امریکہ پاکستان کی خود مختاری کااحترام کرے

پارلیمنٹ کی متفقہ قرار داد پر حکومت سے سٹینڈ لیا اور کہا کہ یہ بہت اہم ہے،فرید احمد پراچہ

’’ایکسپریس فورم‘‘ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی فیڈرل کونسل کے رکن مطلوب احمد وڑائچ اظہار خیال کر رہے ہیں ان کے ہمراہ (دائیں سے بائیں) میاں مرغوب احمد، فرید احمد پراچہ، احسان وائیں اور وائس ایڈمرل (ر) جاوید اقبال بیٹھے ہیں (فوٹو : ایکسپریس)

KARACHI:
سلالہ چیک پوسٹ حملے کے بعد پاکستان نے نیٹو سپلائی لائن کاٹ دی۔ پوری قوم' پارلیمنٹ اور افواج پاکستان حکومت کے اس فیصلے کے پیچھے کھڑی ہو گئی۔ پارلیمنٹ نے متفقہ طور پرقرارداد منظور کی جس میں کہا گیا کہ واقعہ پر امریکا کی جانب سے معافی اور ڈرون حملوں کی بندش تک نیٹو سپلائی لائن بحال نہ کی جائے۔ سات ماہ بعد امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے اپنی پاکستانی ہم منصب حنا ربانی کھر کو فون کیا اور واقعہ پر '' سوری'' کہا جس کے بعد حکومت نے سپلائی لائن بحال کر دی۔ اس حکومتی فیصلے پر قوم ایک بار پھر منقسم دکھائی دے رہی ہے۔ حکومت نے کن شرائط پر سپلائی لائن بحال کی' اس بارے میں جاننے کے لئے گزشتہ دنوں ''ایکسپریس فورم '' میں فکر انگیز مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے مرکزی قائدین نے شرکت کی۔ پروگرام میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

فرید احمد پراچہ
(ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان )
نیٹو سپلائی کی بحالی ہماری ضرورت نہیں تھی یہ امریکا کی ضرورت تھی، نیٹوسپلائی کی بحالی ہماری قومی سلامتی ، غیرت اور وقار کے منافی ہے۔ سلاسلہ چیک پوسٹ کے واقعے میں ہمارے فوجی جوان شہید ہوئے، ہماری پاک افواج بہت مقدس ہے لیکن اتنا ہی تقدس ان لوگوں کا بھی ہے جو پہلے ہی ڈرون حملوں میں مارے جا رہے تھے۔ نیٹو سپلائی کی بندش سلالہ چیک پوسٹ کے واقعے پر نہیں بلکہ پہلے ڈرون حملے پر ہونی چاہیے تھی۔ ڈرون حملوں میں مارے جانے والے بچوں بوڑھوں، مردوں و خواتین کے مرنے پر نہ سہی اگر فوج کے نقصان پر ہی سپلائی بند کر دی تھی تو اسے بند ہی رہنا چاہیے تھا۔

