کراچی میں انتظامیہ امن قائم نہیں کرسکی رینجرز سے اچھی توقع ہے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ
قیام امن عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد اور قانون کی بالادستی سے مشروط ہے، مشیر عالم
عدلیہ مکمل آزاد نہیں ہوئی، تقریب سے خطاب،کورٹ رپورٹرزمیں سرٹیفکیٹس تقسیم ، ایکسپریس گروپ کے اصغر عمر، شاکر سلطان، نعیم سہوترا بھی شامل۔ فوٹو: فائل
RAWALPINDI:
سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم نے کہا ہے کہ شہر کے حالات انتظامیہ کے مکمل قابو میں نہیں ہیں، انتظامیہ امن قائم نہیں کرسکی۔
رینجرز کارروائی کررہی ہے، اچھے نتائج کی توقع ہے،ہمیں تاہم انھیں اپنی کارکردگی کے اظہار کے لیے مناسب وقت دینا چاہیے۔ وہ بدھ کو سندھ ہائیکورٹ میں عدالتی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں میں سرٹیفکیٹس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ چیف جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ امن کا قیام عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد اور قانون کی بالادستی سے مشروط ہے، ریاستی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا اختیارعدلیہ کو آئین نے دیا ہے۔خلفائے راشدینؓ نے بھی عدالتوں کے سامنے سرجھکایا اور فیصلوں کو تسلیم کیا کیوں کہ عدالتیں معاشرے کا ضمیر ہوتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عدلیہ اب بھی مکمل طور پر آزاد نہیں ہوئی اور میڈیا بھی آزادی حاصل کرنے کے مراحل میں ہے۔
چیف جسٹس نے کہاکہ میڈیا عدلیہ کی آزادی اور وکلاء تحریک کا سرخیل ہے تاہم کوئی بھی خبر نشر یا شائع کرتے ہوئے مفاد عامہ اور ملکی مفاد کو بھی مد نظر رکھاجائے تو معاشرے پرمثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ انھوں نے کاروکاری اور پسند کی شادیوںکا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ حساس معاملات ہیں، انھیں نمایاں کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے حل سے متعلق شعور بھی پیدا کرنا چاہیے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ میڈیا کو اپنی خامیوں کوختم کرنا ہوگا، بالخصوص عدالتی رپورٹنگ حساس معاملہ ہے اور عدالت کے بعض ریمارکس اورآبزرویشن شائع کرنے کے بہترنتائج نہیں نکلتے ، اسلیے کبھی خبر کو روک لینا بھی سمجھ داری کا تقاضا ہوتا ہے۔
موجودہ دور میں معاشرے کی بہتری کیلیے مجموعی طور پرمیڈیا کاکردار بہت مثبت ہے۔ میڈیا اگر خود احتسابی کا نظام وضع کرلے تو یہ بڑا کام ہوگا۔ مشیر عالم نے کہا کہعدالتیں توہین عدالت کے قانون کو کبھی خوشی سے استعمال نہیں کرتیں۔ رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ فہیم احمد صدیقی نے کہا کہ اب میڈیا ریاست کے چوتھے ستون کی حیثیت سے اختیار کرگیا ہے۔ اس موقع پر ایکسپریس گروپ کے رپورٹرز اصغرعمر، شاکر سلطان ، نعیم سہوتراکے علاوہ طاہر صدیقی ، جمال خورشید، عرفان الحق ، بلال احمد، فرحان راجپوت اور فیض اللہ خان کو بہتر عدالتی رپورٹنگ کرنے پر چیف جسٹس مشیرعالم نے سرٹیفکیٹس دیے۔ تقریب میں جسٹس کلب کے ندیم شیخ ایڈووکیٹ بھی شریک تھے۔
سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم نے کہا ہے کہ شہر کے حالات انتظامیہ کے مکمل قابو میں نہیں ہیں، انتظامیہ امن قائم نہیں کرسکی۔
رینجرز کارروائی کررہی ہے، اچھے نتائج کی توقع ہے،ہمیں تاہم انھیں اپنی کارکردگی کے اظہار کے لیے مناسب وقت دینا چاہیے۔ وہ بدھ کو سندھ ہائیکورٹ میں عدالتی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں میں سرٹیفکیٹس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ چیف جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ امن کا قیام عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد اور قانون کی بالادستی سے مشروط ہے، ریاستی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا اختیارعدلیہ کو آئین نے دیا ہے۔خلفائے راشدینؓ نے بھی عدالتوں کے سامنے سرجھکایا اور فیصلوں کو تسلیم کیا کیوں کہ عدالتیں معاشرے کا ضمیر ہوتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عدلیہ اب بھی مکمل طور پر آزاد نہیں ہوئی اور میڈیا بھی آزادی حاصل کرنے کے مراحل میں ہے۔
چیف جسٹس نے کہاکہ میڈیا عدلیہ کی آزادی اور وکلاء تحریک کا سرخیل ہے تاہم کوئی بھی خبر نشر یا شائع کرتے ہوئے مفاد عامہ اور ملکی مفاد کو بھی مد نظر رکھاجائے تو معاشرے پرمثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ انھوں نے کاروکاری اور پسند کی شادیوںکا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ حساس معاملات ہیں، انھیں نمایاں کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے حل سے متعلق شعور بھی پیدا کرنا چاہیے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ میڈیا کو اپنی خامیوں کوختم کرنا ہوگا، بالخصوص عدالتی رپورٹنگ حساس معاملہ ہے اور عدالت کے بعض ریمارکس اورآبزرویشن شائع کرنے کے بہترنتائج نہیں نکلتے ، اسلیے کبھی خبر کو روک لینا بھی سمجھ داری کا تقاضا ہوتا ہے۔
موجودہ دور میں معاشرے کی بہتری کیلیے مجموعی طور پرمیڈیا کاکردار بہت مثبت ہے۔ میڈیا اگر خود احتسابی کا نظام وضع کرلے تو یہ بڑا کام ہوگا۔ مشیر عالم نے کہا کہعدالتیں توہین عدالت کے قانون کو کبھی خوشی سے استعمال نہیں کرتیں۔ رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ فہیم احمد صدیقی نے کہا کہ اب میڈیا ریاست کے چوتھے ستون کی حیثیت سے اختیار کرگیا ہے۔ اس موقع پر ایکسپریس گروپ کے رپورٹرز اصغرعمر، شاکر سلطان ، نعیم سہوتراکے علاوہ طاہر صدیقی ، جمال خورشید، عرفان الحق ، بلال احمد، فرحان راجپوت اور فیض اللہ خان کو بہتر عدالتی رپورٹنگ کرنے پر چیف جسٹس مشیرعالم نے سرٹیفکیٹس دیے۔ تقریب میں جسٹس کلب کے ندیم شیخ ایڈووکیٹ بھی شریک تھے۔