سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کے ای ایس سی حقائق سے لاعلم ہے
غلط اور بے بنیاد الزامات لگائے ہیں جو کم فہمی کی عکاسی کرتے ہیں، کے ای ایس سی
کراچی میں بجلی کی فراہمی کی صورتحال ملک کے باقی شہروں کے مقابلے میں بہتر ہے فوٹو: فائل
کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پانی و بجلی کے حالیہ اجلاس میں سینیٹر زاہد خان کی جانب سے دیے گئے بیانات کو بے بنیاد اور حقائق کے بالکل برعکس قرار دیتے ہوئے ان کی دو ٹوک تردید کی ہے کہ کے ای ایس سی نے حکومتی وفد کی ایسے معاملات کے حوالے سے غفلت پر افسوس کا اظہار کیا۔
جن کی وضاحت متعدد بار ہر حکومتی فورَم کے علاوہ عوامی سطح پر بھی کی جا چکی ہے،کے ای ایس سی نے اپنے اس دعوے کو دہرایا کہ کراچی میں بجلی کی فراہمی کی صورتحال ملک کے باقی شہروں کے مقابلے میں بہت بہتر ہے جس کا سہرا بہتر انتظامیہ اور استعداد میں اضافے کے متعدد اقدام بشمول361 ملین امریکی ڈالر کی تازہ ایکویٹی اور ایک ہزار 10 میگا واٹ تازہ پیداواری استعداد کے اضافے میں ایک ارب امریکی ڈالرسے زائد کی بروقت سرمایہ کاری کے سر جاتا ہے، کے ای ایس سی نے دوبارہ وضاحت کی ہے کہ ملکیت کی منتقلی کے بعد موجودہ انتظامیہ کو ادارے کی سرگرمیاں چلانے کے لیے حکومت کی جانب سے ایک روپیہ بھی نہیں ملا، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے غلط اور بے بنیاد الزامات لگائے ہیں جو کم فہمی کی عکاسی کرتے ہیں۔
کے ای ایس سی نے وضاحت کی کہ اس کی نجکاری2005میں تمام قابلِ اطلاق ملکی قوانین کے مطابق اورECC،کیبنٹ اورCCIکی جانب سے متعلقہ منظوریوں کے حصول کے بعد عمل میں آئی،2009میں نئی انتظامیہ کی شمولیت بھی قانوناً ٹھیک تھی،کے ای ایس سی نے ایک بار پھر وضاحت کی ہے کہ قیمتوں میں فرق کی سبسڈی ایک قابلِ انتقال شے ہے اور اس کے فوائد صارف کو منتقل ہو جاتے ہیں، وفاقی وزیر عابد شیر علی کے حالیہ دَورے پر کے ای ایس سی انتظامیہ کی جانب سے ان تمام معاملات کی وضاحت کر دی گئی تھی اور سینیٹ کی کمیٹی کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرنے والی انتظامیہ پر بے بنیاد الزامات عائد کرنے سے پہلے کم از کم حکومتی وزرا سے مشورہ کر لینا چاہیے۔
یہ ادارے کی انتظامیہ کی دانشمندانہ روایات اور اس کی کارکردگی کی سطح ہی کی بدولت ممکن ہوا کہ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن(IFC)اور ایشیَن ڈویلپمنٹ بینک(ADB)نے اپنے واجب الادا قرض کا کچھ حصّہ ایکویٹی میں تبدیل کرایا،این ٹی ڈی سی سے 650 میگاواٹ فراہمی کے معاملے پر کے ای ایس سی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ یہ فراہمی بجلی کی خرید کے ایک قانونی معاہدے کے مطابق کی جاتی ہے۔
جن کی وضاحت متعدد بار ہر حکومتی فورَم کے علاوہ عوامی سطح پر بھی کی جا چکی ہے،کے ای ایس سی نے اپنے اس دعوے کو دہرایا کہ کراچی میں بجلی کی فراہمی کی صورتحال ملک کے باقی شہروں کے مقابلے میں بہت بہتر ہے جس کا سہرا بہتر انتظامیہ اور استعداد میں اضافے کے متعدد اقدام بشمول361 ملین امریکی ڈالر کی تازہ ایکویٹی اور ایک ہزار 10 میگا واٹ تازہ پیداواری استعداد کے اضافے میں ایک ارب امریکی ڈالرسے زائد کی بروقت سرمایہ کاری کے سر جاتا ہے، کے ای ایس سی نے دوبارہ وضاحت کی ہے کہ ملکیت کی منتقلی کے بعد موجودہ انتظامیہ کو ادارے کی سرگرمیاں چلانے کے لیے حکومت کی جانب سے ایک روپیہ بھی نہیں ملا، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے غلط اور بے بنیاد الزامات لگائے ہیں جو کم فہمی کی عکاسی کرتے ہیں۔
کے ای ایس سی نے وضاحت کی کہ اس کی نجکاری2005میں تمام قابلِ اطلاق ملکی قوانین کے مطابق اورECC،کیبنٹ اورCCIکی جانب سے متعلقہ منظوریوں کے حصول کے بعد عمل میں آئی،2009میں نئی انتظامیہ کی شمولیت بھی قانوناً ٹھیک تھی،کے ای ایس سی نے ایک بار پھر وضاحت کی ہے کہ قیمتوں میں فرق کی سبسڈی ایک قابلِ انتقال شے ہے اور اس کے فوائد صارف کو منتقل ہو جاتے ہیں، وفاقی وزیر عابد شیر علی کے حالیہ دَورے پر کے ای ایس سی انتظامیہ کی جانب سے ان تمام معاملات کی وضاحت کر دی گئی تھی اور سینیٹ کی کمیٹی کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرنے والی انتظامیہ پر بے بنیاد الزامات عائد کرنے سے پہلے کم از کم حکومتی وزرا سے مشورہ کر لینا چاہیے۔
یہ ادارے کی انتظامیہ کی دانشمندانہ روایات اور اس کی کارکردگی کی سطح ہی کی بدولت ممکن ہوا کہ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن(IFC)اور ایشیَن ڈویلپمنٹ بینک(ADB)نے اپنے واجب الادا قرض کا کچھ حصّہ ایکویٹی میں تبدیل کرایا،این ٹی ڈی سی سے 650 میگاواٹ فراہمی کے معاملے پر کے ای ایس سی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ یہ فراہمی بجلی کی خرید کے ایک قانونی معاہدے کے مطابق کی جاتی ہے۔