پارلیمنٹ کی متفقہ قرار داد پر حکومت سے سٹینڈ لیا اور کہا کہ یہ بہت اہم ہے، پارلیمنٹ میں موجود مسلم لیگ (ن)،جے یو آئی، اے این پی نے اس قرارداد کی حمایت کی اور شرائط عائد کیں کہ فلاں فلاں شرائط کے بغیر سپلائی بحال نہ کی جائے۔ ہم تو مشروط بھی سپلائی کھولنے کے حق میں نہیں تھے لیکن جن پارٹیوں نے سپلائی کی بحالی کو مشروط کر دیا تھا تو آج ان پارٹیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان شرائط کو منوائیں یا پھر ان شرائط کے نہ مانے جانے کی صوت میں پارلیمنٹ سے باہر نکلیں اور سڑکوں پر آئیں۔ قرارداد میں شرط عائد کی گئی تھی کہ ڈرون حملے بند ہونگے، لیکن پوری دنیا دیکھ رہی ہے جس دن سپلائی بحال کی گئی اس سے اگلے دن ہی پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈرون حملہ ہوا اور اس کے بعد سے مسلسل ہورہے ہیں۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جو لوگ ڈرون حملوں میں مارے جارہے ہیں ان کی فہرست جاری کی جائے ، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بتائے ان حملوں میں کون مارے جارہے ہیں۔ ڈرون حملوں میں خواتین ، بوڑھے بچے مارے جاتے ہیں اور انہیں دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے۔ آج تک نہیں بتایا گیا کہ ڈرون حملوں میں مارے جانے والے تین ہزار سے زائد افراد میں کون کون سا دہشت گرد تھا اور جو دہشت گرد تھا اس کو کس عدالت نے دہشت گرد قرار دیا تھا۔ محض امریکا کے کہنے پر تو کسی کو دہشت گرد قرار نہیں دیا جاسکتا۔ نیٹو سپلائی کی بحالی کے سلسلے میں جو معاہدہ ہوا وہ زبانی معاہدہ ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ اندرون خانہ کیا بیچا گیا ہے اور کیا خریدا گیا ہے؟زبانی معاہدوں پر پارلیمنٹ نے پابندی لگائی ہوئی ہے، افسوس کہ اتنے بڑے مسئلے پر کسی رکن پارلیمنٹ نے تحریک استحقاق بھی جمع نہیں کرائی۔ یہ زبانی معاہدہ پارلیمنٹ کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔

امریکا کم از کم سلالہ چیک پوسٹ کے واقعہ پر معافی مانگتا ، امریکا ایک بھارتی اداکار سے تو معافی مانگ لیتا ہے لیکن پاکستان سے معافی مانگنے کے لئے تیار نہیں ہوا۔ قوم کو بیوقوف بنانے کے لئے دو عورتوں کے درمیان ایک ڈرامہ رچایا گیا '' سوری'' کا لفظ استعمال ہوا اب یہ نہیں پتہ کہ ''سوری '' ہیلری کلنٹن نے کی ہے یا حنا ربانی کھر نے۔ یہ سارا معاملہ قوم کے ساتھ مذاق اور پارلیمنٹ کی توہین ہے۔ زبانی معاہدے کی ایک بات یہ سامنے آئی کہ نیٹو کنٹینرز میں اسلحہ نہیں جائے گا۔ حالانکہ سپلائی کی بحالی کے فیصلے کے وقت پاکستان کی سڑکوں پر پانچ ہزار اسلحہ سے بھرے ٹرک کھڑے ہوئے تھے۔ ساڑھے تین سو ملٹری گاڑیاں تھیں، پھر بھی کہا جا رہا تھا کہ اسلحہ نہیں جائے گا۔ پاکستانی حکام کو تو سکریننگ کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔

نیٹو کے گیارہ ہزار کنٹینر پاکستان میں گم ہوگئے، کسی نے اس کا نوٹس نہیں لیا، کراچی ، بلوچستان ، لاہور اور ملک میں ہر جگہ اسلحہ تقسیم کیا گیا ، وہی اسلحہ پاکستان میں دہشت گردی کے لئے استعمال ہورہا ہے۔ آپ غور کیجئے کہ جب تک نیٹو سپلائی بند رہی 'ملک میں دہشت گردی کے واقعات بھی ختم ہوگئے تھے۔ پاکستان کے خلاف گھنائونا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کے بعد واضح ہوچکا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا نیٹ ورک کون چلا رہا ہے۔ ایک اہم بات یہ بھی کہ اس وقت امریکا اور نیٹو فورسز افغانستان سے نکل رہے ہیں، اس نکلتے ہوئے وقت میں نیٹو سپلائی کی بحالی انہیں آکسیجن فراہم کرنے کے مترادف ہے۔

