ہیں جن کی وجہ سے سلامتی کو خطرہ ہو سکتا ہے عبوری مذہبی وزیر

قاہرہ: معزول مصری صدر محمد مرسی کے حامی حکمراں فوجی اتحاد کے خلاف احتجاج کے دوران نعرے بازی کررہے ہیں۔ فوٹو: فائل

مصر کے علاقے جزیرہ نما صحرائے سینائی میں آرمی کے ہیڈکوارٹرز اور چیک پوائنٹ پر 2 کار بم دھماکوں کے نتیجہ میں کم سے کم11 فوجی ہلاک اور 17 زخمی ہو گئے۔

مصر کے سکیورٹی حکام کے مطابق گزشتہ روز صحرائے سینائی میں غزہ کی سرحد کے قریب رفاہ کے علاقہ امام علی ؑ میں قائم ملٹری انٹیلی جنس ہیڈ کوارٹرز کے باہر بم دھماکہ ہواجس کے چند منٹوں بعد اسی علاقہ میں فوجی چیک پوسٹ پر ہوا۔ فوجی ترجمان احمد ایلے نے اپنے بیان میں بتایا کہ دونوں کار بم دھماکے تھے' اس طرح کے ہتھکنڈے اسلامی شدت پسند استعمال کرتے ہیں جن میں بھاری مقدار میں دھماکا خیز مواد رکھا ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زخمیوں میں10 فوجی اہلکار اور7 عام شہری ہیں۔




عینی شاہدین کے مطابق علاقہ میں بم دھماکوں سے کئی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور متعدد کو سخت نقصان پہنچا۔ یہ کار بم دھماکے القاعدہ کے زیر اثر تنظیم کے ٹھکانوں پر بمباری کے ایک روز بعد ہوئے ہیں، شدت پسندوں کی جانب سے سرکاری فورسز پر حملوں میں تیزی کے بعد قاہرہ نے جزیرہ نما سینائی میں جنگجوئوں کی سرکوبی کیلئے ہزاروں فوجی بھیج دیے ہیں۔ آن لائن کے مطابق مصر کی عبوری حکومت نے معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں کیخلاف ایک اور اقدام کے طور پر تقریباً 55000 علما اور خطیب حضرات کے زبان بندی کرنے کا فیصلہ کرنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ عبوری وزیر برائے مذہبی امور نے اس امر کی تائید کر دی ہے۔ عبوری حکومت نے اس مقصد کیلیے یہ جواز بنایا ہے۔

Recommended Stories

Load Next Story