منی پاکستان میں امن کا ایجنڈا

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں کراچی کے مستقبل پر سنجیدگی سے سوچیں۔

ایم کیو ایم کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گینگ وار کے کسی بڑے ملزم کو نہیں پکڑا گیا جب کہ رینجرز اور پولیس حکام کو ہدایت کی گئی ہے۔ فوٹو: فائل

منی پاکستان میں قانون شکن عناصر، سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز اور قتل و غارت میں ملوث مافیاز کے خلاف جاری آپریشن کے حوالے سے کراچی شہر کے بعض حصوں سے تحفظات اور خدشات کے اظہار سے نئے اندیشے سر اٹھانے لگے ہیں۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ صورتحال دیکھتے ہوئے آپریشن کی اسٹرٹیجی اور میکنزم میں نتیجہ خیز تبدیلی لانے کے لیے اعلیٰ سطح پر ہدایات بھی جاری کی جا چکی ہیں، ادھر ایم کیو ایم سمیت بعض سیاسی جماعتوں نے آپریشن کے نتیجے میں گرفتاریوں کو غیر شفاف اور سیاسی قرار دیا ہے۔

گزشتہ روز شدید رد عمل کا سبب یہ تھا کہ کراچی میں متحدہ قومی مومنٹ کے سابق رکن سندھ اسمبلی ندیم ہاشمی کو دو پولیس اہلکاروں کے قتل کے الزام میں گرفتار کر کے قتل اور انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا، گرفتاری اور مقدمے کے اندراج کے خلاف کراچی میں مکمل اور اندون سندھ جزوی ہڑتال رہی، مظاہرے کیے گئے اور گاڑیاں نذرآتش کر دی گئیں۔ گرفتاری کی خبر شہر میں پھیلنے پر نامعلوم افراد نے بدھ کی صبح تمام دکانیں، مارکیٹس، پٹرول پمپس اور دیگر کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے جبراً بند کرا دیے جس نے بلاشبہ سندھ حکومت اور وفاق کو صورتحال کی ابتری کے خطرات کی طرف توجہ دینے پر مجبور کر دیا۔

ایم کیو ایم کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گینگ وار کے کسی بڑے ملزم کو نہیں پکڑا گیا جب کہ رینجرز اور پولیس حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ طے شدہ ٹارگٹ کے تحت شہر کو مجرمانہ سرگرمیوں اور ان میں ملوث افراد اور مافیاز کے کارندوں کو پکڑیں اور جلد سزا دلانے کے لیے مضبوط پراسیکیوشن کا خیال رکھیں، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ رینجرز حکام نے حکومت سے ایک درجن پراسیکیوشن افسر، اور16 دیانت دار، اہل اور لائق تفتیشی افسر مانگے ہیں جب کہ 4 ایسے تھانوں کا تقاضا کیا ہے جہاں ٹھوس شواہد کے ساتھ مقدمات درج کیے جا سکیں۔

تاہم جو سیاسی جماعتیں آپریشن کو منصفانہ، شفاف اور کثیر جہتی بنانے پر زور دیتی ہیں ان کا یہ مطالبہ ہے کہ ارباب اختیار کو بلا امتیاز کریک ڈاؤن کرنا چاہیے۔ اس میں اب بعض حقائق اور بنیادی باتوں کو مد نظر رکھنے کی ضرورت ہے جن پر عمل کر کے کراچی کو امن کا گہوارہ بنانے کی کوششیں کامیاب ہو سکتی ہیں مگر منی پاکستان کو تشدد اور تباہی سے بچانے کے لیے قانون نافذ کرنے والوں کو کسی بھی حد تک جانے کی بہر حال اجازت ہونی چاہیے، ورنہ فری ہینڈ کا مقصد کیا ہے؟ معاملہ صرف منصفانہ احتساب اور جزا و سزا کا ہے۔


کسی سیاسی جماعت یا طبقہ کو ٹارگٹ کیے جانے کا تاثر یا شائبہ تک نہیں ابھرنا چاہیے۔ کامیابی اسی میں ہے، چنانچہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے ہر قسم کے سیاسی و غیر سیاسی دباؤ کا مقابلہ کرتے ہوئے کراچی میں امن عامہ کی بحالی کے لیے سخت ترین آپریشن کلین اپ جاری رکھنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنائے گی۔ بدھ کو وزیر اعظم ہاؤس میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے انھیں کراچی میں جاری آپریشن کے حوالے سے اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں اور اس دوران پیش آنے والی مشکلات کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ دی۔