میں آخر میں یہ بھی کہوں گا کہ بظاہر تو اے این پی پٹھانوں کے حقوق کی علمبردار ہے لیکن میں انتہائی افسوس کے ساتھ کہتا ہوں کہ پٹھانوں کا جب بھی خون بہا ہے، اے این پی ہمیشہ ان کے قاتلوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ پہلے روس مار رہا تھا اُس وقت اے این پی روس کے ساتھ تھی ، اب امریکا مار رہا ہے اور اے این پی امریکا کے ساتھ ہے۔کراچی کے اندر جو لوگ پٹھانوں کو مار رہے ہیں یہ ان کے ساتھ مل کر حکومت چلا رہے ہیں۔ پٹھان کا جب بھی لہو بہتا ہے اے این پی کے تعاون کے ساتھ بہتا ہے۔

مذہبی جماعتوں پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ڈالر لیتی ہیں، ڈالروں والا کھیل اے این پی کھیلتی ہے، انہیں معلوم نہیں کہ جو خدا اور رسولﷺ کے نام پر جانیں دیتے ہیں اور جو اپنے بھائیوں کے لئے جانیں دیتے ہیں، اس کا کوئی نعم البدل نہیں ۔اس وقت مذہبی جماعتیں امریکا کی مخالفت کر رہی ہیں ، اے این پی مجھے بتائے کہ دنیا کی کونسی طاقت امریکا کی مخالفت میں ہمیں ڈالر دے رہی ہے؟ اے این پی اس طرح کی تھیوری دینے کے بجائے قوم کو حقائق بتائے۔
میاں مرغوب احمد
(ممبر قومی اسمبلی پاکستان مسلم لیگ ن)
بدقسمتی سے ہماری خارجہ پالیسی ہمیشہ امریکا کے تابع رہی ، اسی لئے ہمارا امریکا کے ساتھ ایک آقا اورغلام کا رشتہ رہا۔پرویز مشرف کے بعد سے آج تک ہمارا امریکا سے وہی آقا اور غلام کا رشتہ ہے ۔ ہماری خارجہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہے، ہم نے اپنامقدمہ ایک باوقار قوم کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا بلکہ بدقسمتی سے حسین حقانی جیسے لوگوں کو پاکستان کا سفیر بنا کر امریکا بھیجا گیا جس نے امریکا کی جی حضوری کی اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ '' ہم آپ کی غلامی کرنے پر تیار ہیں لیکن فوج ہمارے راستے کی رکاوٹ ہے''۔ یہ پوری قوم کی بدقسمتی تھی، اس سے زیادہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے حسین حقانی جیسے لوگوں کو تحفظ دیا اورملک سے فرار کرنے میں مدد کی۔ موجودہ حکومت کی پوری رجیم امریکا کی تابع داری میں مصروف ہے۔حقانی اگر سچے تھے تو انکوائری میں شامل کیوں نہیں ہوئے، وہ آج تک کیوں امریکا میں چھپے بیٹھے ہیں؟ پوری وفاقی حکومت کا رویہ بھی اسی طرح کا ہے۔

ہم نے شروع دن سے ہی امریکا سے تعلقات برابری کی بنیاد پر قائم نہیں کئے، کبھی ہم نے روس کے خلاف جنگ میں امریکا کے لئے مجاہدین اکٹھے کئے اور کبھی انہی مجاہدین کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف دہشت گردی کی عالمی جنگ کا حصہ بن گئے۔ آج اس ملک میں جو کچھ ہورہا ہے یہ فصل تو ہماری اپنی ہی بوئی ہوئی ہے۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ ایک باوقارملک کی حیثیت سے ہم ایک آزاد خارجہ پالیسی کو مرتب کرتے لیکن ماضی میں ایسا ہوا نہ ہی موجودہ دور حکومت میں ایسا ہوا۔ آج بھی ہم اپنے ہاتھ میں کشکول لئے دنیا بھر میں گداگروں کی طرح مارے مارے پھر رہے ہیں، ایسی صورتحال میں ہم سر اٹھا کر کیسے جی سکتے ہیں؟

