مضرصحت پانی کی فراہمی پرچیف سیکریٹری اورایم ڈی واٹربورڈ سے جواب طلب
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے سرکار کی جانب سے جواب داخل کرنے کیلیے مزید مہلت مانگ لی
کلورین کے بغیر پینے کا پانی فراہم کیا جارہا ہے،امراض پھوٹنے کا خدشہ ہے،درخواست میں موقف فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس ندیم کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے شہر میں مضرصحت اور غیر معیاری پانی کی فراہمی کے خلاف دائر درخواست پر چیف سیکریٹری،ڈائریکٹر جنرل پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی ( پی ایس کیو سی اے) اور منیجنگ ڈائریکٹر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈکو تین ہفتے میں جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
جمعرات کو سماعت کے موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے سرکار کی جانب سے جواب داخل کرنے کیلیے مزید مہلت طلب کی، یونائیٹڈ ہیومن رائٹس کمیشن کے رانا فیض الحسن نے موقف اختیار کیاکہ یہ کراچی کے 2کروڑ شہریوں کی صحت کا معاملہ ہے، مدعا علیہان اس پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دے رہے ، انھوں نے کہاکہ واٹر بورڈ کے موجودہ ایم ڈی نے بھی شہر کو مٖضر صحت پانی کی فراہمی کے خدشات کا اظہار کیا ہے تاہم بینچ نے مدعا علیہان کو تین ہفتوں کی مہلت دیدی۔
آئینی درخواست میں کہا گیا ہے کہ کراچی واٹر اینڈ اینڈ سیوریج بورڈ کے (سابق)ایم ڈی مصباح الدین فرید کی معلومات کے مطابق کوٹری اور جامشورو کی صنعتوں سے نکلنے والا مضر صحت فضلہ کوٹری بیراج کے مقام پر چھوڑا جارہا ہے جہاں سے کراچی کے شہریوں کیلیے پینے کا پانی فراہم کیا جاتاہے،یہ آلودہ پانی انتہائی مضرصحت مواد لیے کینجھر جھیل میں بھی شامل ہورہا ہے،صنعتی فضلہ پانی کو آلودہ کردیتا ہے جو کہ انسانی صحت کیلیے مضر ہے،کے ایم سی کے پاس پانی کا معیار جانچنے کیلیے آلات موجود نہیں،کراچی کے شہریوں کو کلورین کے بغیر پینے کا پانی فراہم کیا جارہا ہے جس سے وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ ہے۔
جمعرات کو سماعت کے موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے سرکار کی جانب سے جواب داخل کرنے کیلیے مزید مہلت طلب کی، یونائیٹڈ ہیومن رائٹس کمیشن کے رانا فیض الحسن نے موقف اختیار کیاکہ یہ کراچی کے 2کروڑ شہریوں کی صحت کا معاملہ ہے، مدعا علیہان اس پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دے رہے ، انھوں نے کہاکہ واٹر بورڈ کے موجودہ ایم ڈی نے بھی شہر کو مٖضر صحت پانی کی فراہمی کے خدشات کا اظہار کیا ہے تاہم بینچ نے مدعا علیہان کو تین ہفتوں کی مہلت دیدی۔
آئینی درخواست میں کہا گیا ہے کہ کراچی واٹر اینڈ اینڈ سیوریج بورڈ کے (سابق)ایم ڈی مصباح الدین فرید کی معلومات کے مطابق کوٹری اور جامشورو کی صنعتوں سے نکلنے والا مضر صحت فضلہ کوٹری بیراج کے مقام پر چھوڑا جارہا ہے جہاں سے کراچی کے شہریوں کیلیے پینے کا پانی فراہم کیا جاتاہے،یہ آلودہ پانی انتہائی مضرصحت مواد لیے کینجھر جھیل میں بھی شامل ہورہا ہے،صنعتی فضلہ پانی کو آلودہ کردیتا ہے جو کہ انسانی صحت کیلیے مضر ہے،کے ایم سی کے پاس پانی کا معیار جانچنے کیلیے آلات موجود نہیں،کراچی کے شہریوں کو کلورین کے بغیر پینے کا پانی فراہم کیا جارہا ہے جس سے وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ ہے۔