ارشد پپو قتل کیس مفرور ملزمان کی جائیداد سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع
عدالت نے جسٹس مقبول باقر حملہ کیس کا حتمی چالان عبوری چالان میں منتقل کردیا
رینجر اہلکار کے مقدمے کی سماعت وکیل صفائی کی استدعا پر14ستمبر تک ملتوی فوٹو: فائل
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج سلیم رضا بلوچ نے جسٹس مقبول باقر حملہ کیس کے حتمی چالان کو اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کی استدعا پر عبوری چالان کے طور پر منظور کرلیا ہے اور حتمی چالان 24 ستمبر تک عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔
جمعرات کو اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر الیاس خان نے تحریری طور پر عدالت کو بتایا کہ اعلیٰ حکام کے حکم پر مقدمے کی ارسر نو تحقیقات کی جارہی ہے اور جوائنٹ تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے اور عدالت میں جمع حتمی چالان کوعبوری چالان تصورکیا جائے اور ازسر نو تحقیقات کے بعدحتمی چالان جمع کرانے کی استدعا کی تھی، اس موقع پر مقدمے کے تفتیشی افسر نے عبوری چالان میں تحریری طور پر تاریخ کے حوالے سے ردوبدل کرنے کی استدعا کی تھی جسے فاضل عدالت نے منظور کرلیا۔
دریں اثنا انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں ارشد پپو سمیت تہرے قتل میں مفرور و اشتہاری ملزمان عذیز بلوچ ، حبیب جان ، نور محمد بابا لاڈلہ ، زاہد ، آصف کانا ، فیصل پٹھان ، یاسر پٹھان ، انسپکٹر جان خان نیازی اور انسپکٹر جاوید بلوچ کی جائیداد سے متعلق ضابطہ فوجداری کی ایکٹ 88کی رپورٹ ریونیو آفس کی جانب سے عدالت میں جمع کرادی گئی ہے، آئندہ سماعت پر مقدمے کے تفتیشی افسر کا بیان قلمبند کیا جائیگا ، فاضل عدالت نے سماعت18ستمبر تک ملتوی کردی،علاوہ ازیں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج بشیر احمد کھوسو نے شہری کے قتل میں گرفتار رینجر اہلکار شہزاد کے مقدمے کی سماعت وکیل صفائی کی استدعا پر14ستمبر تک ملتوی کردی ہے۔
جمعرات کو اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر الیاس خان نے تحریری طور پر عدالت کو بتایا کہ اعلیٰ حکام کے حکم پر مقدمے کی ارسر نو تحقیقات کی جارہی ہے اور جوائنٹ تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے اور عدالت میں جمع حتمی چالان کوعبوری چالان تصورکیا جائے اور ازسر نو تحقیقات کے بعدحتمی چالان جمع کرانے کی استدعا کی تھی، اس موقع پر مقدمے کے تفتیشی افسر نے عبوری چالان میں تحریری طور پر تاریخ کے حوالے سے ردوبدل کرنے کی استدعا کی تھی جسے فاضل عدالت نے منظور کرلیا۔
دریں اثنا انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں ارشد پپو سمیت تہرے قتل میں مفرور و اشتہاری ملزمان عذیز بلوچ ، حبیب جان ، نور محمد بابا لاڈلہ ، زاہد ، آصف کانا ، فیصل پٹھان ، یاسر پٹھان ، انسپکٹر جان خان نیازی اور انسپکٹر جاوید بلوچ کی جائیداد سے متعلق ضابطہ فوجداری کی ایکٹ 88کی رپورٹ ریونیو آفس کی جانب سے عدالت میں جمع کرادی گئی ہے، آئندہ سماعت پر مقدمے کے تفتیشی افسر کا بیان قلمبند کیا جائیگا ، فاضل عدالت نے سماعت18ستمبر تک ملتوی کردی،علاوہ ازیں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج بشیر احمد کھوسو نے شہری کے قتل میں گرفتار رینجر اہلکار شہزاد کے مقدمے کی سماعت وکیل صفائی کی استدعا پر14ستمبر تک ملتوی کردی ہے۔