یہی وجہ ہے کہ امریکا ہمارے ساتھ جو سلوک کر رہا ہے ہم جرأت کے ساتھ آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ بھی نہیں روک سکتے۔ امریکا نے سلالہ چیک پوسٹ حملے پر معافی بھی نہیں مانگی اور پاکستان نے نیٹو سپلائی کھول دی لیکن اس کے باوجود آئے روز شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے ہورہے ہیں۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ادا کیا، اور اس جنگ میں جتنی قربانیاں ہم نے دیں اتنی کسی اور ملک نے پیش نہیں کیں، ہم نے 40ہزار سے زائد شہری شہید کرائے، ہمارے 5,6 ہزار سے زائد جوان جاں بحق ہوئے، ہماری معیشت کا بیڑہ غرق ہوا، انفراسٹرکچر تباہ ہوگیا ، ملک کو اربوں ڈالرز کا نقصان کیا اس سب کے باوجود امریکا ہم پر اعتماد نہیں کرتا۔ ''ڈو مور''آج بھی اس کا مطالبہ ہے، آج بھی وہ ہمیں شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ وہ ہم پر الزامات لگائے چلا جاتا ہے اور ہم نے آج تک دنیا کے سامنے ٹھیک طریقے سے اپنا مقدمہ بھی پیش نہیں کیا۔

امریکا آج افغانستان پر غاصبانہ قبضہ جمائے بیٹھا ہے، اس سے دنیا کیوں نہیں پوچھتی کہ وہ سالہا سال سے افغانستان کے اندر کس حیثیت سے آکر بیٹھا ہے؟ امریکا کے افغانستان میں موجودگی کی وجہ یہ دہشت گردی پروان چڑھی اور ہم نے اس کی قیمت چکائی اور چکا رہے ہیں۔ اگر ہم ڈالروں کے عوض سودا نہ کرتے اور امریکا سے برابری کی بنیاد پر بات کرتے توآج حالات مختلف ہوتے۔ ہم نے اپنا سر خود جھکا لیا ہے۔ نیٹو سپلائی کی بندش اور بحالی کے فیصلے حکومت نے نہیں کئے یہ تو کسی اور قوت کے کہنے پر ہوئے تھے۔

احسان وائیں

(جنرل سیکرٹری عوامی نیشنل پارٹی)
میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ حالیہ دہشت گردی نیٹو سپلائی لائن کی بحالی کا ردعمل ہے۔اس سے پہلے جب ابھی تک سپلائی بھی بند نہیں کی گئی تھی اس وقت دہشت گردی پورے ملک میں عروج پر تھی، کوئی تھانہ، دفاتر، بازار اور شاہراہیں محفوظ نہیں تھیں، دہشت گرد اپنا گھنائونا کھیل پوری قوت کے ساتھ جب اور جہاں چاہتے کھیل رہے تھے۔ ملک ان کی دہشت گردی کا میدان بنا ہوا تھا۔ دہشت گردی کی جو لہر نیٹو سپلائی بند کرنے سے پہلے تھی'وہ اب ایسی نہیں ہے۔ طالبان کی مختلف آرگنائزیشنز کام کر رہی ہیں جن کو مختلف ممالک اور قوتیں سپورٹ کر رہی ہیں، طالبان کے دھڑے آپس میں بھی لڑ رہے ہیں، ان میں سے بعض گروپس اغوا برائے تاوان جیسے گھنائونے کام بھی کر رہے ہیں۔ اصل ایشو یہ ہے کہ آیا سپلائی لائن کو بند کرنا چاہیے تھا یا نہیں ؟ بند کر دیا تو پھر اسے دوبارہ کھولنا چاہیے تھا یا نہیں؟مذہبی قوتیں اور بعض کالعدم تنظیمیں واویلا کر رہی ہیں کہ نیٹو سپلائی لائن کھول کر ملک کو تباہی کے دھانے پر پہنچا دیا گیا ہے۔

