کسی سیاسی جماعت میں عسکری ونگ نہیں ہونا چاہیے عابد شیر
لگتاہے کہیں کچھ بھی ہو جائے ذمے داری ایم کیو ایم پر ہی ڈالی جائے گی، خواجہ اظہار
آپریشن کو متنازع نہیں بنایا جانا چاہیے، عاصمہ ارباب عالمگیرکی ’’تکرار‘‘میں بات چیت فوٹو : فائل
مسلم لیگ (ن) کے رہنما عابد شیر علی نے کہا ہے کہ کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کسی جماعت کیخلاف نہیں ہورہا بلکہ کراچی میں قیام امن کیلیے ہو رہا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''تکرار'' میں میزبان عمران خان سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ ہمارا مقصد کسی بھی سیاسی جماعت کو نقصان پہنچانا نہیں ہے چاہیے وہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم یا کوئی اورہو، عسکری ونگ کسی بھی سیاسی جماعت میں نہیں ہونا چاہیے ،کراچی میں قیام امن کیلیے تمام سیاسی جماعتوں کوایک پیج پرہوناچاہیے تاکہ لوگوں کو امن ملے،بھتہ خوری ختم ہو،اگرخدانخواستہ کسی کوکوئی زیادتی کا شبہ ہے تو اس کیلیے عدالت موجود ہے،ہم اشتعال نہیں پھیلانا چاہتے ہم چاہتے ہیں کہ کراچی کا امن واپس لوٹ آئے ، کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے جب کراچی متاثرہوتاہے توسارا پاکستان متاثرہوتاہے۔
ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ اب تک 70 سے زائد مقامات پر ٹارگٹڈ آپریشن ہوچکا ہے لیکن ہم نے کسی بھی جگہ پرکوئی اعتراض نہیں کیا لیکن پچھلے کچھ گھنٹوں سے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے کوئی ایسی پالیسی بنالی گئی ہے کہ چاہے کہیں بھی کچھ ہوجائے ذمے داری ایم کیو ایم پر ہی ڈالی جائے گی،وفاقی حکومت نے جو فارمیٹ بنایاتھا اس میں کسی سیاسی جماعت کیخلاف آپریشن نہیں ہونا تھا جبکہ ہمارے سینئررہنما ندیم ہاشمی کو ان کے گھر سے گرفتار کرلیا گیا اور انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔
اب تک جہاں پربھتہ خوری تھی ان کو نہیں چھیڑا گیا اب تک جہاں پر ٹارگٹ کلنگ تھی وہاں پر نہیں جایا گیا، ہم پورے کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کی حمایت کرتے ہیں لیکن ہم یہ بھی واضح کردیں کہ یہ آپریشن صرف اورصرف ایم کیو ایم کیخلاف ہوگا،صوبائی حکومت مصلحت کا شکار ہے ہم وفاق سے اپیل کرتے ہیں کہ آپریشن منصفانہ کریں اگر ایماندار پولیس افسران کو نہیں لایاگیاتو کراچی میں امن نہیں ہو گا۔پیپلز پارٹی کی رہنما عاصمہ ارباب نے کہا کہ پاکستان حالت جنگ سے گزر رہاہے کراچی اس وقت جل رہاہے تمام سیاسی جماعتوں کو پولیٹیکل میچورٹی دکھانی چاہیے۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''تکرار'' میں میزبان عمران خان سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ ہمارا مقصد کسی بھی سیاسی جماعت کو نقصان پہنچانا نہیں ہے چاہیے وہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم یا کوئی اورہو، عسکری ونگ کسی بھی سیاسی جماعت میں نہیں ہونا چاہیے ،کراچی میں قیام امن کیلیے تمام سیاسی جماعتوں کوایک پیج پرہوناچاہیے تاکہ لوگوں کو امن ملے،بھتہ خوری ختم ہو،اگرخدانخواستہ کسی کوکوئی زیادتی کا شبہ ہے تو اس کیلیے عدالت موجود ہے،ہم اشتعال نہیں پھیلانا چاہتے ہم چاہتے ہیں کہ کراچی کا امن واپس لوٹ آئے ، کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے جب کراچی متاثرہوتاہے توسارا پاکستان متاثرہوتاہے۔
ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ اب تک 70 سے زائد مقامات پر ٹارگٹڈ آپریشن ہوچکا ہے لیکن ہم نے کسی بھی جگہ پرکوئی اعتراض نہیں کیا لیکن پچھلے کچھ گھنٹوں سے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے کوئی ایسی پالیسی بنالی گئی ہے کہ چاہے کہیں بھی کچھ ہوجائے ذمے داری ایم کیو ایم پر ہی ڈالی جائے گی،وفاقی حکومت نے جو فارمیٹ بنایاتھا اس میں کسی سیاسی جماعت کیخلاف آپریشن نہیں ہونا تھا جبکہ ہمارے سینئررہنما ندیم ہاشمی کو ان کے گھر سے گرفتار کرلیا گیا اور انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔
اب تک جہاں پربھتہ خوری تھی ان کو نہیں چھیڑا گیا اب تک جہاں پر ٹارگٹ کلنگ تھی وہاں پر نہیں جایا گیا، ہم پورے کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کی حمایت کرتے ہیں لیکن ہم یہ بھی واضح کردیں کہ یہ آپریشن صرف اورصرف ایم کیو ایم کیخلاف ہوگا،صوبائی حکومت مصلحت کا شکار ہے ہم وفاق سے اپیل کرتے ہیں کہ آپریشن منصفانہ کریں اگر ایماندار پولیس افسران کو نہیں لایاگیاتو کراچی میں امن نہیں ہو گا۔پیپلز پارٹی کی رہنما عاصمہ ارباب نے کہا کہ پاکستان حالت جنگ سے گزر رہاہے کراچی اس وقت جل رہاہے تمام سیاسی جماعتوں کو پولیٹیکل میچورٹی دکھانی چاہیے۔