وزیر داخلہ نے وزیر اعظم کو بتایا کہ اب تک گرفتار کیے گئے سیکڑوں جرائم پیشہ افراد میں سے بھاری اکثریت کا کسی نہ کسی سیاسی گروہ سے تعلق سامنے آ رہا ہے جس کی وجہ سے کراچی میں ہڑتال اور گھیراؤ جلاؤ کی سی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ کراچی کی صورتحال خاصی پیچیدہ ہے۔ ادھر چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے وزیر اعظم نواز شریف سے وزیر اعظم ہاؤس میں ون آن ون ملاقات کی جس میں آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں پر عملدرآمد کے طریقۂ کار پر ابتدائی بات چیت کی گئی جب کہ کراچی میں جاری آپریشن کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، وزیر اعظم نواز شریف نے ڈی جی رینجرز اور کراچی میں مصروف کار رینجرز کے افسران و جوانوں کی کارکردگی کو سراہا، آپریشن کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر عمل میں آنے والی گرفتاریوں اور ان کے بعد کی پیچیدگیوں کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے کی جانے والی ہر کوشش میں عسکری قیادت وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کی پالیسی پر عملدرآمد کی پابند ہے اور رہے گی۔ یہ امر خوش آیند ہے کہ آپریشن کے سلسلے میں موثر رابطے جاری ہیں، اطلاعات اور معلومات کی شیئرنگ کا تسلسل وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے ڈائریکٹر جنرل رینجرز میجر جنرل رضوان اختر کی بدھ کو وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ملاقات سے لگایا جا سکتا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ سے امریکی قونصل جنرل مائیکل ڈوڈمین نے بھی ملاقات کی۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کی آڑ میں ایک مرتبہ پھر ایم کیو ایم کے خلاف19جون 1992ء جیسا آپریشن شروع کر دیا گیا ہے لہٰذا ایم کیوایم کے کارکنان و عوام ہمت و حوصلے کے ساتھ اس ریاستی ظلم و بربریت کا سامنا کرنے کے لیے خود کو ذہنی و جسمانی طور پر تیار کر لیں۔ ایک بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہا کہ کراچی میں قیام امن کے نام پر شروع کیے جانے والے ٹارگٹڈ آپریشن میں ایم کیو ایم کے عہدیداروں، کارکنوں اور منتخب نمایندوں تک کو گرفتار کیا جا رہا ہے جس کے باعث ٹارگٹڈ آپریشن کی غیر جانبداری اور شفافیت پر سوالیہ نشان اٹھ گئے ہیں جب کہ وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا کہ قانون اپنا راستہ خود بنائے گا اور کسی بھی شخص سے ناانصافی نہیں ہو گی۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں کراچی کے مستقبل پر سنجیدگی سے سوچیں، جاری آپریشن میں حکومت کو زیادتیوں سے آگاہ کرنے اور کارروائی کو صرف کریمنل عناصر اور اصل مجرموں تک محدود رکھنے میں بھی تدبر، تحمل، برداشت اور معاونت کے رویے سے کام لینا چاہیے۔ آپریشن کو متنازع بنانے کا مطلب تو یہ ہو گا کہ آپریشن بند کرنے کا ماحول پیدا کیا جائے ' ایسا سوچنا بھی اس شہر اور ملک کے اقتصادی مرکزکے ساتھ زیادتی ہو گا۔ وقت یہی ہے جس میں حکمراں سیاسی تدبر اور سیاسی ارادے کی قوت سے جرائم پیشہ عناصر کے خاتمہ کے لیے سیاسی مفاہمت پیدا کریں، مسلم لیگ ن، ایم کیو ایم، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، اے این پی سمیت تمام سیاسی قوتیں اور سول سوسائٹی منی پاکستان کو معاشی استحکام دینے اور امن و امان کی بحالی میں اشتراک عمل کریں۔ آپریشن جاری رہنا چاہیے، مگر انصاف کے ساتھ۔ ظلم کے خاتمے کے لیے ظلم کی اسٹرٹیجی نہ اپنائی جائے جب کہ ان سیاسی جماعتوں کے لیے یہ وقت کا بڑا امتحان ہے جو کل جماعتی کانفرنس میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا امتیاز کریک ڈاؤن کے حق میں تھیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ منی پاکستان میں امن کا ایجنڈا سب کا مشترکہ ایجنڈا ہو گا۔
Load Next Story