جو جماعتیں آج امریکا کی مخالفت کر رہی ہیں وہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک سب کی سب تنظیمیں اور جماعتیں امریکا کو سپورٹ کرتی رہی ہیں۔ ضیاء الحق کے دور میں تمام جماعتیں امریکا کو سپورٹ کر رہی تھیں، اے این پی ، نیپ یا این ڈی پی کہتی رہیں کہ ''امریکا کو سپورٹ مت کرو، یہ روس اور امریکا کے مفاد کی جنگ ہے، یہ لوگ اپنے مفادات کو سمیٹ کر واپس چلے جائیں گے ، ان کے مفاد کی خاطر افغانستان اور پاکستان کو تباہ مت کرو''۔اس وقت ہمیں یہ جماعتیں اور ان کے لیڈر گالیاں دیتے تھے اور ہمیں ان کا ایجنٹ قرار دیتے تھے۔ امریکا نے یہاں بے پناہ ڈالروں کی بارش کی،بے پناہ اسلحہ دیا، اس وقت جتنے بھی طالبان اور القاعدہ کے لیڈرز ہیں ان سبھی کو امریکا نے پیدا کیا اور تمام مذہبی قوتوں نے اسے سپورٹ کیا۔ امریکا اپنا مفاد حاصل کرنے کے بعد افغانستان سے چلا گیا اور مجاہدین کو لاوارث چھوڑ دیا۔ پھر یہ مجاہدین آپس میں اس قدر لڑے کہ ان کی باہمی لڑائی میں لاکھوں افراد مارے گئے۔

اس کے بعد پھر طالبان کی حکومت قائم ہوئی، طالبان نے اس قسم کی حکومت کی کہ طالبان بھی افغانستان میں جمع ہوگئے، القاعدہ کو بھی جمع کر لیا، دنیا بھر کے دہشت گرد افغانستان میں جمع ہوگئے۔ ہم نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا اور کوشش کی کہ افغانستان میں امن قائم ہوجائے لیکن طالبان حکومت نے افغانستان کو بھی برباد کیا اور پاکستان کو بھی۔جو دہشت گردی امریکا پیدا کر گیا تھا وہ جب امریکا تک پہنچی پھر اسے احساس ہوا کہ ''ہم نے غلطی کی تھی''۔ امریکا اب دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے دوبارہ اس خطے میں آیا۔ اس وقت بھی ہم برباد ہوئے، اب بھی ہم برباد ہورہے ہیں۔ جب امریکا روس کے خلاف اس خطے میں آیا تھا اس وقت پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت تھی اور جب القاعدہ اور طالبان کے خلاف دوبارہ آیا تب بھی ہمارے ملک میں ایک فوجی جرنیل پرویز مشرف کی حکومت تھی۔ مجھے بتائیں کہ اس ملک کے عوام کا کیا قصور ہے کبھی مذہبی جماعتیں امریکا کا ساتھ دیتی ہیں اور کبھی اسے گالیاں دیکر ہیرو بننے کی کوشش کرتی ہیں۔

اے این پی نے اس دہشت گردی کی جنگ میں سات سو سے زائد کارکن ، رہنما اور عوامی نمائندے شہید کروائے۔اگر خیبرپختونخوا میں اے این پی کی جگہ کوئی اور جماعت حکمران ہوتی تو کب کی بھاگ جاتی۔ اتنی قربانیوں کے باوجود ہمارے کارکن پھر بھی کھڑے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ میں تمام جماعتوں سے گزارش کروں گا کہ خدا کے لئے اپنے مخصوص مقاصد کے لئے ملک کو برباد مت کریں۔سپلائی لائن کی بندش کا فیصلہ جذباتی تھا، سات ماہ تک ہم نے صرف اپنا ہی نقصان کیا۔ جو مذہبی جماعتیں نیٹو سپلائی لائن کی بحالی کی مخالفت کر رہی ہیں وہ پاکستان کو کھنڈرات میں تبدیل کرنا چاہتی ہیں۔

مطلوب احمڈ وڑائچ
(ممبر فیڈرل کونسل پاکستان پیپلز پارٹی )
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ نیٹو سپلائی کی بحالی کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا۔پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت نے یہ مشکل فیصلہ بڑی آسانی سے کردیااور اس پر عمل بھی شروع ہوچکا ہے۔ نیٹو سپلائی کی بحالی کے بعد اس پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ دفاع پاکستان کونسل تو باقاعدہ ایک تحریک چلا رہی ہے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے مشکل حالات میں مشکل فیصلہ آسانی سے اس لیے ہو گیا کہ سیاسی اور فوجی قیادتیں نیٹو سپلائی کی بندش اور بحالی کے فیصلوں میں شروع سے آخر تک ایک پیج پر تھیں اور ہنوز ہیں۔ خارجہ پالیسی کی ترتیب و تشکیل سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر اس میں فوج کو اعتماد میں لیا جاتا ہے تو یہ خوش آئند ہے۔ موجودہ حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج پر اعتماد کرتے ہوئے کچھ فیصلے اس کی صوابدید پر چھوڑ دیئے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں امریکا بار بار آپریشن کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ یہ محاذ حکومت نے فوج کے سپرد کیا ہوا ہے۔

فوج نے اس حوالے سے امریکا کے دبائو کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے یہی جواب دیا کہ وہ اپنے حالات اور معاملات کی جانچ پرکھ کے بعد فیصلہ کرے گی کہ کہاں آپریشن کی ضرورت ہے۔ امریکا پاک فوج کو کسی بھی طریقے سے آپریشن پر قائل کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملوںمیں پاک فوج کے 24 سپوت شہید کر دیئے گئے۔ جس پر پارلیمنٹ کی دفاعی کمیٹی جس کا حصہ فوجی قیادت بھی ہے نے فوری طور پر نیٹو سپلائی بند کی۔ایک وارننگ کے بعد شمسی ایئربیس خالی کرا لیا جہاں سے ڈرون اڑ کر پاکستانیوں کو اپنا نشانہ بناتے تھے۔ امریکی انتظامیہ نے پاکستان کی وارننگ کو ٹالنے کی بڑی کوشش کی ، اپنی اور نیٹو ممالک کی سفارت کاری کو بڑی شدو مد کے ساتھ بروئے کار لایا گیا لیکن پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے قومی موقف کے سامنے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو با لآخر سرنڈر کرتے ہوئے شمسی ایئر بیس خالی کرنا پڑا۔اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ قومی قیادت قومی مفاد میں جو فیصلہ کر لے اور ان پر عمل درآمد کا عزم بھی ہو تو سپر پاور بھی اس کے راستے میں دیوار نہیں بن سکتی۔

حکومت کا سب سے بڑا مطالبہ سلالہ حملے پر معافی کا تھا۔ جو امریکا نے کسی حد تک اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے پورا کر دیا۔ امریکا کنٹینرز کی فیس پر آمادہ ہو چکا تھا یہ شرط خود پاکستان نے واپس لے لی۔ ڈرون حملوں کی بندش پر بھی زور نہ دیا گیا۔ پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پر مکمل طور پر عملدرآمد کرنے کے مطالبے میں پاکستان نے اس لیے لچک دکھائی کہ امریکا اسے خیرسگالی کا پیغام سمجھتے ہوئے پاکستان کو درپیش مسائل کا ادراک کرے گا۔امریکا نے پاکستان کے اس قدام کا خیر مقدم کیا۔ پاکستان میں امریکا کے سفیر کیمرون منٹر نے پاکستان کو یوں خراج تحسین پیش کیا کہ اس اقدام سے پاکستان کا دنیا بھر میں سافٹ امیج سامنے آیا ہے۔ منٹر کا بیان امریکا کی مجموعی سوچ کا آئینہ دار ہے۔لیکن منٹر نے ساتھ یہ بھی کہاکہ ان کو پاک ایران گیس پائپ لائن پر خدشات ہیں۔ امریکا کو خدشات اس لیے ہیں کہ ایران امریکا اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں کے باوجود اپنا نیوکلیئر پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی نیوکلیئر پروگرام ایران کے مقابلے میں کئی گنا آگے ہے۔ اس پر امریکا خاموش ہے ۔سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ ایران کے پاس زیادہ سے زیادہ ایک ایٹم بم ہو سکتا ہے اسرائیل کے پاس کئی ہیں۔کل ایران کے ساتھ امریکا کے تعلقات بہتر ہوئے تو امریکا ایران دوستی پھر سے ہو سکتی ہے۔ پاکستان اور ایران نہ صرف پڑوسی ہیں بلکہ برادر اسلامی ممالک بھی ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ پڑوسی اور ہم مذہب تو رہنا ہی ہے۔ بوجوہ امریکا اپنے براعظم تک محدود ہو سکتا ہے۔ امریکا نے توانائی بحران کے خاتمے کی بات ضرور کی ہے۔ کیا وہ اسی طرح توانائی بحران کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مدد کر سکتا ہے۔ جس طرح ایران کرنے کو تیار ہے؟آ ج پاکستان شدید ترین انر جی بحران سے دوچار ہے رواں سال مارچ میںپائپ لائن بچھانے کے لئے ایران نے پاکستان کو 24 ارب روپے کی پیشکش کی تھی۔پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے تحت پاکستان ایران سے یومیہ 2 کروڑ مکعب میٹر گیس درآمد کرے گا جبکہ اس منصوبے کی تکمیل پر ساڑھے سات ارب ڈالر لاگت آئے گی۔ اس منصوبے میں گیس کی ترسیل کیلئے 2 ہزار775 کلو میٹر طویل پائپ لائن بچھائی جائے گی اور اگر یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے تو اس پائپ لائن کے ذریعے 2016ء میں گیس کی رسد شروع ہو جائے گی۔

معاہدے کے تحت گیس پائپ لائن منصوبہ اگر 31 دسمبر 2014ء تک آپریشنل نہ ہوا تو تاخیر کے ذمہ دار ملک کو 20 کروڑ ڈالر جرمانہ بھی ادا کرنا ہو گا، اور ظاہر ہے کہ یہ تاخیر پاکستان کی جانب سے امریکی دبائو پر کی جا رہی ہے۔ دلچسپ امر تو یہ ہے کہ ایرانی علاقے میں مجوزہ منصوبے کی گیس پائپ لائن بچھانے کا کام مکمل ہوچکا ہے۔

پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے۔ امریکا اس کا احساس کرے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں مداخلت نہ کرے۔ اسے اپنے مفادات تک محدود رہنا چاہیے۔ پاکستان کو اپنے مفادات کے فیصلے خود کرنے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔ پاکستان کو بہت سے مسائل علاقائی ممالک کے ساتھ طے کرنا ہوں گے۔ ایران،چین اور افغانستان اس حوالے سے اہم ترین ہیں۔ پاکستان کو امریکا اپنا فرنٹ لائن اتحادی قرار دیتا ہے۔ پاکستان نے یہ ثابت بھی کیا ہے لیکن اب جبکہ افغان جنگ اپنے خاتمے کی طرف بڑھ رہی تو امریکا افغانستان میں بھارت کا عمل دخل بڑھانے کے اقدامات کر رہا ہے حالانکہ عملی، فطری، جغرافیائی اور مذہبی حوالے سے بھی پاکستان کا کردار اہم ہے۔ پاکستان نے نیٹوسپلائی بحال کرکے امریکا کی طرف ایک بار پھر دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ امریکا اس کو بڑے احترام کے ساتھ دوستوں کی طرح تھامے اور پاکستان کو درپیش مسائل حل کرنے میں اس کاساتھ دے۔ وہ اسی صورت ممکن ہے جب پاکستان کی خودمختاری کا بھی احترام کیا جائے اور اس کے اندرونی معاملات اور خارجہ پالیسی کی تشکیل میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کی جائے۔
وائس ایڈمرل (ر)جاوید اقبال
(سینئر رہنما پاکستان تحریک انصاف)
اس وقت جو پارٹیاں حکومت میں شامل ہیں، ان کے روئیے کو دیکھنے کی ضرورت ہے، جب بھی کبھی موقع آیا ہے ان پارٹیوں نے قومی مفاد کو پس پشت ڈال کر معاملات کو آگے بڑھایا ہے۔پچھلے ساڑھے چار برسوں سے یہی کچھ ہو رہا ہے، ان جماعتوں کی کوشش ہے کہ پاکستان کو بوسنیا بنا دیا جائے۔ نیٹو سپلائی کی بحالی کا معاملہ ہو یا کوئی اور مسئلہ، پارلیمنٹ کے فیصلوں کو جوتی کی نوک پر رکھا جاتا ہے۔ پہلے نیٹو سپلائی کو بندکیا گیاپھر سات آٹھ مہینے کی نورا کشتی کے بعد ڈرامائی انداز میں اسے کھول دیا گیا۔ڈرون حملے اسی طرح ہو رہے ہیں اور ہم نے نیٹو سپلائی کھول دی ہے، کیا یہ قومی غیرت کا سودا نہیں؟ وہ دن اس ملک کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا جب اس ملک پر ایک این آر او زدہ پارلیمنٹ کو مسلط کر دیا گیا تھا، یہ جمہوریت واشنگٹن کی ڈکٹیشن پر لائی گئی تھی، پوری قوم نے دیکھا جو جماعتیں امریکا کو بڑا بھلا کہتے رہے بعد میں وہی جماعتیں اور ان جماعتوں کے قائدین امریکا کو سلام کرتے رہے۔

یہاں جس نل سے لوگوں کو پانی پلایا جاتا رہا ہے اس کی ٹینکی واشنگٹن میں لگی ہوئی ہے۔ ہمارا پہلے دن سے یہی موقف ہے کہ ہمیں امریکا سے جنگ نہیں لڑنی کیونکہ ہماری اتنی استعداد نہیں،دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکا کی جنگ تھی، اس کو جتنا مرضی بڑھاوا دیا جائے اس سے امن کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا بلکہ دہشت گردی بڑھے گی۔ ہم جانتے ہیں کہ ساتھ والے گھر میں جب آگ لگی ہوتو اپنے گھر بھی تپش آئے گی، جب تک امریکا یہاں سے نہیں نکلتا اس وقت تک خطے میں امن قائم نہیں ہوگا، ہم کہتے ہیں کہ اگر نیٹو سپلائی کی بحالی کا فیصلہ امریکا اور نیٹو فورسز کے نکلنے کے لئے کیا گیا ہے تو یہ بہت اچھا فیصلہ ہوتا۔ ہم تو پہلے ہی کہتے تھے کہ امریکا اس خطے میں جانے کے لئے نہیں آیا۔

اب وہ 2024ء میں انخلاء کی باتیں کر رہا ہے۔ ہم اب بھی کہہ رہے ہیں کہ دہشت گردی کی جنگ ہماری نہیں امریکا کی جنگ ہے جس نے ہمیں 70ارب ڈالر کا مالی نقصان پہنچایا، 40ہزار شہریوں کی جانیں لیں، 7ہزار فوجی شہید ہوئے۔ ہمارا موقف بڑا واضح ہے اور اگر ہمارا موقف واضح نہ ہوتا تو آج تحریک انصاف بھی باقی دوسری جماعتوں کی طرح امریکا کی گود میں بیٹھی ہوتی۔ ملک میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی کی لہر نیٹو سپلائی کی بحالی کا ردعمل ہے۔ آج ''طالبان '' مختلف دھڑوں میں بٹے ہوئے ہیں، کسی کو امریکا کی سپورٹ حاصل ہے تو کسی کو مڈل ایسٹ کی، کسی کو بھارت کی سپورٹ حاصل ہے تو کسی کو مقامی قوتوں کی۔ اصل مقصد پاکستان کو عدم استحکام کا شکار بنانا ہے، ملک میں افراتفری پھیلانا ہے۔ یہ تمام عناصرامریکا کے ساتھ شامل ہوکر اس کے گیم پلان کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ملک عالمی سازشوں کا شکار بنا ہوا ہے اور پارلیمنٹ میں بیٹھی جماعتیں کہتی ہیں کہ ہم جمہوریت کوبچا رہے ہیں۔ یہ جمہوریت کو نہیں بچا رہیں بلکہ صرف اپنی کرسیوں کو بچا رہے ہیں، کرپشن اور لوٹ میں مصروف ہیں ۔ پاکستان پر ایک سافٹ جنگ مسلط ہے۔
Load Next Story